حدیث نمبر: 11789
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَوَضَعْتُ لَهُ وُضُوءً مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: ”اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تھے،میں نے آپ کے لیے رات کو وضو کرنے کے لیے پانی رکھا۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! آپ کے لیےیہ پانی عبداللہ بن عباس نے رکھا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ! اسے دین میں گہری سمجھ اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے ایک طریق کے الفاظ میں درج ذیل تفصیل ہے: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہٗسَکَبَلِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَضُوْئً عِنْدَ خَالَتِہٖمَیْمُوْنَۃَ، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: ((مَنْ وَضَعَ لِیْ وَضُوْئِیْ؟)) قَالَتْ: اِبْنُ أُخْتِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ! فَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ وَعَلِّمْہُ التَّاوِیْلَ۔))
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک برتن میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی بھر کر رکھا، جبکہ آپ میری خالہ میمونہ کے گھر تھے۔ جب آپ (بیت الخلاء سے) باہر تشریف لائے تو پوچھا: وضو کے لیے پانی کس نے رکھا ہے؟ خالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے نے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو دین میں فقاہت عطا فرما اور تفسیرِ(قرآن) سکھا دے۔
جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خدمت کرنا چاہی تو ان کے سامنے تین امور تھے: (۱)وہ بیت الخلا میں پانی پہنچائیںیا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب دروازے پر رکھ دیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آسانی کے ساتھ لے لیںیا (۳) کچھ بھی نہ کریں۔
غور و فکر کیا جائے تو دوسرا فیصلہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، جسے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عملاً اپنایا،یہ ان کی ذہانت و ذکاوت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے بیش قیمت دعا کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد تھے، ہجرت سے تین برس پہلے پیدا ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے فہم قرآن اور فقہ کی دعا کی اور یہ اس دعا کے مطابق علم، فقہ، فہم اور دین میں حبر الامہ کہلوائے، یہ زیادہ احادیث بیان کرنے والے صحابۂ کرام میں سے ہیں، عبادلہ اور فقہائے صحابہ میں سے ایک ہیں،یہ طائف میں (۶۸) سن ہجری میں فوت ہوئے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (ایک برتن میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی بھر کر رکھا، جبکہ آپ میری خالہ میمونہ کے گھر تھے۔ جب آپ (بیت الخلاء سے) باہر تشریف لائے تو پوچھا: وضو کے لیے پانی کس نے رکھا ہے؟ خالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بھانجے نے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کو دین میں فقاہت عطا فرما اور تفسیرِ(قرآن) سکھا دے۔
جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ خدمت کرنا چاہی تو ان کے سامنے تین امور تھے: (۱)وہ بیت الخلا میں پانی پہنچائیںیا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب دروازے پر رکھ دیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے آسانی کے ساتھ لے لیںیا (۳) کچھ بھی نہ کریں۔
غور و فکر کیا جائے تو دوسرا فیصلہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، جسے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عملاً اپنایا،یہ ان کی ذہانت و ذکاوت پر دلالت کرتا ہے۔ اسی مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے بیش قیمت دعا کی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد تھے، ہجرت سے تین برس پہلے پیدا ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے فہم قرآن اور فقہ کی دعا کی اور یہ اس دعا کے مطابق علم، فقہ، فہم اور دین میں حبر الامہ کہلوائے، یہ زیادہ احادیث بیان کرنے والے صحابۂ کرام میں سے ہیں، عبادلہ اور فقہائے صحابہ میں سے ایک ہیں،یہ طائف میں (۶۸) سن ہجری میں فوت ہوئے۔
حدیث نمبر: 11790
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مَنْكَبِي، شَكَّ سَعِيدٌ، ثُمَّ قَالَ: ”اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کی: یا اللہ! اسے دین میں فقاہت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔
حدیث نمبر: 11791
وَعَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اللَّهُمَّ أَعْطِ ابْنَ عَبَّاسٍ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی: یا اللہ ابن عباس کو حکمت اور تفسیر کا علم عطا فرما۔
وضاحت:
فوائد: … حکمت سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں درج ذیل مختلف اقوال ہیں: قرآن پر عمل، سنت، درست بات، خشیت، اللہ تعالیٰ کی طرف سے فہم، عقل، الہام اور وسوسے میں فرق کرنے والا نور۔
حدیث نمبر: 11792
وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْحِكْمَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے حق میں حکمت کی دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 11793
وَعَنْهُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ”اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور یہ دعا کی: یا اللہ! اسے قرآن مجید کا علم عطا فرما۔
حدیث نمبر: 11794
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ كُرَيْبًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لِي: ”مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَاءِي فَتَخْنِسُ?“، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ؟ قَالَ: فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا، قَالَ: ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ، فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رات کے آخری حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کی،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے کی طرف کھینچ کر اپنے پہلو میں اپنے برابر کھڑا کر لیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں کھسک کر کچھ پیچھے کو ہو گیا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کی تو مجھ سے فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا، میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا اور تم کھسک گئے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو عظیم منصب و مرتبہ سے نوازا ہے۔ کیا (مجھ جیسے) کسی فرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے؟ میری یہ بات آپ کو بہت پسندآئی، آپ نے اللہ سے میرے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ میرے علم اور فہم میں اضافہ فرمائے۔ میں نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر گہری نیند سو گئے کہ خراٹے لینے لگے۔ اس کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آواز دی: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو گیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز ادا کی اور دوبارہ وضونہیں کیا (کیونکہ نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار ہی رہتا تھا)۔
