کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم ابو عبدالرحمن سفینہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11735
(11492) عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم مَا عَاشَ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عبد الرحمن سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آزاد کیا اور مجھ پر یہ شرط عائد کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تک زندہ رہیں، میں ان کی خدمت کرتا رہوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ اس اعتبار سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے، کیونکہ انھوں نے ان کو آزاد کیا تھا، لیکن اس نسبت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی شرط لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 11736
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكًا بَعْدَ ذَٰلِكَ۔)) ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ وَخِلَافَةَ عُمَرَ وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ وَأَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً، ثُمَّ نَظَرْتُ بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْخُلَفَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ يَتَّفِقُ لَهُمْ ثَلَاثُونَ، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: أَيْنَ لَقِيتَ سَفِينَةَ؟ قَالَ: لَقِيتُهُ بِبَطْنِ نَخْلٍ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثَمَانِ لَيَالٍ أَسْأَلُهُ عَنْ أَحَادِيثِ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكَ سَمَّانِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم سَفِينَةَ، قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ؟ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ فَقَالَ: ((لِي ابْسُطْ كِسَاءَكَ؟)) فَبَسَطْتُهُ فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((احْمِلْ فَإِنَّمَا أَنْتَ سَفِينَةُ۔)) فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وَقْرَ بَعِيرٍ أَوْ بَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ أَوْ خَمْسَةٍ أَوْ سِتَّةٍ أَوْ سَبْعَةٍ مَا ثَقُلَ عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَجْفُوْا۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں خلافت کا زمانہ تیس سال تک ہے۔ اس کے بعد ملوکیت آجائے گی۔ پھر سیدنا سفینہ نے مجھ (سعید بن جمہان) سے کہا: تم سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی کے ادوار خلافت کو شمار کرو، ہم نے ان تمام ادوار کے مجموعہ کو تیس سال پایا۔ میں نے ان سے بعد کے خلفاء کے ادوار پر بھی نظر ڈالی، مگر مجھے ان میں تیس سال پورے ہوتے دکھائی نہیں دیئے۔ میں نے (یعنی حشرح بن نباتہ عبسی کوفی نے)سعید سے دریافت کیا: آپ کی سفینہ سے کہاں ملاقات ہوئی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ حجاج کے دور حکومت میں بطن نخل میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی اور میں نے ان کے ہاں آٹھ رات قیام کیا تھا۔ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کے بارے میں دریافت کرتا رہا، میں نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارا اصل نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میں آپ کو نہیں بتلاؤں گا، البتہ یہ بات ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام سفینہ رکھا ہے۔ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا نام سفینہ کس وجہ سے رکھا ؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ سفر پر جا رہے تھے، سامان اٹھانا ان کے لیے بوجھ اور مشقت کا سبب بنا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اپنی چادر بچھاؤ، میں نے چادر بچھائی تو سب لوگوں نے اپنا اپنا سامان اس میں ڈال کر مجھے اٹھوا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اٹھا لو، تم تو سفینہ (یعنی کشتی) ہو۔ آپ کے اس کلام کی برکت سے میں اس دن ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ یا سات اونٹوں کے اٹھائے جانے والے وزن کے برابر بھی اٹھاتا تو مجھے بوجھل محسوس نہ ہوتا۔ الایہ کے لوگ (قافلہ) مجھ سے آگے نکل جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کی صفت کو دیکھ کر ان کو سفینہ کہا تھا، لیکن پھر انھوں نے اس کو اپنے لیے بطور نام پسند کر لیا۔