کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: خزرج کے سردار سیدنا سعد بن عبادۃ انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11724
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: زَارَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فِي مَنْزِلِنَا، فَقَالَ: ((السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ۔)) قَالَ: فَرَدَّ سَعْدٌ رَدًّا خَفِيًّا، فَرَجَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم وَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ تَسْلِيمَكَ وَأَرُدُّ عَلَيْكَ رَدًّا خَفِيًّا لِتُكْثِرَ عَلَيْنَا مِنَ السَّلَامِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ مَعَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَأَمَرَ لَهُ سَعْدٌ بِغُسْلٍ فَوُضِعَ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أَوْ قَالَ: نَاوَلُوهُ مِلْحَفَةً مَصْبُوغَةً بِزَعْفَرَانٍ وَوَرْسٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ عَلَى آلِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ۔)) قَالَ: ثُمَّ أَصَابَ مِنَ الطَّعَامِ فَلَمَّا أَرَادَ الِانْصِرَافَ قَرَّبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ حِمَارًا قَدْ وَطَّأَ عَلَيْهِ بِقَطِيفَةٍ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ سَعْدٌ: يَا قَيْسُ! اصْحَبْ رَسُولَ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ قَيْسٌ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صلى الله عليه وآله وسلم ((ارْكَبْ۔)) فَأَبَيْتُ ثُمَّ قَالَ: ((إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ تَنْصَرِفَ۔)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ۔
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے پست آواز سے سلام کا جواب دیا، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سلام تین بار کہا تھا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تین بار ہی اتنی پست آواز میں جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں سنا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چل دیئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے سلام کی آواز سن رہا تھا اور آہستہ آواز سے جواب دے رہا تھا تا کہ آپ ہم پر زیادہ سے زیادہ سلام کہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ واپس تشریف لے آئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آپ کے غسل کے لیے پانی رکھوایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا، اس کے بعد انہوں نے زعفران یا ورس سے رنگا ہوا ایک خوشبودار کپڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کپڑا اپنے اوپر لے لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی: یا اللہ! سعد بن عبادہ کی آل کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرما۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپسی کا ارادہ کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے لیے گدھا پیش کیا، جس کے اوپر ایک موٹی چادر رکھ دی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گدھے پر سوار ہوگئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جائے، سو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ ساتھ چل دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ۔ انہوں نے تو (احتراماً) سوار ہونے سے انکار کر دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یا تو سوار ہو جاؤ یا پھر واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ میں واپس چلا آیا۔
وضاحت:
فوائد: … صحابۂ کرام اس بات کے حریص اور خواہشمند ہوتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے لیے دعا کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11724
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن عبد الرحمن لم يثبت له سماع من قيس بن عبادة، اخرجه ابوداود: 5185 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15476 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15555»