کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11746
عَنْ يُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”نِعْمَ الْفَتَى سَمُرَةُ لَوْ أَخَذَ مِنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ مِنْ مِئْزَرِهِ“ فَفَعَلَ ذَلِكَ سَمُرَةُ أَخَذَ مِنْ لِمَّتِهِ وَشَمَّرَ عَنْ مِئْزَرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمرہ ایک اچھا آدمی ہے،کاش وہ اپنے سر کے بال ذرا چھوٹے کرلے اور اپنی چادر کو ٹخنوں سے اوپر رکھے۔ یہ سن کر سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے فوراً دونوں باتوں پر عمل شروع کر دیا۔ انہوں نے بال چھوٹے کر لیے اور چادر بھی اوپر کر لی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا سمرہ بن فاتک رضی اللہ عنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاندھوں کو مس کرتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کے لیے اتنے لمبے بال ناپسند کیے، اس کی کوئی خاص وجہ ہو گی، جیسے وہ اتنے خوبصورت لگتے ہوں کہ ان کی وجہ سے خود پسندی اور بڑائی میں مبتلا ہو جانا ممکن ہو۔
تہبند کا معاملہ واضح ہے کہ مرد کو تہبند میں ٹخنے چھپانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11746
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن لولا عنعنة ھشيم، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 4/177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17941»