حدیث نمبر: 11699
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اشْتَدَّ الْأَمْرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا رَجُلٌ يَأْتِينَا بِخَبَرِ بَنِي قُرَيْظَةَ“ فَانْطَلَقَ الزُّبَيْرُ فَجَاءَ بِخَبَرِهِمْ ثُمَّ اشْتَدَّ الْأَمْرُ أَيْضًا فَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ الزُّبَيْرَ حَوَارِيِّي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کے دن جب حالات سنگین ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہے جو جا کر بنو قریظہ کی خبر لے کر آئے۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ گئے اور ان کے احوال معلوم کرکے آئے، جب پھر معاملہ سخت ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح تین مرتبہ فرمایاکہ کون ہے جو بنو قریظہ کے احوال معلوم کرکے آئے۔ ہر بار سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اٹھ کر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیرہے۔
وضاحت:
فوائد: … خندق کا دن انتہائی خوف کا دن تھا اور تیز ہوا چل رہی تھی،لیکن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ حکم نبوی پر اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بچنا نہیں چاہتے تھے۔ حواری سے مراد خاص اور مخلص مدد گار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 11700
عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الزُّبَيْرُ ابْنُ عَمَّتِي وَحَوَارِيِّي مِنْ أُمَّتِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زبیر میرا پھوپھی زاد اور میری امت میں سے میرا حواری ہے۔
حدیث نمبر: 11701
حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَشِّرْ قَاتِلَ ابْنِ صَفِيَّةَ بِالنَّارِ ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ“ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ الْحَوَارِيُّ النَّاصِرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زربن جیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ابن جرموز نے ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹےیعنی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر نبی کا ایک حواری ہوتاہے اور میرا حواری زبیر ہے۔ امام سفیان نے کہا: حواری سے مراد مدگار ہے۔
حدیث نمبر: 11702
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ اسْتَأْذَنَ ابْنُ جُرْمُوزٍ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا ابْنُ جَرْمُوزٍ يَسْتَأْذِنُ قَالَ ائْذَنُوا لَهُ لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زر بن جیش سے روایت ہے کہ ابن جرموز نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی، انھوں نے دریافت کیا: کون ہے ؟ لوگوں نے بتلایا کہ ابن جرموز آنے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے آنے دو، زبیر کا قاتل ضرور بالضرور جہنم رسید ہوگا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سنا، پھر سابق حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … جنگ جمل میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مخالف تھے، جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیثیاد کرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اے زبیر!)خبردار! تو علی کی مخالفت میں نکلے گا اور تو اس سے لڑے گا، جبکہ تو ظالم ہو گا۔ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ لڑائی سے رک گئے اور وہاں سے واپس پلٹ گئے، عمرو بن جرموز نے وادیٔ سباع میں ان کو پا لیا اور دھوکے سے قتل کر دیا، پھر ان کی تلوار اور سر لے کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بہت غم اور رنج ہوا تھا اور انھوں نے اس کو جہنم کی خوشخبری سنائی تھی۔
حدیث نمبر: 11703
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ يَا بُنَيَّ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفْدِينِي بِهِمَا يَقُولُ ”فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا: میرے پیارے بیٹے ! اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے مخاطب ہوتے ہوئے اپنے والدین کا ذکر کرکے فرمایا کرتے تھے: تجھ پر میرے والدین قربان ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … بڑی شان ہے اس فردِ عظیم کی کہ جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں خطاب کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین اس پر قربان ہوں، لیکن بعض دیگر صحابہ کی مثالیں بھی موجود ہیں، ان کے حق میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والدین فدا ہوں، دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۷۱۶)
حدیث نمبر: 11704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ عِنْدِي لِلزُّبَيْرِ سَاعِدَانِ مِنْ دِيَاجٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ يُقَاتِلُ فِيهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام عبد اللہ سے مروی ہے کہ اس نے سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میرے پاس زبیر رضی اللہ عنہ کی دو آستینیں ہیں، جو ریشم کی بنی ہوئی وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عنایت کی تھیں، وہ انہیں پہن کر دشمن کے مقابلے کو نکلا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 11705
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَرْوَانَ وَمَا أَخَالُهُ يُتَّهَمُ عَلَيْنَا قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رُعَافٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى تَخَلَّفَ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ قَالَ وَقَالُوهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَنْ هُوَ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ الْأَوَّلُ وَرَدَّ عَلَيْهِ نَحْوَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالُوا الزُّبَيْرَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ كَانَ لَخَيْرَهُمْ مَا عَلِمْتُ وَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ مروان سے بیان کرتے ہیں،میں نہیں سمجھتا کہ وہ ہمارے نزدیک قابل تہمت ہو، ا س نے کہا کہ (۳۱) سن ہجری جو کہ سنۃ الرعاف یعنی نکسیر کا سال کہلاتا ہے، اس سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو نکسیر آئی اور ان کو اس قدر نکسیر آنے لگی کہ وہ حج کے لیے بھی نہ جا سکے اور انہیں موت کا اندیشہ لاحق ہوا تو انہوں نے اپنے بعد وصیت بھی کر دی، ایک قریشی آدمی ان کی خدمت میں گیا تو اس نے پوچھا: کیا آپ کے بعد کسی کو خلیفہ نام زد کر دیا گیا ہے؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے پوچھا: وہ کون ہے یعنی خلیفہ کسے نامزد کیا گیاہے ؟ وہ خاموش رہا ، پھر ایک اور آدمی آیا اور اس نے بھی پہلے آدمی والی بات کی اور انہوں نے اسے بھی وہی جواب دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ زبیر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرے علم کے مطابق وہ سب سے افضل ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکسیر کے مرض میں مبتلا ہوئے اور لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ انہوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنا خلیفہ نامزد کر دیا ہے، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی، تاہم اس سے پتہ چلا کہ عوام کی نظروں میں وہ اس قابل تھے کہ ان کو خلیفہ مقرر کر دیا جاتا۔