کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11708
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ زَيْدٌ أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَسْأَلَهُ فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ فَقَالَ ”اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ“ فَقُلْتُ هَذَا جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدٌ مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ ”ائْذَنْ لَهُمْ“ وَدَخَلُوا فَقَالُوا مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ ”فَاطِمَةُ“ قَالُوا نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ ”أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي وَأَشْبَهَ خُلُقِي خُلُقَكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا جعفر، سیدنا علی اور سیدنا زید بن حارثہ اکٹھے ہوگئے۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کو تم میں سب سے زیادہ محبت مجھ سے ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول کو تم میں سب سے زیادہ مجھ سے محبت ہے۔ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ تم سب کی بہ نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے زیادہ محبت ہے۔ پھر وہ سب بولے کہ چلو اللہ کے رسول کے پاس چلتے ہیں، پس ان سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسامہ باہر جا کر دیکھو کون لوگ ہیں؟ انھوں نے بتلایا کہ سیدنا جعفر، سیدنا علی اور سیدنا زید ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد ہیں (یاد رہے کہ سیدنا زید، سیدنا اسامہ کے والد تھے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دو۔ سو وہ لوگ آئے اور انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کو ہم میں سے زیادہ محبت کس کے ساتھ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ کے ساتھ۔ ‘ انھوں نے کہا: ہم تو آپ سے مردوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اے جعفر ! تمہاری شکل و صورت میری شکل و صورت سے اور میری شکل و صورت تمہاری شکل و صورت کے مشابہ ہے، آپ مجھ سے اور میرے خاندان میں سے ہیں، اے علی! آپ میرے داماد اور میری اولاد کے باپ ہیں، میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو اور اے زید! آپ میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہیں، آپ کا مجھ سے گہرا تعلق ہے اور تم مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر ایک کو اس کا مخصوص مقام عطا کر دیا، جس کی روشنی میں ہر کوئی دوسرے سے بالاتر نظر آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11708
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 1/ 20، والنسائي في خصائص علي : 138، والحاكم: 3/ 217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21777 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22120»
حدیث نمبر: 11709
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِ وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو جس لشکر میں بھی روانہ کیا، ان کو اس کا امیر ہی مقررکیا، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو آپ انہیں کو لشکروں کا امیر بنا دیتے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت و منقبت بھی عیاں ہوتی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنا لے پالک بیٹا بنا رکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11709
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ان صح سماع عبد الله البھي من عائشة، فقد ثبته البخاري، ودفعه احمد، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 140، والنسائي في الكبري : 8182، والحاكم: 3/ 215 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26423»