کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا ضماد ازدی رضی اللہ عنہ کا بیان
حدیث نمبر: 11750
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ ضِمَادٌ الْأَزْدِيُّ مَكَّةَ فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغِلْمَانٌ يَتْبَعُونَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أُعَالِجُ مِنَ الْجُنُونِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ قَالَ فَقَالَ رُدَّ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ قَالَ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ الشِّعْرَ وَالْعِيَافَةَ وَالْكَهَانَةَ فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ هَذِهِ الْكَلِمَاتِ لَقَدْ بَلَغْنَ قَامُوسَ الْبَحْرِ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَأَسْلَمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَسْلَمَ ”عَلَيْكَ وَعَلَى قَوْمِكَ“ قَالَ فَقَالَ نَعَمْ عَلَيَّ وَعَلَى قَوْمِي قَالَ فَمَرَّتْ سَرِيَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِقَوْمِهِ فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا إِدَاوَةً أَوْ غَيْرَهَا فَقَالُوا هَذِهِ مِنْ قَوْمِ ضِمَادٍ رُدُّوهَا قَالَ فَرَدُّوهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ضماد ازدی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ آئے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ لڑکے آپ کو تنگ کرتے ہوئے آپ کا پیچھا کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا: اے محمد! میں پاگل پن کا علاج کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوابا یہ خطبہ پڑھا: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّہِ نَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ، وَنَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ہَادِیَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہ۔ یہ الفاظ سن کر ضماد نے عرض کیا کہ (براہِ کرم) آپ یہ کلمات مجھے دوبارہ سنا دیں، اس نے دوبارہ یہ کلمات سن کر کہا:میں شعر،فال بازی، جادو اور نجامت وغیرہ سن چکا ہوں اور جانتا بھی ہوں، میں نے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادا کیے ہوئے) ان کلمات جیسے با مقصد اور جامع کلمات آج تک نہیں سنے، یہ تو سمندر کی تہ تک پہنچنے والے کلمات ہیں، میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ یہ کلمہ پڑھ کر وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو گیا۔ وہ مسلمان ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قبول اسلام اور اعتراف تمہاری اور تمہاری قوم کی طرف سے ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں یہ میری اور میری قوم کی طرف سے ہے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کا ایک دستہ ضماد رضی اللہ عنہ کی قوم کے پاس سے گزرا اور انہوں نے اس قوم کا کچھ سامان برتن وغیرہ لو ٹ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ضماد کی قوم ہے، ان کو ان کا سامان وا پس کر دو۔ پس صحابۂ کرام نے ان لوگوں کو ان سے لوٹا ہوا سامان واپس کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اہل مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سخت جسمانی اور ذہنی ایذائیں دیتے تھے، لوگ اور بچے آپ کو پاگل کہتے ہوئے آپ کے پیچھے لگے رہتے اور آپ کو پریشان کرتے تھے، سیدنا ضماد رضی اللہ عنہ نے بھییہی سمجھاکہ نعوذ باللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاگل ہیں، سو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علاج کرنے کے لیے آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فصاحت و بلاغت اور حکمت و دانائی کے سامنے ان کا معالجہ دم توڑ گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11750
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2749»