کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ، ان کو سائب بن ابو سائب بھی کہتے ہیں
حدیث نمبر: 11710
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تُعْلِمُونِي بِهِ قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ“ قَالَ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ قَالَ فَقَالَ ”يَا سَائِبُ انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاجْعَلْهَا فِي الْإِسْلَامِ أَقْرِ الضَّيْفَ وَأَكْرِمِ الْيَتِيمَ وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: فتح مکہ والے روز مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا زہیر مجھے لے کر آئے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے میری تعریف و توصیف کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس کے بارے میں مجھے بتلانے کی ضروت نہیں،یہ قبل از اسلام میرے ساتھی تھے۔ سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نے بھی کہا: آپ کے رسول نے بالکل درست فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہترین رفیق تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سائب! تم اپنے اسلام سے پہلے والے اخلاق پر نظر رکھنا اور اسلام میں بھی وہی اخلاق اپنائے رکھنا، مہمانوں کی مہمان نوازی کیا کرو، یتیموں کا اکرام کیا کرو اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے رہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11710
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابراهيم بن مهاجر البجلي ضعيف، ومجاھد بن جبر المكي لم يرو عن السائب، بل بينھما قائد السائب، وھو لم نقع علي اسمه وترجمته فيما بين ايدينا من المصادر اخرجه مختصرا ابوداود: 4836، وابن ماجه: 2287 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15585»
حدیث نمبر: 11711
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ كَانَ يُشَارِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فِي التِّجَارَةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ جَاءَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَرْحَبًا بِأَخِي وَشَرِيكِي“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”كُنْتَ شَرِيكِي وَكُنْتَ خَيْرَ شَرِيكٍ“) ”كَانَ لَا يُدَارِي وَلَا يُمَارِي يَا سَائِبُ قَدْ كُنْتَ تَعْمَلُ أَعْمَالًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تُقْبَلُ مِنْكَ وَهِيَ الْيَوْمَ تُقْبَلُ مِنْكَ“ وَكَانَ ذَا سَلَفٍ وَصِلَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اسلام سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر تجارت کیا کرتے تھے، مکہ فتح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دیکھ کر فرمایا: میں اپنے بھائی اور شریک کار کو مرحبا کہتا ہوں۔ دوسری روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے شریک کار تھے اور بہترین شریک کار تھے، وہ کسی بھی معاملے میں اختلاف اور جھگڑانہیں کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سائب! تم جاہلیت میں بہت اچھے عمل کرتے رہے، مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتے تھے،، اب تمہاری طرف سے ایسے اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوں گے۔ سیدنا سائب رضی اللہ عنہ لوگوں کو ادھار اور ادائیگی میں مہلت دیا کرتے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا سائب بن ابی سائب رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں، جن کی تالیف قلبی کی گئی تھی، پھر یہ بہترین مسلمان بن گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11711
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «مجاھد بن جبر المكي لم يرو عن السائب، بل بينھما قائد السائب، وھو لم نقع علي اسمه وترجمته فيما بين ايدينا من المصادر اخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 505، والحاكم: 2/ 61 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15590»