حدیث نمبر: 11680
عَنْ ذَيَّالِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ عَنْ جَدِّ حَنْظَلَةَ بْنِ حِذْيَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ دَنَا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِي بَنِينَ ذَوِي لِحًى وَدُونَ ذَلِكَ وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُهُمْ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَمَسَحَ رَأْسَهُ وَقَالَ ”بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ أَوْ بُورِكَ فِيهِ“ قَالَ ذَيَّالٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْهُهُ أَوِ الْبَهِيمَةِ الْوَارِمَةِ الضَّرْعِ فَيَتْفُلُ عَلَى يَدَيْهِ وَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ وَيَقُولُ عَلَى مَوْضِعِ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَمْسَحُهُ عَلَيْهِ وَقَالَ ذَيَّالٌ فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حنظلہ بن حذیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب جا بٹھایا اور عرض کیا: میرے بیٹے باریش یعنی بڑی عمر کے بھی ہیں اور ان سے چھوٹے بھی ہیں،یہ سب سے چھوٹا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تمہارے اندر برکت فرمائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کو دیکھاکہ جب کسی آدمی کا چہرہ یا جانور کا تھن متورم ہو جاتا اور ایسے آدمی یا جانور کو سیدنا حنظلہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا جاتا اور وہ بسم اللہ کہہ کر اپنے سر کے اس حصے پر ہاتھ لگاتے، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی مبارک رکھی تھی اور اس کے بعد وہ اپنا ہاتھ اس بیمار آدمی یا جانور پر پھیرتے تو اس کا ورم زائل ہو جاتا۔
حدیث نمبر: 11681
عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ وَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین کے مقابلے کے لیے مقرر فرمایا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کہ ’’خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اللہ کا بہترین بندہ اور قوم کا بہترین فرد ہے ، یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین پر مسلط کیا ہے ۔‘‘
وضاحت:
فوائد: … یہ دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت تھی۔