حدیث نمبر: 11678
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يُنَافِحُ عَنْهُ بِالشِّعْرِ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھوایا تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر (کفار کے ہجو والے اشعار کے جواب میں) اشعار پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: حسان جب تک اللہ کے رسول کا دفاع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت تک روح القدس یعنی جبریل علیہ السلام کے ذریعے اس کی مدد فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 11679
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ”اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مشرکین کی ہجو کا جواب دو، جبریل تمہارے ساتھ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ شاعر اسلام اور شاعر رسول تھے، وہ اپنے کلام کے زور پر دشمنانِ رسول کو لاجواب کر دیتے تھے، اس سلسلے میں ان کو جبریل علیہ السلام کا تعاون بھی حاصل تھا۔
عہد نبوی میں دشمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اشعار کے ذریعے ان کی مذمت کی جاتی تھی اور یہ شعری مجموعے ان پر قیامت بن کر برستے تھے، جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بِالنَّبْلِ فِیْمَا تَقُوْلُوْنَ لَھُمْ مِنَ الشِّعْرِ۔)) (صحیحہ:۱۹۴۹) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے)جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔
عہد نبوی میں دشمنوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے اشعار کے ذریعے ان کی مذمت کی جاتی تھی اور یہ شعری مجموعے ان پر قیامت بن کر برستے تھے، جیسا کہ سیدنا کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَأَنَّمَا تَنْضَحُوْنَھُمْ بِالنَّبْلِ فِیْمَا تَقُوْلُوْنَ لَھُمْ مِنَ الشِّعْرِ۔)) (صحیحہ:۱۹۴۹) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! (دشمنوں کی مذمت کرتے ہوئے)جو تم شعر کہتے ہو یہ (ان پر) تیر برسانے کی طرح ہیں۔