حدیث نمبر: 11811
عَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے گھر کے افراد عبداللہ، ابو عبداللہ اور ام عبداللہ سب ہی اچھے لوگ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص قریشی سہمی رضی اللہ عنہ ایک زاہد اور عبات گزار صحابی تھے، ان کے باپ بھی صحابی ہیں، ان کی اور ان کے باپ کی عمر میں صرف گیارہیا بارہ برسوںکا فاصلہ تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے باپ نے بہت جلد شادی کر لی تھی، ان کی ماں سیدہ ریطہ رضی اللہ عنہا بھی مسلمان ہوگئی تھیں۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے، وہ ایک وسیع العلم، بڑے عبادت گزار، کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ حدیث اور علم حاصل کرنے والے تھے۔
یہ اپنے باپ کے ساتھ شام کی فتح میں موجود تھے، بلکہ جنگ یرموک میں ان کے باپ کا جھنڈا ان کے پاس تھا، یہ مصر میں (۷۲) برس کی عمر میں (۶۵) سن ہجری میں فوت ہوئے اور ان کو وہاں ہی دفن کیا گیا تھا۔
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے پہلے مشرف باسلام ہوئے، وہ ایک وسیع العلم، بڑے عبادت گزار، کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ حدیث اور علم حاصل کرنے والے تھے۔
یہ اپنے باپ کے ساتھ شام کی فتح میں موجود تھے، بلکہ جنگ یرموک میں ان کے باپ کا جھنڈا ان کے پاس تھا، یہ مصر میں (۷۲) برس کی عمر میں (۶۵) سن ہجری میں فوت ہوئے اور ان کو وہاں ہی دفن کیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 11812
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لَا أَنْحَاشُ لَهَا عَمَّا بِي مِنَ الْقُوَّةِ عَلَى الْعِبَادَةِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى كَنَّتِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا كَيْفَ وَجَدْتِ بَعْلَكِ قَالَتْ خَيْرُ الرِّجَالِ أَوْ كَخَيْرِ الْبُعُولَةِ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا وَلَمْ يَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَعَذَمَنِي وَعَضَّنِي بِلِسَانِهِ فَقَالَ أَنْكَحْتُكَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَهَا وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَانِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي ”أَتَصُومُ النَّهَارَ“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”وَتَقُومُ اللَّيْلَ“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَمَسُّ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي“ قَالَ ”اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ“ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ ”فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ“ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَحَدُهُمَا أَمَّا حُصَيْنٌ وَأَمَّا مُغِيرَةُ قَالَ ”فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ“ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ ”فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ“ قَالَ ثُمَّ قَالَ ”صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُنِي حَتَّى قَالَ ”صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَإِنَّهُ أَفْضَلُ الصَّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ“ قَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَإِنَّ لِكُلِّ عَابِدٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً فَإِمَّا إِلَى سُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى بِدْعَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ“ قَالَ مُجَاهِدٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَيْثُ قَدْ ضَعُفَ وَكَبِرَ يَصُومُ الْأَيَّامَ كَذَلِكَ يَصِلُ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ لِيَتَقَوَّى بِذَلِكَ ثُمَّ يُفْطِرُ بَعْدَ تِلْكَ الْأَيَّامِ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّ حِزْبٍ كَذَلِكَ يَزِيدُ أَحْيَانًا وَيَنْقُصُ أَحْيَانًا غَيْرَ أَنَّهُ يُوفِي الْعَدَدَ إِمَّا فِي سَبْعٍ وَإِمَّا فِي ثَلَاثٍ قَالَ ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ لَكِنِّي فَارَقْتُهُ عَلَى أَمْرٍ أَكْرَهُ أَنْ أُخَالِفَهُ إِلَى غَيْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا )۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے بہت ملامت کی اور برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میں نے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے قرآنی حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔
وضاحت:
فوائد: … تلاوت کی وہ مقدارجس کو ہر رات کو پڑھنے کا معمول بنایا جائے، اس کو حزب کہتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین سے کم دنوں میں قرآن مجید کا ختم نہیں کیا جا سکتا ہے اور افضل روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا، باقی مسائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے ساتھ نرمی کی ہے، ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی ہے، ان کو کم مقدار لیکن ہمیشگی والے عمل کی ترغیب دلائی ہے اور ان کو تکلف اور اکتاہٹ کا سبب بننے والی کثرت ِ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین سے کم دنوں میں قرآن مجید کا ختم نہیں کیا جا سکتا ہے اور افضل روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا، باقی مسائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے ساتھ نرمی کی ہے، ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی ہے، ان کو کم مقدار لیکن ہمیشگی والے عمل کی ترغیب دلائی ہے اور ان کو تکلف اور اکتاہٹ کا سبب بننے والی کثرت ِ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
