کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11668
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نِمْتُ فَرَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَسَمِعْتُ صَوْتَ قَارِئٍ يَقْرَأُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا حَارِثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ“ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”كَذَاكَ الْبِرُّ كَذَاكَ الْبِرُّ“ وَكَانَ أَبَرَّ النَّاسِ بِأُمِّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سو گیا اور میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا اور میں نے وہاں قرآن پڑھتے ایک آدمی کی آواز سنی، میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتلایا کہ یہ حارثہ بن نعمان ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کے حق میں فرمایا: حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے، حسن سلوک کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یہ صحابی لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … واقعی ماؤںکے قدموں تلے جنت ہے، سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی قدر کی اور ایسا مرتبہ عطا کیا کہ جنت میں ان کی قرآن کی تلاوت کرنے کی آواز آرہی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11668
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه النسائي في الكبري : 8233، وعبد الرزاق: 20119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25851»
حدیث نمبر: 11669
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَجَزْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ وَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَلْ رَأَيْتَ الَّذِي كَانَ مَعِي“ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ (مسجد کے قریب) المقاعد جگہ میں بیٹھے تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور میں آگے گزر گیا، جب میں واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں سے واپس ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بیٹھے آدمی کو تم نے دیکھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبریل علیہ السلام تھے اور انہوں نے تمہارے سلام کا جواب دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ نے جبریل علیہ السلام کو انسانی شکل میں دیکھا، لیکن ان کو بعد میں پتہ چلا کہ وہ جبریل رضی اللہ عنہ تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11669
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه عبدالرزاق: 20545، والطبراني في الكبير : 3226 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24077»