کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اوس کے رئیس سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11725
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّكَ بِسَعْدٍ أَشْبَهُ ثُمَّ بَكَى وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: رَحْمَةُ اللّٰهِ عَلَى سَعْدٍ، كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا۔)) قَالُوا: مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ((لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عمرو سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ نے مجھے بیان کیا، جبکہ وہ انتہائی حسین و جمیل ، عظیم الجثہ اور دراز قامت آدمی تھے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میں کون ہوں۔ میں نے عرض کیا:میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ انھوں نے کہا: تم تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے مشابہ ہو، اس کے بعد وہ رونے لگے اور بہت زیادہ روئے اور کہا: سعد رضی اللہ عنہ پر اللہ کی رحمت ہو، وہ سب سے بڑھ کر جسیم اور طویل قامت تھے۔ پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دومہ کے والی اکیدر کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ ارسال کیا، جس پر سونے کی کڑھائی کی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا اور منبر پر کھڑے ہوئے یا بیٹھے، آپ نے کچھ گفتگو نہ کی اور ویسے ہی نیچے اتر آئے۔ لوگ اس جبہ کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے (اور اس کی عمدگی پرتعجب کرنے لگے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس جبہ پر تعجب کرتے ہو؟ صحابۂ کرام نے عرض کیا: جی کیوں نہیں، ہم نے اس سے اچھا کپڑا کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جو کپڑا دیکھ رہے ہو، جنت میں سعد رضی اللہ عنہ کے رومال اس سے بھی زیادہ قیمتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11725
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه مختصرا البخاري: 2616 معلقا ،ومسلم: 2469، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12223 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12248»
حدیث نمبر: 11726
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم ((اِهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا عرش جھوم گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11726
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه البزار: 2701، والحاكم: 3/ 206 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11202 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11184»
حدیث نمبر: 11727
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ جَدَّتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَقُولُ: وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرْبِي مِنْهُ لَفَعَلْتُ، يَقُولُ: ((اِهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى۔)) يُرِيدُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ يَوْمَ تُوُفِّيَ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن عمر بن قتاد ہ اپنی جدہ سیدہ رمیثہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جبکہ میں اس وقت آپ کے اس قدر قریب تھی کہ اگر میں اس وقت چاہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر نبوت کو بوسہ دے سکتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے تو اللہ کا عرش جھوم اٹھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے، جس دن وہ فوت ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11727
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره اخرجه الترمذي في الشمائل : 18، والطبراني في الكبير : 24/ 703 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27329»
حدیث نمبر: 11728
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ((أَلَا يَرْفَعُ دَمْعُكِ وَيَذْهَبُ حُزْنُكِ؟ فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللّٰهُ لَهُ، وَاِهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی ماں رونے چیخنے لگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے آنسو رکتے نہیں،کیا تمہارے غم کا بوجھ ہلکا نہیں ہوتا، تمہارے بیٹے کی شان تو یہ ہے کہ یہ وہ پہلا آدمی ہے، جس کے لیے اللہ تعالیٰ ہنسے ہیں اور جس کے لیے اس کا عرش جھوم اٹھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11728
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اسحاق بن راشد، قال ابن خزيمة عقب ھذا الحديث: لست اعرف اسحاق بن راشد ھذا۔ واھتزاز العرش لموت سعد بن معاذ ثبت من حديث غير واحد من الصحابة، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/143، والطبراني في الكبير : 5344، والحاكم: 3/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28133»
حدیث نمبر: 11729
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ وَجَنَازَةُ سَعْدٍ مَوْضُوعَةٌ: ((اِهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس کی خاطر رحمن عزوجل کا عرش جھوم اٹھا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی روح کے پرواز کرنے پر عرش معلی کا جھومنا، یہ اللہ تعالیٰ کی خوشی کی وجہ سے تھا، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِھْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مِنْ فَرْحِ الرَّبِّ عَزَّ وَ جَلَّ۔)) … جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر ربّ تعالیٰ خوش ہوئے تو عرش جھوم گیا۔ (رواہ تمام في الفوائد ۳/۲، الصحیحۃ:۱۲۸۸)
اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کو اس بات کا شعور بخشا، جس کی وجہ سے اس نے بھی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی روح کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ یہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی منفرد اور عظیم سعادت اور منقبت ہے، ایسی عظیم ہستی سے اللہ تعالیٰ کا سلوک کیسا ہو گا! سبحا ن اللہ!
