کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11749
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ امْدُدْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ قَالَ ضِرَارٌ ثُمَّ قُلْتُ تَرَكْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِيَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِيَةً وَابْتِهَالَا وَكَرِّي الْمُحَبَّرَ فِي غَمْرَةٍ وَحَمْلِي عَلَى الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالَا فَيَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ صَفْقَتِي فَقَدْ بِعْتُ مَالِي وَأَهْلِي ابْتِدَالَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا غُبِنَتْ صَفْقَتُكَ يَا ضِرَارُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر قبول اسلام کی بیعت کروں، پھر میں نے آپ کی خدمت میں یہ اشعار پڑھے: میں نے قسمت آزمائی والے تیر اور گانے والیوں کے گانے گناہوں کی معافی لینے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے اظہار کے لیے ترک کر دیے۔ اور اپنے محبّر نامی گھوڑے پر سوار ہو کر جاہلی قتل و غارت بھی ترک کر دی اور اب میں مشرکین کے خلاف حملے کرتا ہوں۔ اے رب میں اپنے اس سودے میں خسارانہ پاؤں، میں نے اپنا مال اور سب اہل و عیال اسلام کی خاطر چھوڑ دیئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرار! تم نے اپنی اس تجارت میں خسارے والا کام نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11749
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن سعيد الباھلي، قال ابو حاتم: منكر الحديث، مضطرب الحديث، ووھاه ابو زرعة، فقال: ليس بشيء اخرجه الطبراني في الكبير : 8132، والحاكم: 3/620 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16823»