کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11758
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِيهِ الْوَلِيدِ عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ قَالَ بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الْحَرْبِ وَكَانَ عُبَادَةُ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى عَلَى بَيْعَةِ النِّسَاءِ فِي السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَلَا نُنَازِعُ فِي الْأَمْرِ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، یہ صحابی ان افراد میں سے تھے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیعت عقبہ اولیٰ میں مدینہ منورہ میں لوگوں پر نقیب (اور نگران) مقرر فرمایا تھا، ان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر لڑائی کی بیعت کی تھی کہ ہمیں اگر اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع کے لیے کسی سے جنگ بھی کرنا پڑی تو ہم اس سے دریغ نہیں کریں گے اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ ان بارہ نقباء میں سے تھے، جنہوں نے بیعت عقبہ اولیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر موافق اور ناموافق حالات میں پسندیدہ و ناپسندیدہ احوال میں یعنی ہر حال میں آپ کا حکم سننے اور ماننے کی بیعت کی اور اس امر کا اقرار کیا کہ ہم حکومت و اقتدار کے بارے میں اہل اقتدار سے مقابلہ نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں گے ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا کئے بغیر حق کہیں گے۔ نیز ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر عورتوں والے امور کی طرح بیعت کی تھی۔ (ان امور کا ذکر سورۂ ممتحنہ میں ہے)۔
وضاحت:
فوائد: … عورتوں والے امور سے مراد وہ امور ہیں، جن کا ذکر درج ذیل آیت میں ہے: { ٰٓیاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا جَآئَ کَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰٓی اَنْ لَّا یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَھُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُھْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَہٗ بَیْنَ اَیْدِیْھِنَّ وَاَرْجُلِھِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ
مَعْرُوْفٍ} (سورۂ ممتحنہ: ۱۲) یعنی: اے نبی! جب اہل ایمان خواتین آپ کے پاس آئیں تو وہ ان باتوں کی بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی، اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی اور کسی پر بہتان طرازی نہیں کریں گی اور کسی معروف کام میں آپ کی حکم عدولی نہیں کریں گی۔
اس آیت میں تو خواتین کا ذکر ہے، لیکن مرد بھی ان امور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11758
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7199، 7200،ومسلم: 3/ 1417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23076»
حدیث نمبر: 11759
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ أَصْرَمَ بْنِ فِهْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ فِي الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَقَبَةِ الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت بن قیس بن اصرم بن فہر بن ثعلبہ بن غنم بن عوف بن خزرج رضی اللہ عنہ ان بارہ افراد میں سے ہیں، جنہوں نے بیعت عقبہ اولیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی فضیلت معلوم ہوئی کہ انہیں ہجرت سے قبل مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ جا کر اسلام قبول کرنے اور بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوا، اس موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے بارہ افراد کو نقیبیعنی ذمہ دار اور نگران مقرر کیا تھا، ان نقباء میں سے ایک سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11759
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23156»
حدیث نمبر: 11760
قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يُسَمِّي النُّقَبَاءَ فَسَمَّى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ مِنْهُمْ قَالَ سُفْيَانُ عُبَادَةُ عَقَبِيٌّ أُحُدِيٌّ بَدْرِيٌّ شَجَرِيٌّ وَهُوَ نَقِيبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
امام سفیان بن عیینہ نقباء کا نام لیتے تھے، اس ضمن میں انھوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا نام بھی ان میں ذکر کیا اور انھوں نے کہا: عبادہ رضی اللہ عنہ عقبی، احدی، بدری، شجری اور نقیب ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عقبی:بیعت عقبہ اولیٰ میں شرکت کرنے والے۔
احدی: غزوۂ احد میں شریک ہونے والے۔
بدری: غزوۂ بدر میں شرکت کا اعزاز پانے والے۔