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11729
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13488»
حدیث نمبر: 11730
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ فِي الْأَكْحَلِ، فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خندق کے دن زخمی ہو گئے، حبان بن عرقہ قریشی نے ا ن کے بازو کی اکحل نامی رگ پر تیر مارا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریب سے ان کی تیمار داری کر نے کے لیے ان کے لیے مسجد میں خیمہ نصب کرایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11730
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 463، 4122،ومسلم: 1769 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24294 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24798»
حدیث نمبر: 11731
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ: نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ هٰؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ۔)) قَالَ: تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وآله وسلم ((لَقَدْ قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللّٰهِ۔)) وَرُبَّمَا قَالَ: ((قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہوگئے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا، وہ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے، جب وہ مسجد نبوی کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سردار کی طرف اٹھ کر جاؤ یایوں فرمایا تم اپنے رئیس کی طرف اٹھ کر جاؤ (اور ان کو گدھے سے اتارو)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: یہ یہودی لوگ آپ سے فیصلہ کرانے پر راضی ہوئے ہیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: ان کے جنگجوؤں کو قتل کر دیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ کیا ہے، (یعنی جو فیصلہ کیا ہے اللہ کو بھی وہی منظور ہے۔) اور کسی وقت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے یوں بیان کیا: آپ نے تو بادشاہ والا فیصلہ کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … غزوۂ خندق کے موقع پر بنو قریظہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہد شکنی کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جرم کی پاداش میں ان کا محاصرہ کر لیا تو وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گئے، لیکن بیچاروں کو کیا پتہ کہ اپنی ہی چھری سے اپنا گلا کاٹ رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11731
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4121،ومسلم: 1768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11185»
حدیث نمبر: 11732
عَنْ عَائِشَةَ فِي حَدِيثِهَا الطَّوِيلِ ذَكَرَ بِطُولِهِ فِي الْخَنْدَقِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ قَالَ لِسَعْدٍ: ((لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ۔)) قَالَتْ: ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ: قَالَ: اللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ صلى الله عليه وآله وسلم مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ، قَالَتْ: فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرِئَ حَتَّى مَا يُرَى مِنْهُ إِلَّا مِثْلُ الْخُرْصِ، وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَتْ: فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ} قَالَ عَلْقَمَةُ: قُلْتُ: أَيْ أُمَّةْ! فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَصْنَعُ؟ قَالَتْ: كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ وَلَٰكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجِدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک طویل حدیث مروی ہے، اس میں ہے: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم نے بنو قریظہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو بھی یہی فیصلہ منظور تھا۔ اس کے بعد سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور کہا: یا اللہ! اگر تو نے اپنے نبی کے لیے قریش کے ساتھ کوئی لڑائی باقی رکھی ہے تو مجھے اس میں شرکت کے لیے زندہ رکھنا اور اگر تو نے اپنے نبی اور قریش کے درمیان لڑائیوں کا سلسلہ مکمل کر دیا ہے تو مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔اس دعا کے بعد ان کا زخم پھٹ گیا، ویسے وہ سارا ٹھیک ہو چکا تھا، البتہ اس میں سے صرف ایک انگوٹھی کے حلقہ کے برابر معمولی سا زخم باقی رہ گیا تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ اس خیمے کی طرف واپس آئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے نصب کرایا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! میں اپنے حجرے ہی میں تھی اور میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز وں کو الگ الگ پہچان رہی تھی۔ ان کا آپس میں میل جول ویسا ہی تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ {رُحَمَاء ُ بَیْنَہُمْ} … وہ ایک دوسرے پر ازحد مہربان ہیں۔ (سورۂ فتح: ۲۹)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرنے والے علقمہ نے عرض کیا: امی جان! ایسے مواقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طرز عمل کیا ہوتا تھا؟ انھوں نے کہا: کسی کی وفات پر آپ کی آنکھوں میں آنسو نہ آتے تھے، البتہ جب آپ غمگین ہوتے تو اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ لیتے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وفات پر آنکھوں سے آنسو نہ بہانا، اس چیز کا تعلق غالب اور اکثر احوال سے ہے، وگرنہ فوتگی کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رونا اور آنسو بہانا ثابت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے لخت جگر ابراہیم کے فوت ہونے پر آنسو بہانا (صحیح بخاری: ۱۳۰۳) سعد بن عبادہ کے بیمار ہونے پر ان کی تیمارداری کے لیے جانے کے موقعہ پر رونا (صحیح بخاری: ۱۳۰۴) اور جعفر، زید بن حارثہ اور عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر ملنے پر غمگین نظر آنا (صحیح بخاری: ۱۳۰۵) ثابت ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11732
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «للحديث شواھد يصح بھا دون قولھا: كانت عينه لاتدمع علي احد ، ففيه نكارة وھذا اسناد فيه ضعف، عمرو بن علقمة مجھول، اخرجه ابن حبان: 6439، والطبراني في الكبير : 5330 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25610»
حدیث نمبر: 11733
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لِهٰذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ فَفَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ۔)) وَقَالَ مَرَّةً: ((تَفَتَّحَتْ۔)) وَقَالَ مَرَّةً: ((ثُمَّ فَرَّجَ اللّٰهُ عَنْهُ۔)) وَقَالَ مَرَّةً: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم لِسَعْدِ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُدْفَنُ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیک بندہ ہے، جس کے لیے اللہ کا عرش جھوم اٹھا اور اس کے استقبال کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے، لیکن قبر میں اس پر ایک بار سختی کی گئی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس مشکل کو زائل کر دیا۔ اور راوی نے ایک باریوں کہا: پھر اللہ تعالیٰ نے کشادگی پید اکر دی۔ ایک دفعہ راوی نے یہ تفصیل بیان کی: جس دن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اوران کو دفن کیا جا رہا تھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق میں یہ باتیں کی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11733
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه النسائي في الكبري : 8224، والحاكم: 3/ 206 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14559»
حدیث نمبر: 11734
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَوْمًا إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ تُوُفِّيَ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ سَبَّحَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! لِمَ سَبَّحْتَ؟ ثُمَّ كَبَّرْتَ، قَالَ: ((لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هٰذَا الْعَبْدِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَهُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہا کی وفات کے موقع پران کی طرف گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور ان کو قبر میں رکھا گیا اور ان پر مٹی برابر کر دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی تسبیح کی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کافی دیر تک اللہ کی تسبیح بیان کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر کہا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اللہ اکبر کہتے رہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہنے کی کیا وجہ تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس صالح بندے پر اس کی قبر تنگ ہوگئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے قبر فراخ کر دی۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پر قبر کا تنگ ہونا اور پھر کشادہ ہو جانا، اس کی وجہ کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۳۳۲۹)والا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11734
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطبراني: 5346 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14934»