کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دگنی گواہی والے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11692
حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَ بِالْفَرَسِ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمُ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعًا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ وَإِلَّا بِعْتُهُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ ”أَوَلَيْسَ قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ“ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَلَى قَدِ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ“ فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ فَمَنْ جَاءَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ وَيْلَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَقُولَ إِلَّا حَقًّا حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ فَاسْتَمَعَ لِمُرَاجَعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمُرَاجَعَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ قَالَ خُزَيْمَةُ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ ”بِمَ تَشْهَدُ“ فَقَالَ بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمارہ بن خزیمہ انصاری سے مروی ہے کہ ان کے چچا جو کہ صحابی تھے، نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بدّو سے ایک گھوڑا خریدا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میرے ساتھ آکر گھوڑے کی قیمت وصول کر لو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیز رفتار تھے اور بدّو کی رفتار سست تھی، سو یہ بدّو پیچھے رہ گیا اور کچھ لوگ اعرابی کے پاس آئے اور اس کے ساتھ گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے گھوڑے کا سودا طے کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قیمت میں گھوڑا خریدا تھا۔ ایک آدمی نے گھوڑے کی قیمت اس سے زیادہ لگا دی، اعرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر کہا: آپ یہ گھوڑا خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں ورنہ میں کسی اور کے ہاتھ بیچ رہا ہوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعرابی کی آواز سنی تو رک گئے اور فرمایا: کیایہ گھوڑا میں تم سے خرید نہیں چکا ہوں؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم نہیں، میں نے تو آپ کے ہاتھ اسے بیچا ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، میں تو اسے تم سے خرید چکا ہوں۔ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اعرابی کے اردا گرد اکٹھے ہوگئے اور وہ ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے کہ اس اعرابی نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو کوئی گواہ پیش کریں، جو گواہی دے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ اتنے میں ایک مسلمان نے آگے بڑھ کر اعرابی سے کہا: تجھ پر افسوس ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ سچ ہی کہتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے۔ یہاں تک کہ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ آگئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور اعرابی کی باتیں سنیں، اعرابی کہہ رہا تھا کہ کوئی گواہ پیش کرو جو گواہی دے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ کے ہاتھ فروخت کیا ہے۔ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ یہ گھوڑا فروخت کر دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم یہ گواہی کس بنیاد پردے رہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کی تصدیق کی بنیاد پر کہا، آپ ہمیشہ سچ ہی بولتے ہیں۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ اکیلے کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11692
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، اخرجه ابوداود: 3607، والنسائي: 7/ 301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21883 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22228»
حدیث نمبر: 11693
أَبِي ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ هُوَ ابْنُ فَارِسٍ أَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ صَاحِبِ الشَّهَادَتَيْنِ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَأَى فِي الْمَنَامِ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ ”صَدِّقْ بِذَلِكَ رُؤْيَاكَ“ فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ سیدناخزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پرسجدہ کیا۔ پھر جب انہوں نے اپنا یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے سامنے لیٹ گئے اور فرمایا: تم اپنا خواب اس طرح پورا کر لو۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11693
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف للاختلاف الذي وقع فيه علي يونس بن يزيد وعلي الزھري ، وابنُ خزيمة بن ثابت كذا وقع ھنا مبھما، وسمي في طرق ضعيفة عماره بن خزيمة اخرجه النسائي في الكبري : 7630 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21882 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22227»
حدیث نمبر: 11694
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَمَّا كُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ فَقَدْتُ آيَةً كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهَا عِنْدَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا} [الأحزاب: 23] قَالَ فَكَانَ خُزَيْمَةُ يُدْعَى ذَا الشَّهَادَتَيْنِ أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَقُتِلَ يَوْمَ صِفِّينَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کے مصاحف لکھے جا رہے تھے تو میں نے ایک آیت گم پائی، میں خود اس آیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کرتا تھا، وہ مجھے کسی کے ہاں سے لکھی ہوئی نہیں مل رہی تھی، آخر کار وہ مجھے سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں سے لکھی ہوئی ملی، وہ آیت یہ تھی:{مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔} … اہل ایمان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہدو پیمان کو خوب پورا کیا اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنے مقصد اور منزل کو پاگئے اور بعض حصول منزل کے منتظر ہیں اور انہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد میں تبدیلی بالکل نہیں کی۔ (سورۂ احزاب: ۲۳) سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ ذوالشھادتین یعنی دو گواہیوں والے کہلاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا تھا۔ زہری کہتے ہیں کہ وہ صفین کے موقعہ پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں قتل ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کی عظمت، فضیلت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کی پختگی واضح ہوتی ہے کہ ایک معاملے میں وہ حاضر نہ تھے، لیکن محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق و ایمان کی بنیاد پر وہ گواہ بن گئے اور یہ نقطہ صرف ان کے ذہن میں آیا اور اللہ تعالیٰنے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ان کو یہ اعزازبخشا کہ ان اکیلے کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11694
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2807، 7191 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21991»