حدیث نمبر: 11795
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ خَلْفَ بَابٍ فَدَعَانِي فَحَطَّأَنِي حَطْأَةً ثُمَّ بَعَثَ بِي إِلَى مُعَاوِيَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے پاس سے گز ر ہوا تو میں ایک دروازے کے پیچھے چھپ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلوا کر ہلکا سا جھنجھوڑا دیا اور مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔
حدیث نمبر: 11796
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ لِي أَبِي أَيْ بُنَيَّ أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ يَا أَبَتِ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ فَرَجَعْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”فَإِنَّ ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ کے پاس ایک اور آدمی بھی بیٹھا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کر رہا تھا،یوں لگتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے والد کی طرف توجہ نہیں فرما رہے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے اٹھ آئے،میرے والدنے مجھ سے کہا: بیٹا! دیکھا کہ تمہارے چچا زاد (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے میری طرف توجہ ہی نہیں کی۔ میں نے عرض کیا: ابا جان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ محو کلام تھے۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آگئے، اب کی بار میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں نے عبداللہ سے اس طرح بات کی اوراس نے بتلایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی بیٹھا آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ! کیا تم نے اس آدمی کو دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے،میں ان کیوجہ سے آپ لوگوں کی طرف تو جہ نہ کر سکا۔
حدیث نمبر: 11797
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَمَلَهُ وَحَمَلَ أَخَاهُ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اور ان کے بھائی کو اپنی سواری پر اٹھا لیا، ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا۔
حدیث نمبر: 11798
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر پندرہ برس تھی۔
حدیث نمبر: 11799
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں محکم سورتیں یاد کر لی تھیں، جبکہ میری عمر دس برس تھی۔ میں (سعید بن جبیر) نے ان سے کہا: محکم سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: مفصل سورتیں۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ حجرات سے قرآن کریم کے آخر تک کے حصے کو مفصل کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11800
قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُفَصَّلَ هُوَ الْمُحْكَمُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشَرِ سِنِينَ وَقَدْ قَرَأْتُ الْمُحْكَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تم جن سورتوں کو مفصل کہتے ہو، ان کو محکم بھی کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت میری عمر دس سال تھی، لیکن میں یہ محکم سورتیں یاد کر چکا تھا۔
حدیث نمبر: 11801
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رِبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَتِينٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت میرا ختنہ ہو چکا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے وقت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں چار اقوال ملتے ہیں۔ دس برس، تیرہ برس، چودہ برس، پندرہ برس، حافظ ابن حجر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام اقوال کو اور ان کے دلائل کو ذکر کرنے کے بعد اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اس وقت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر تیرہ سال پوری ہو چکی تھی اور وہ چودھویں سال میں جا رہے تھے۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 11802
عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ وَعَنِ الصَّبِيِّ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كَانَ يُخْرَجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَعَنِ الْعَبْدِ هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الصِّبْيَانُ فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنَ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ وَأَمَّا الْعَبْدُ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجدہ حروری نے ان کے نام ایک خط لکھ کر ان سے یہ مسائل دریافت کئے: بچوں کو قتل کرنا کیسا ہے؟ خمس کے اہل کون لوگ ہیں؟بچے پر سے یتیمی کا اطلاق کب ختم ہوتا ہے؟ کیا عورتیں جہاد میں جا سکتی ہیں یا نہیں؟ کیا مال غنیمت میں غلام کا بھی حصہ ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواباً تحریر کیا: اگر تم خضر ہو اور جانتے ہو کہ بچہ بڑا ہو کر کافر بنے گا تو تم اسے قتل کر سکتے ہو ، رہا مسئلہ خمس کا تو ہم تو اب تک یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ہمارا یعنی بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے، اب ہم میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ہمارا حق نہیں۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواتین کو اپنے ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے، وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتیں، مریضوںکی تیمارداری کرتیں، البتہ جنگ میں شامل نہیں ہوتی تھیں۔بچہ جب بالغ ہو جائے تو اس سے یتیمی کا اطلاق ختم ہو جاتا ہے۔غلام کا مال غنیمت میں کچھ حصہ نہیں، البتہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں کچھ نہ کچھ بطور عطیہ دیا جاتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اگر تم خضر ہو۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تم وہ خضر ہو کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس بچے کے انجام سے مطلع کر دیا تھاتو تم ان بچوں کو قتل کر دو۔ یعنی تم ان کو قتل نہیں کر سکتے، کیونکہ تم کو ان کے انجام کا علم نہیں ہے۔