کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11771
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ فَوَضَعْتُ أُصْبُعِي عَلَيْهَا فَقَالَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ ذَا جُمَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عبداللہ حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی ایک جانب میں مجھے ایک تل کا نشان دکھایا، میں نے اپنی انگلی اس کے اوپر رکھی تو انہوں نے بتلایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک اس پر رکھ کر فرمایا تھا کہ تم ایک سو سال کی عمر کو پہنچو گے۔ سیدنا عبداللہ بسر رضی اللہ عنہ کے بال کاندھوں تک آتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11771
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17841»
حدیث نمبر: 11772
حَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ أُخْتِي تَبْعَثُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْهَدِيَّةِ فَيَقْبَلُهَا (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَتْ أُخْتِي رُبَمَا بَعَثَتْنِي بِالشَّيْءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَطْرُفُهُ إِيَّاهُ فَيَقْبَلُهُ مِنِّي)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابیٔ رسول سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ان کی ہمشیرہ ان کو ایک ہدیہ دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کرتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ہدیہ کو قبول فرما لیا کرتے تھے۔ دوسری روایت میں یوں ہے:بسا اوقات میری ہمشیرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کوئی تحفہ دے کر مجھے بھیجا کرتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے وہ تحفہ قبول فرما لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11772
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17839»
حدیث نمبر: 11773
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ يَقُولُ تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ فَأَنَا بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یحییٰ بن حسان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے سنا کہ تم میرایہ ہاتھ دیکھ رہے ہو، میں نے اس ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم فرض روزہ کے علاوہ ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … روزے کی بات کتاب الصیام میں گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11773
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، اخرجه ابوداود: 2421،والترمذي: 744،وابن ماجه: 1726 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17838»
حدیث نمبر: 11774
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى الطَّعَامِ فَجَاءَ مَعِي فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي هَاتِي طَعَامَكِ فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا“ فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے ماں باپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کی دعوت دوں، میں گیا تو آپ میرے ساتھ تشریف لے آئے، جب میں گھر کے قریب ہوا تو میں نے جلدی سے اپنے والدین کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کی اطلاع دی، وہ دونوں باہر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا استقبال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوش آمدید کہا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک چادر بچھا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر میرے باپ نے میری ماں سے کہا: کھانا لاؤ، وہ ایک پیالہ لائیں، اس میں آٹا تھا، جسے انہوں نے پانی اور نمک میں گوند رکھا تھا، میری والدہ نے وہ آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور اس کے ارگرد سے کھاؤ، اوپر کی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر سے برکت نازل ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہم نے بھی کھایا، اس سے کچھ کھانا بچ گیا، کھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہُمْ، وَارْحَمْہُمْ، وَبَارِکْ عَلَیْہِمْ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِمْ فِیْ اَرْزَاقِہِمْ۔ (اے اللہ! انہیں معاف کردے، ان پررحم فرما، ان کے لیے برکت کر اور ان کے رزق میں وسعت پیدا کر)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11774
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17830»
حدیث نمبر: 11775
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ أَوْ قَالَ لَهُ أَبِي انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسَةٍ وَسَوِيقٍ فَأَكَلَهُ وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيُلْقِي النَّوَى وَصَفَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى بِظَهْرِهِمَا مِنْ فِيهِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ إِصْبَعَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي بِهِ) ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهُ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ (وَفِي لَفْظٍ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ) فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقَالَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ ہمارے گھر تشریف لائے یا میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آنے کا مطالبہ کیا تھا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور مہمان اترے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میرے باپ نے کھانا پیش کیا اور ساتھ کھجوروں سے بنا ہوا کھانا یا ستو بھی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھایا اور آپ کھجوریں کھاتے تھے اور گٹھلیاں پھینک دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انگشت ِ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملاتے تھے اور کھجور کھا کر ان انگلیوں کی پشت پر گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیا، پھر جو دائیں جانب تھا، اسے پکڑا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور سفید خچر پر سوار ہو کر اپنی سواری کی لگام تھام لی، میرے باپ نے کہا: میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِیمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْ لَہُمْ وَارْحَمْہُمْ۔ (اے اللہ! جو تونے انہیں دیا ہے، اس میں برکت فرما اور انہیں بخش دے اور ان پررحم فرما۔
وضاحت:
فوائد: … عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ صغار صحابہ میں سے ہیں، ان کی وفات ۸۸ھ یا دوسرے قول کے مطابق ۹۶ھ میں سو سال کی عمر میں ہوئی،یہ سرزمین شام میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11775
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17835»