کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11804
عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَا أُشِيرُ بِهَا إِلَى مَكَانٍ مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ بِي إِلَيْهِ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّ أَخَاكَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَوْ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک خواب دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کا ایک قیمتی ٹکڑا ہے اور میں جنت میں جس طرف بھی اس سے اشار ہ کرتا ہوں وہ مجھے اپنے ساتھ اڑا کر ادھر ہی لے جاتا ہے۔ میری بہن ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کا یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تمہارا بھائی عبد اللہ نیک اور صالح آدمی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ماں سیدہ زینب بنت مظعون رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی، غزوۂ بدر اور غزوۂ احد کے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے، غزوۂ احد میں ان کو چھوٹا سمجھ کر شرکت کی اجازت نہیں ملی تھی، جب یہ غزوۂ خندق میں شریک ہوئے اس وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی،یہ ایک مجتہد عالم دین تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے انتہائی پابند، امت کے خیرخواہ اور بدعت سے بہت دور رہنے والے تھے، اسلام میں ساٹھ برس تک انھوں نے دینی خدمات سر انجام دیں۔ امام نافع نے ان کا بہت علم نشر کیا، (۷۳) سن ہجری کے آخریا (۷۴) سن ہجری کے شروع میں انتقال کر گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11804
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1156، 7015،ومسلم: 2478، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4494»
حدیث نمبر: 11805
عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَى رُؤْيَا فَأَقُصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا فَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَى النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ فَقَالَ لِي لَنْ تُرَاعَ فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ“ قَالَ سَالِمٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں جو بھی آدمی کوئی خواب دیکھتا، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کرتا۔ میری بھی خواہش تھی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کروں، میں کنوارا نوجوان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سویا کرتا تھا، میں نے خواب دیکھا گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے جہنم کی طرف لے گئے، وہ اس طرح چنی گئی تھی جیسے کنواں چنا جاتا ہے اور اس کے اوپر (کنویں کی طرح کے) دو ستون تھے، جب میں نے اس میں دیکھا تومجھے اس میں ایسے لوگ دکھائی دیئے جن کو میں پہنچانتا تھا۔ میں ڈر کر کہنے لگا: اُعوذُ باللّٰہِ مِنَ النَّار،اُعوذُ باللّٰہِ مِنَ النَّار (میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔) ایک فرشتہ ان دونوں فرشتوں سے آ ملا، اس نے مجھ سے کہا: تم مت گھبراؤ۔ میں نے یہ خواب اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بیان کیا، جب انہوں نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے، کاش کہ وہ رات کو نمازپڑھا کرے۔ سالم کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رات کو کم ہی سویا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11805
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1121، 1122، 3738،ومسلم: 2479، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6330»
حدیث نمبر: 11806
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہد سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر ابن عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور ان کی عمر بیس سال تھی، ان کے پاس ایک شاندار گھوڑا اور ایک خاصا وزنی نیزہ تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے کے لیے گھاس کاٹنے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک عبداللہ (صالح آدمی ہے)، بے شک عبداللہ (صالح آدمی ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11806
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4600»
حدیث نمبر: 11807
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ ثُمَّ عَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے غزوۂ احد کے موقع پیش ہوئے، اس وقت ان کی عمر چودہ برس تھی، آپ نے ان کو جنگ میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی، پھر وہ خندق کے موقع پر پیش ہوئے،تب ان کی عمر پندرہ برس تھی، تونبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11807
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4097، ومسلم: 1868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4661»