حدیث نمبر: 11782
عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمَّةٌ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِي جَوْفِهِ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَارَكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ میں ان کو حمل ہو گیا تھا، یہ بچہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے، وہ کہتی ہیں: جب ایام حمل پورے ہو چکے تھے کہ تو میں مکہ سے روانہ ہو کر مدینہ منورہ کی طرف چل دی اورقباء میں آکر ٹھہری اور میں نے ان کو وہیں جنم دیا اور اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور منگوا کر اسے چبایا اور لعاب مبارک اس کے منہ میں ڈالا، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لعاب دہن گیا تھا۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھجور کی گھٹی دی، اس کے حق میں دعا فرمائی اور برکت کی دعا بھی کی، اسلام میں یہ سب سے پہلا پیدا ہونے والا بچہ تھا۔ ! اس سے مراد یہ ہے کہ مدینہ میں مہاجرین کے ہاں پیدا ہونے والا یہ پہلا بچہ تھا۔ ورنہ مہاجرین کا مدینہ کے علاوہ پہلا بچہ عبداللہ بن جعفر تھا جو حبشہ میں پیدا ہوا اور ہجرت کے بعد انصار کے ہاں پہلا بچہ مسلمہ بن مخلد تھا۔ [فتح الباری: ج۷، ص ۲۴۸] (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 11783
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ فَقَالَ: ”هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور فرمایا: اس کا نام عبداللہ ہے اور (عائشہ!) تم ام عبداللہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … یہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اپنی اولاد نہیں تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بھانجے کے نام پہ ان کی کنیت رکھی۔