کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11715
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اسلام قبول کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قبول اسلام کے وقت میری قوم کے لوگوں کے پاس جو اموال ہیں، آپ وہ اموال انہی کی ملکیت میں رہنے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا اور مجھے میری قوم پر امیر مقرر کر دیا، بعد میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے میری قوم پر امیر مقرر کیے رکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11715
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال منير بن عبد الله ووالده، اخرجه الطبراني في الكبير : 5458، والبزار: 878، وابن ابي شيبة: 12/466 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16728 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16848»