حدیث نمبر: 11813
عَنْ أَبِي سَلْمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعَمْ قَالَ ”فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ ”فَصُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ قَالَ فَشَدَّدْتُ فَشَدَّدَ عَلَيَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ ”صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ“ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كَانَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ ”كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم ساری رات قیام کرتے ہو اور ہر روز روزہ رکھتے ہو۔ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ رکھا کروا ور ناغہ بھی کیا کرو اوررات کو قیام بھی کیا کر اور سویا بھی کر، کیونکہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے، تیری اہلیہ کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے، مہینہ میں تین روزے رکھ لیا کر،اتنے ہی تیرے لیے کافی ہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ میں نے سختی کی،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ہر ہفتہ میں تین دن روزے رکھ لیا کر۔ لیکن میں نے سختی کی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ پر سختی کی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اندر اس سے زیادہ روزے رکھنے کی قوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کی طرح روزے رکھ لیا کر اور ان پر اضافہ نہ کر۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! داؤد علیہ السلام کیسے روزے رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11814
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُهُ فِي لَيْلَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ وَأَنْ تَمَلَّ اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ شَهْرٍ“ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي عِشْرِينَ“ قُلْتُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي عَشَرٍ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي قَالَ ”اقْرَأْ بِهِ فِي كُلِّ سَبْعٍ“ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي أَسْتَمْتِعُ مِنْ قُوَّتِي وَمِنْ شَبَابِي فَأَبَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحییٰ بن حکیم بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا کہ میں نے پورا قرآن مجید حفظ کیا اور پھر ایک ہی رات میں اسے پڑھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے خطرہ ہے کہ زمانہ تجھ پر لمبا ہو جائے گا اور تو اکتاہٹ کا شکار ہو جائے گا، اس لیے ایک ماہ میں قرآن مجید مکمل کر۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیس دن میں قرآن مکمل پڑھ لو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس دن میں پڑھ لو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں۔ آپ نے فرمایا: سات دن میں قرآن مکمل کرلو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھاؤں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کم مدت میں قرآنِ مجید ختم کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
حدیث نمبر: 11815
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ حِفْظَهُ فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ فَقَالُوا إِنَّكَ تَكْتُبُ كُلَّ شَيْءٍ تَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا خَرَجَ مِنِّي إِلَّا حَقٌّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اللہ کے رسول سے جو کچھ سنتا،اسے حفظ کرنے کی غرض سے لکھ لیتا تھا،لیکن قریش نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا: تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو کچھ سنتے ہو لکھ لیتے ہو، حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشر ہیں، آپ کبھی غصے کی حالت میں بات کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی معمول کی حالت میں۔ چنانچہ میں نے آپ کی باتیں لکھنا چھوڑ دیں، لیکن جب میں نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لکھ لیا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میرے منہ سے حق کے سوا کوئی بات ادا نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 11816
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی صحابی احادیث رسول کے بارے میں مجھ سے زیادہ علم نہیں رکھتا تھا، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ احادیث لکھ کر زبانی یاد کرتے تھے اور میں محض زبانی طور پر یاد کرتا تھا، لکھتا نہیں تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے احادیث لکھنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی تھی۔