شجری: صلح حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے بیعت رضوان میں شریک ہونے والے۔
نقیب:بیعت عقبہ اولیٰ میں مقرر کیے جانے والے نقیبوں میں سے ایک نقیب۔
یہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی صفات ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11760
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديثين السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23154»
حدیث نمبر: 11761
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ أَتَخَايَلُ فِيهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ يَا أَبَتَاهُ أَوْصِنِي وَاجْتَهِدْ لِي فَقَالَ أَجْلِسُونِي قَالَ يَا بُنَيَّ إِنَّكَ لَنْ تَطْعَمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ وَلَنْ تَبْلُغَ حَقَّ حَقِيقَةِ الْعِلْمِ بِاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَتَاهُ فَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ مَا خَيْرُ الْقَدَرِ وَشَرُّهُ قَالَ تَعْلَمُ أَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ وَمَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَلَمَ ثُمَّ قَالَ اكْتُبْ فَجَرَى فِي تِلْكَ السَّاعَةِ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ يَا بُنَيَّ إِنْ مِتَّ وَلَسْتَ عَلَى ذَلِكَ دَخَلْتَ النَّارَ وَفِي رِوَايَةٍ مَا أَكْتُبُ قَالَ فَاكْتُبْ مَا يَكُونُ وَمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ولید بن عبادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، جبکہ وہ مریض تھے اور موت کی کش مکش میں مبتلا تھے، میں نے ان سے گزارش کی کہ اے ابا جان! مجھے کوئی اچھی سی وصیت ہی کر دیں۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ۔ پھر کہا: بیٹا! تم اس وقت تک ایمان کا ذائقہ نہیں چکھ سکتے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کی اصل حقیقت تک پہنچ سکتے ہو، جب تک کہ تم ہر اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہیں لاؤ گے۔ میں نے عرض کیا: ابا جان!اچھی اور بری تقدیر کا علم مجھے کیسے ہوگا؟ انھوں نے کہا: تم اس بات کا یقین رکھو کہ جو چیز تمہیں نہیں ملی، وہ تمہیں کسی بھی صورت مل نہیں سکتی تھی اور تمہیں جو کچھ مل گیا ہے وہ تم سے چھوٹ نہیں سکتا تھا، بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اس کے بعد اس سے فرمایا کہ لکھ، چنانچہ وہ قلم اسی وقت لکھنے لگا اور اس نے قیامت تک ہونے والے ہر امر کو لکھ دیا۔ بیٹے! اگر تمہیں اس حال میں موت آئی کہ تمہارا یہ ایمان نہ ہوا تو تم جہنم میں جاؤ گے۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: قلم نے عرض کیا: میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قیامت کے بپا ہونے تک جو کچھ بھی ہونے والا ہے ہر امر کو لکھ دے۔
وضاحت:
فوائد: … کتاب کے شروع میں تقدیر کے احکام و مسائل بیان ہو چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11761
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 4700،والترمذي: 2155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23081»
حدیث نمبر: 11762
عَنِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ فَقَالَ مَهْلًا لِمَ تَبْكِي فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا سَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ“ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ مِثْلَهُ قَالَ حَرَّمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِ النَّارَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صنا بحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، ان کی حالت دیکھ کر میں رونے لگا، انہوں نے کہا: رک جاؤ، تم کیوں روتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے تمہارے بارے میں گواہی لی گئی تو میں تمہارے مومن ہونے کی گواہی دوں گا، اگر مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی تو میں تمہارے حق میں شفاعت کروں گا اور اگر مجھ سے ہو سکا تو تمہیں نفع پہنچاؤں گا۔ ‘ پھر کہا: اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بھی کوئی ایسی حدیث سنی ہے جس میں تمہارے لیے بہتری ہے تو میں وہ حدیث تمہیں سنا چکا ہوں، البتہ ایک حدیث ہے، جو میں تمہیں نہیں سنا سکا، وہ تمہیں آج ابھی سناتا ہوں اور اب صورت حال یہ ہے کہ میری روح قبض کی جانے والی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں، اس پر جہنم حرام کر دی جائے گی یایوں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرا م کر دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11762
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23087»