حدیث نمبر:
حدیث نمبر: 11683
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا تَحْتَ ثَنِيَّةِ لِفْتٍ طَلَعَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الثَّنِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ ”انْظُرْ مَنْ هَذَا“ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے، جب ہم لفت نامی پہاڑی گھاٹی پر پہنچے تو گھاٹی میں سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: دیکھنا،یہ کون آرہا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا بہترین بندہ ہے۔
حدیث نمبر: 11684
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَزْهَرِ يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ جُرِحَ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عَلَى الْخَيْلِ خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ الْأَزْهَرِ قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا هَزَمَ اللَّهُ الْكُفَّارَ وَرَجَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ يَمْشِي فِي الْمُسْلِمِينَ وَيَقُولُ ”مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ“ قَالَ فَمَشَيْتُ أَوْ قَالَ فَسَعَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ أَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدٍ حَتَّى حَلَلْنَا عَلَى رَحْلِهِ فَإِذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مُسْتَنِدٌ إِلَى مُؤْخِرَةِ رَحْلِهِ فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى جُرْحِهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن ازہر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس دن زخمی ہو گئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سواروں کے دستہ کے قائد تھے۔ ابن ازہر کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست سے دو چار کیا اور مسلمان اپنے خیموں کی طرف واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان چلتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے آرہے تھے کہ کوئی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے کے بارے میں بتلائے، میں آپ کے آگے آگے تیزی سے گیا، میں ان دنوں بالغ تھا، میں پکارتاجا رہا تھا کہ کوئی ہے جو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے کے متعلق بتلائے۔ یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے ان کے خیمے میں جا داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ خالد رضی اللہ عنہ اپنے پالان کے پچھلے حصہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے قریب آئے۔ ان کے زخم کو دیکھا۔ زہری سے مروی ہے میرا خیال ہے کہ عبدالرحمن بن ازہر نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے زخم پر لعاب مبارک بھی لگایا۔
حدیث نمبر: 11685
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُسْلِمَ فَلَقِيتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَذَلِكَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ فَقُلْتُ أَيْنَ يَا أَبَا سُلَيْمَانَ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِيٌّ أَذْهَبُ وَاللَّهِ أُسْلِمُ فَحَتَّى مَتَى قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ قَالَ فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَسْلَمَ وَبَايَعَ الْحَدِيثَ وَفِي آخِرِهِ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَقَدْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ كَانَ مَعَهُمَا أَسْلَمَ حِينَ أَسْلَمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنا قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانے کا قصد کرکے روانہ ہوا، یہ فتح مکہ سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے، میری خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، وہ مکہ کی طرف سے آرہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ابو سلیمان! کدھر کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اب تو راستہ واضح اور نکھر چکا ہے اور وہ آدمی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی اللہ کا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر اسلام قبول کرتا ہوں، کب تک ادھر ادھر دھکے کھاتا رہوں گا۔ ان کی باتیں سن کر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی مسلمان ہونے اور اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔ چنانچہ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا پہنچے،سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے اسی حدیث کے ایک راوی ابن اسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک انتہائی با اعتماد آدمی نے بیان کیا کہ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۱۸۶۴)