حدیث نمبر: 11817
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی آدمی احادیث کا علم مجھ سے زیادہ نہیں رکھتا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ احادیث کو لکھ لیتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بہ نسبت سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو زیادہ احادیثیاد تھیں، جبکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث کی تعداد (۵۳۷۴) ہے اور یہ تعداد سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث سے کئی گناہ زیادہ ہے، اس کی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں: ۱۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ تعلیم کی بہ نسبت عبادت میں زیادہ مشغول رہتے تھے۔
۲۔ فتوحات کے بعد زیادہ تر مصر یا طائف ان کا مسکن رہا، جبکہ اس وقت طلبہ کا رجحان ان علاقوں کی طرف نہیں تھا۔
۳۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی خصوصیت بھی حاصل تھی۔
۴۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو شام میں اہل کتاب کی کئی کتب مل گئی تھیں، وہ ان کا مطالعہ بھی کرتے تھے اور ان سے بیان بھی کرتے تھے، اس لیے تابعین نے ان سے روایات لینے سے اجتناب کیا۔
جبکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو تعلیم اور فتوے میں مشغول رہتے تھے، اسی وجہ سے آٹھ سو سے زائد تابعین نے ان سے علم حاصل کیا۔
۲۔ فتوحات کے بعد زیادہ تر مصر یا طائف ان کا مسکن رہا، جبکہ اس وقت طلبہ کا رجحان ان علاقوں کی طرف نہیں تھا۔
۳۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی خصوصیت بھی حاصل تھی۔
۴۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو شام میں اہل کتاب کی کئی کتب مل گئی تھیں، وہ ان کا مطالعہ بھی کرتے تھے اور ان سے بیان بھی کرتے تھے، اس لیے تابعین نے ان سے روایات لینے سے اجتناب کیا۔
جبکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تو تعلیم اور فتوے میں مشغول رہتے تھے، اسی وجہ سے آٹھ سو سے زائد تابعین نے ان سے علم حاصل کیا۔
حدیث نمبر: 11818
عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْزِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ قَالَ مُعَاوِيَةُ فَمَا بَالُكَ مَعَنَا قَالَ إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ“ فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حنظلہ بن خویلد عنبری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا کہ دو آدمیوں نے ان کے ہاں آکر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑنا شروع کر دیا، ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے ان کو قتل کیا ہے،ان کی باتیں سن کر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے ہر ایک اپنے اس کارنامے پر اپنا دل خوش کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ باغی گروہ اسے قتل کرے گا۔ ان سے یہ حدیث سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر یہ بات ہے توپھر آپ ہمارا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شکایت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایاتھا: تمہارا والد جب تک زندہ ہے، تم اس کی اطاعت کرتے رہو۔ اس حدیث کی وجہ سے میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں، لیکن پھر بھی لڑائی میں حصہ نہیں لیتا۔
حدیث نمبر: 11819
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنْ شَيْخٍ مِنَ النَّخَعِ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ إِيلِيَاءَ فَصَلَّيْتُ إِلَى سَارِيَةٍ رَكْعَتَيْنِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنِّي فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَهُ رَسُولُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَجِبْ قَالَ هَذَا يَنْهَانِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ كَمَا كَانَ أَبُوهُ يَنْهَانِي وَإِنِّي سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ“ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن ابی ہذیل سے روایت ہے، وہ قبیلہ نخع کے ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں ایلیا کی مسجد (یعنی بیت المقدس) میں داخل ہوا اور میں نے ایک ستون کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی، ایک اور آدمی نے بھی آکر میرے قریب نماز ادا کی، لوگ اس کی طرف امڈ کر گئے۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ یزید بن معاویہ کا قاصد ان کو بلانے آیا تو وہ کہنے لگے: وہ مجھے احادیث بیان کرنے سے منع کرتا ہے، جیسا کہ اس کا والد بھی مجھے رو کا کرتا تھا۔ میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعائیں کرتے سن چکا ہوں: أَعُوذُ بِکَ مِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَّا یَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْمَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں، ایسے نفس سے جو سیر نہیں ہوتا، ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہ جاتی ہو اور ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو۔)