کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11714
عَنِ ابْنِ سَابِطٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَبْطَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَا حَبَسَكِ يَا عَائِشَةُ“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ قَالَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضری دینے میں تاخیر ہوگئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: عائشہ! تم کیوں لیٹ ہو گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مسجد میں ایک آدمی تھا، میں نے اس سے زیادہ حسین قرأت کرتے کسی کو نہیں سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر دیکھا تو وہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ تھے، ان کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، جس نے میری امت میں تم جیسے لوگ بھی پیدا کیے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … قابل غور بات یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون سی صفت کی بنا پر ایک غلام پر تعجب کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں ایسے باعث ناز لوگ پیدا کیے ہیں، وہ صفت صرف اور صرف یہ تھی کہ وہ خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے ہیں، کاش ہمارے رجحانات اور میلانات بھی اسی مزاج کے مطابق بن جاتے۔