کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ذوالبجادین سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11778
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ذُو الْبِجَادَيْنِ ”إِنَّهُ أَوَّاهٌ“ وَذَلِكَ أَنَّهُ كَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الذِّكْرِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الدُّعَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جسے ذوالبجادین کہا جاتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا : و ہ اَوّاہ ہے۔ یعنی اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس پر رقت طاری ہو جاتی ہے، وہ شخص کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرکے اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کیا کرتا اور بلند آواز سے دعائیں کیا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11778
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17592»
حدیث نمبر: 11779
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ كُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ قَالَ فَرَآنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَاءً“ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ قَالَ فَرَفَضَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ”إِنَّكُمْ لَنْ تَنَالُوا هَذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَةِ“ قَالَ ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا أَحْرُسُهُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَرَرْنَا عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي بِالْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ عَسَى أَنْ يَكُونَ مُرَاءً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَلَّا إِنَّهُ أَوَّابٌ“ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ذُو الْبِجَادَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن الادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ نے مجھے دیکھاتو میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ جہراً قرأت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی دکھلاوا کرنے والا ہو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو جہراًتلاوت کرتے ہوئے نماز ادا کر رہا ہے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر فرمایا: تم کوشش کرکے بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ ابن الادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ پھر میں رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا کہ آپ کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو جہراً تلاوت کرتے ہوئے نمازا دا کررہا تھا۔ میں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ یہ دکھلاوا کرنے والا ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والا شخص ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ ذوالبجا دین رضی اللہ عنہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا لقب ذوالبجادین تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوںنے اسلام قبول کیا تو ان کے والد نے ان کے سارے کپڑے اتروا کر انہیں برہنہ کر دیا،یہ اسی طرح والدہ کے پاس پہنچے۔تو اس نے ان کو ایک بڑا کپڑا دیا اس کے دو حصے کرکے انہوںنے ایک تو بطور تہبند اور دوسرے کو جسم کے اوپر والے حصہ پر اوڑھ لیا۔ اس لیے ان کا لقب ذوالبجادین پڑ گیا۔ بِجَاد کے لفظی معانی دھاری دار چادر کے ہیں۔ زیادہ مشہور روایتیہ ہے کہ یہیتیم تھے اور ان کے چچا نے ان کی پرورش کی۔ جب یہ مسلمان ہوئے تو چچا نے ان سے ہر چیز چھین لی حتی کہ جسم کے کپرے بھی اتروا لیے۔ [الاصابۃ: ۲/ ۳۳۸] (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11779
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به ھشام بن سعد، وھو ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19180»