حدیث نمبر: 11751
عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ فَقَالَ ”يَا ضَمْرَةُ أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ“ فَقَالَ لَئِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِضَمْرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ“ فَانْطَلَقَ سَرِيعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے تو یمنی لباس کے دو بیش قیمت خوبصورت کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ضمرہ! کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارے یہ دو کپڑے تمہیں جنت میں لے جائیں گے؟ یہ سن کر سیدنا ضمرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرے حق میں مغفرت کی دعا فرمائیں تو میں جب تک ان کو اتار نہ دوں میں بیٹھوں گا نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: یا اللہ! ضمرہ بن ثعلبہ کی مغفرت فرما۔ تو انہوں نے جلدی سے جا کر ان کپڑوں کو اتار دیا۔
وضاحت:
فوائد: … ایک مسلمان کو بیش قیمت اور فاخرانہ لباس کی بجائے سادہ لباس پہننا چاہیے، ممکن ہے کہ سیدنا ضمرہ رضی اللہ عنہ والے لباس کی وجہ سے خودپسندی اور فخر میںمبتلا ہو جانا ممکن ہو۔