حدیث نمبر: 11651
عَنْ جَابِرٍ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَعْنِي أَبَاهُ أَوِ اسْتُشْهِدَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَاسْتَعَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى غُرَمَائِهِ أَنْ يَضَعُوا مِنْ دَيْنِهِ شَيْئًا فَطَلَبَ إِلَيْهِمْ فَأَبَوْا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اذْهَبْ فَصَنِّفْ تَمْرَكَ أَصْنَافًا الْعَجْوَةَ عَلَى حِدَةٍ وَعِذْقَ زَيْدٍ عَلَى حِدَةٍ وَأَصْنَافَهُ ثُمَّ ابْعَثْ إِلَيَّ“ قَالَ فَفَعَلْتُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَلَى أَعْلَاهُ أَوْ فِي وَسَطِهِ ثُمَّ قَالَ ”كِلْ لِلْقَوْمِ“ قَالَ فَكِلْتُ لِلْقَوْمِ حَتَّى أَوْفَيْتُهُمْ وَبَقِيَ تَمْرِي كَأَنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور ان کے ذمے کافی قرض تھا، میں نے قرض خواہوں کو ادائیگی کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعاون کی درخواست کی کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ وہ اپنے قرض میں سے کچھ معاف کر دیں،لیکن ان لوگوں نے یہ رعایت دینے سے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر ہر قسم کی کھجور الگ الگ کر دو، عجوہ الگ رکھو، عذق زید الگ رکھو اور اس کے بعد مجھے اطلاع دو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق سارا کام کیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کے سب سے اونچے یا سب سے درمیان والے ڈھیر پربیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا: تم پیمانے بھر بھر کر ان لوگوں کو ادائیگی کرتے جاؤ۔ میں نے ایسے ہی کیا کہ پیمانے بھر بھر کر ان لوگوں کا قرض چکا دیا اور میری کھجوریں اسی طرح باقی رہیں گویا ان میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔
حدیث نمبر: 11652
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ شَهِدْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تُوُفِّيَ وَالِدِي وَتَرَكَ عَلَيْهِ عِشْرِينَ وَسْقًا تَمْرًا دَيْنًا وَلَنَا تُمْرَانٌ شَتَّى وَالْعَجْوَةُ لَا تَفِي بِمَا عَلَيْنَا مِنَ الدَّيْنِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَبَعَثَ إِلَى غَرِيمِي فَأَبَى إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ الْعَجْوَةَ كُلَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ“ فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَرِيشٍ لَنَا أَنَا وَصَاحِبَةٌ لِي فَصَرَمْنَا تَمْرَنَا وَلَنَا عَنْزٌ نُطْعِمُهَا مِنَ الْحَشَفِ قَدْ سَمُنَتْ إِذَا أَقْبَلَ رَجُلَانِ إِلَيْنَا إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرُ فَقُلْتُ مَرْحَبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرْحَبًا يَا عُمَرُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا جَابِرُ انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَطُوفَ فِي نَخْلِكَ هَذَا“ فَقُلْتُ نَعَمْ فَطُفْنَا بِهَا وَأَمَرْتُ بِالْعَنْزِ فَذُبِحَتْ ثُمَّ جِئْنَا بِوِسَادَةٍ فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوِسَادَةٍ مِنْ شَعْرٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَأَمَّا عُمَرُ فَمَا وَجَدْتُ لَهُ مِنْ وِسَادَةٍ ثُمَّ جِئْنَا بِمَائِدَةٍ لَنَا عَلَيْهَا رُطَبٌ وَتَمْرٌ وَلَحْمٌ فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ فَأَكَلَا وَكُنْتُ أَنَا رَجُلًا مِنْ نِشْوِيِّ الْحَيَاءِ فَلَمَّا ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ قَالَتْ صَاحِبَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعَوَاتٌ مِنْكَ قَالَ ”نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ“ قَالَ نَعَمْ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ ثُمَّ بَعَثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى غُرَمَائِي فَجَاءُوا بِأَحْمِرَةٍ وَجَوَالِيقَ وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي أَنْ أَشْتَرِيَ لَهُمْ مِنَ الْعَجْوَةِ أُوفِيهِمُ الْعَجْوَةَ الَّذِي عَلَى أَبِي فَأَوْفَيْتُهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنَ الْعَجْوَةِ وَفَضَلَ فَضْلٌ حَسَنٌ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُبَشِّرُهُ بِمَا سَاقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهُ قَالَ ”اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ“ فَقَالَ لِعُمَرَ ”إِنَّ جَابِرًا قَدْ أَوْفَى غَرِيمَهُ“ فَجَعَلَ عُمَرُ يَحْمَدُ اللَّهَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو المتوکل کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جا کر عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایسا واقعہ سنائیں جو آپ نے خود مشاہدہ کیا ہو، انہوں نے بیان کیا کہ میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ذمے بیس وسق کھجوروں کا قرض تھا (ایک وسق تقریباً۱۳۰ کلو کے برابر ہوتا ہے)، ہمارے پاس عجوہ اور مختلف قسم کی اتنی کھجوریں تھیں کہ ان سے ہمارا قرض پورا ادا نہ ہو سکتا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر صورت حال کا ذکر کیا، آپ نے میرے قرض خواہ کو پیغام بھیجا کہ وہ کچھ رعایت کر دے، مگر اس نے رعایت دینے سے انکار کیا اور اصرار کیا کہ وہ تو عجوہ کھجور ہی لے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر اسے عجوہ ہی کی ادائیگی کر دو۔ میں اور میری بیوی اپنے باغ میں گئے، ہم نے کھجوریں اتاریں،ہماری ایک بکری تھی جسے ہم ردی ردی کھجوریں کھلایا کرتے تھے۔ وہ کھجوریں کھا کھا کر خوب موٹی تازی ہو چکی تھی، میں نے اچانک دیکھا تو دو آدمی آرہے تھے، ایک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مرحبا، عمر! مرحبا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر! آؤ ہم تمہاری کھجوروں میں گھوم کر آئیں۔ میں نے عرض کیا: جی ٹھیک ہے۔ چنانچہ ہم نے باغ میں چکر لگایا اور میں نے بکری کے ذبح کرنے کا کہا، اس کو ذبح کر دیا گیا۔ پھر ہم بالوں کا بنا ہوا ایک تکیہ لائے جس کے اندر کھجور کی جالی بھر ی گئی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دینے کے لیے ہمارے پاس تکیہ دستیاب نہ ہو سکا، پھر ہم نے دستر خوان پر تازہ اور خشک کھجور اور گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، ان دونوں نے کھانا کھایا، میں اور ایک ایسا آدمی تھا کہ جھجک رہا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جانے لگے تو میری اہلیہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ تمہارے رزق میں برکت فرمائے گا، اللہ تمہارے رزق میں برکت فرمائے۔ اس کے بعد میں نے اپنے قرض خواہوں کو پیغام بھیجا، وہ گدھے اور بورے لے کر آگئے، میں پختہ ارادہ کر چکا تھا کہ ان کے لیے عجوہ یعنی عمدہ قسم کی کھجور خرید کر میں اپنے والد کے ذمے عجوہ کھجور کی ادائیگی کروں گا۔ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے پورے بیس وسق عجوہ کھجور کے پورے ادا کر دیئے اور کافی ساری کھجور بچ رہی۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوش خبری دی کہ کس طرح اللہ نے میرے مال میں برکت فرمائی۔ جب میں نے آپ کو یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ تیرا شکر ہے۔ آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بتلایا کہ جابر نے اپنے قرض خواہوں کو پورا پورا قرض ادا کر دیا ہے، وہ بھی اللہ کی تعریفیں کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 11653
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي قَالَ فَقَالَ ”آتِيكُمْ“ قَالَ فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ لَا تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَسْأَلِيهِ قَالَ فَأَتَانَا فَذَبَحْنَا لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا فَقَالَ ”يَا جَابِرُ كَأَنَّكُمْ عَرَفْتُمْ حُبَّنَا اللَّحْمَ“ قَالَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي أَوْ صَلِّ عَلَيْنَا قَالَ فَقَالَ ”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ“ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكِ قَالَتْ تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَلَا يَدْعُو لَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد کے ذمے قرض تھا، میں اس کی ادائیگی کے سلسلے میں تعاون کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے پاس آؤں گا۔ میں نے جا کر اپنی اہلیہ سے کہہ دیا کہ تم اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ نہ کہنا اور نہ کچھ مانگنا۔ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ کی تشریف آوری پر ہم نے ایک بکری ذبح کی، آپ نے گوشت دیکھ کر فرمایا: جابر! لگتا ہے تمہیں پتہ چل گیا کہ ہمیں گوشت پسند ہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر آپ جانے لگے تو میری اہلیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی: اے اللہ کے رسول! آپ میرے لیے اور میرے شوہر کے حق میں دعائے رحمت کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ ! ان پر رحمتیں نازل فرما۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی اہلیہ سے کہا، کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا؟ وہ بولی: تم جانتے ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے ہمارے ہاں تشریف لاتے اور ہمارے حق میں دعا نہیں فرماتے تھے، (اس لیے میں نے دعا کی درخواست کی)۔
حدیث نمبر: 11654
عَنْ سَالِمِ بْنِ الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَعَجَّلَ إِلَى أَهْلِي قَالَ ”أَفَتَزَوَّجْتَ“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا“ قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ ”فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ وَفِي رِوَايَةٍ تُلَاعِبُكَ وَتُلَاعِبُهَا وَتُضَاحِكُكَ وَتُضَاحِكُهَا“ قَالَ قُلْتُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ هَلَكَ وَتَرَكَ عَلَيَّ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَقَالَ ”لَا تَأْتِ أَهْلَكَ طُرُوقًا“ قَالَ وَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ فَاعْتَلَّ قَالَ فَلَحِقَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ فَقَالَ ”مَا لَكَ يَا جَابِرُ“ قَالَ قُلْتُ اعْتَلَّ بَعِيرِي قَالَ ”فَأَخَذَ بِذَنَبِهِ“ ثُمَّ زَجَرَهُ قَالَ فَمَا زِلْتُ إِنَّمَا أَنَا فِي أَوَّلِ النَّاسِ يَهُمُّنِي رَأْسُهُ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا فَعَلَ الْجَمَلُ“ قُلْتُ هُوَ ذَا قَالَ ”فَبِعْنِيهِ“ وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَكَ قَالَ ”بِعْنِيهِ“ وَفِي رِوَايَةٍ فَزَادَنِي قَالَ أَتَبِيعُنِيهِ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَكَ قُلْتُ هُوَ لَكَ قَالَ ”لَا قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ ارْكَبْهُ فَإِذَا قَدِمْتَ فَأْتِنَا بِهِ“ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ جِئْتُ بِهِ فَقَالَ ”يَا بِلَالُ زِنْ لَهُ أُوقِيَّةً وَزِدْهُ قِيرَاطًا“ قَالَ قُلْتُ هَذَا قِيرَاطٌ زَادَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا حَتَّى أَمُوتَ قَالَ فَجَعَلْتُهُ فِي كِيسٍ فَلَمْ يَزَلْ عِنْدِي حَتَّى جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ فَأَخَذُوهُ فِيمَا أَخَذُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، واپسی پر جب ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نئی نئی شادی ہوئی ہے، اجازت ہو تو میں ذرا جلدی یعنی دوسروں سے پہلے گھر چلا جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: وہ کنواری ہے یا بیوہ؟ میں نے عرض کیا: جی وہ بیوہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے کنواری سے نکاح کیوں نہیں کیا؟ وہ تمہارے ساتھ اور تم اس کے ساتھ خوب کھیلتے؟ ۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: تم اس کے ساتھ اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی، اور وہ تمہیں ہنساتی اور تم اسے ہنساتے۔ میں نے عرض کیا: (میرے والد) عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال اس حال میں ہوا ہے کہ ان کے بعد میری(سات) جوان بہنیں میری کفالت میں ہیں،میں نے ان پر ان کی ہم عمر عورت کو (بیوی کے طور پر لانا) مناسب نہیں سمجھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر رات کو یعنی بلا اطلاع نہ جانا۔ میں ایک اونٹ پر سوار تھا، و ہ بیمار پڑ گیا، میں سب سے پیچھے آہستہ آہستہ چلا جا رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے آ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرا اونٹ بیمار پڑ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دم پکڑ کراسے ذرا ڈانٹا، دیکھتے ہی دیکھتے میں سب سے آگے نکل گیا، میں اس کی مہار کو کھینچ کھینچ کر اس کے سر کو پیچھے کی طرف لاتا تاکہ اس کی رفتار ذرا کم ہو، جب ہم مدینہ منورہ کے قریب آ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا: جی یہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے میرے ہاتھ بیچ دو۔ دوسری روایت کے لفظ یوں ہیں: آپ نے فرمایا: اللہ تمہاری مغفرت کرے، کیا تم اسے میرے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں اسے آپ کے ہاتھ فروخت نہیں کرتا بلکہ یہ (بلاعوض) آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں بلا معاوضہ نہیں لوں گا، تم اسے میرے ہاتھ بیچ دو۔ ایک روایت میں ہے:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیمت میں پہلے سے اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا تم اتنے میں اسے میرے ہاتھ بیچتے ہو؟ اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ میں نے عرض کیا: یہ آپ ہی کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، میں اسے ایک اوقیہ سونے کے عوض خریدتا ہوں۔ مدینہ منورہ پہنچ کر اسے ہمارے حوالے کر دینا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب مدینہ منورہ پہنچا تو اونٹ کو آپ کی خدمت میں لے گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلال! تم ایک اوقیہ سونا اور مزید ایک قیراط تول کر اسے دے دو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: قیراط زائد سونا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عنایت فرمایا،یہ میرے مرنے تک میرے پاس رہے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اسے اپنی جیب میں یا تھیلی میں رکھتا تھا اور وہ میرے پاس ہی موجود رہا یہاں تک کہ حرہ کی لڑائی کے دن جب اہل شام آئے تو ہمارے ہاں سے لوٹے ہوئے مال میں اسے بھی لوٹ کے لے گئے۔
حدیث نمبر: 11655
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فَقَدْتُ جَمَلِي لَيْلَةً فَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشُدُّ لِعَائِشَةَ قَالَ فَقَالَ لِي ”مَا لَكَ يَا جَابِرُ“ قَالَ قُلْتُ فَقَدْتُ جَمَلِي أَوْ ذَهَبَ جَمَلِي فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ قَالَ فَقَالَ لِي ”هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ“ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي ”هَذَا جَمَلُكَ اذْهَبْ فَخُذْهُ“ قَالَ فَذَهَبْتُ نَحْوًا مِمَّا قَالَ لِي فَلَمْ أَجِدْهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُهُ قَالَ فَقَالَ لِي ”عَلَى رِسْلِكَ“ حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْجَمَلَ فَدَفَعَهُ إِلَيَّ قَالَ ”هَذَا جَمَلُكَ“ قَالَ وَقَدْ سَارَ النَّاسُ قَالَ ”فَبَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ عَلَى جَمَلِي فِي عُقْبَتِي“ قَالَ وَكَانَ جَمَلًا فِيهِ قِطَافٌ قَالَ قُلْتُ يَا لَهْفَ أُمِّي أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدِي يَسِيرُ قَالَ فَسَمِعَ مَا قُلْتُ قَالَ فَلَحِقَ بِي فَقَالَ ”مَا قُلْتَ يَا جَابِرُ قَبْلُ“ قَالَ فَنَسِيتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ مَا قُلْتُ شَيْئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَذَكَرْتُ مَا قُلْتُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَا لَهْفَاهُ أَنْ يَكُونَ لِي إِلَّا جَمَلٌ قَطُوفٌ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجُزَ الْجَمَلِ بِسَوْطٍ أَوْ بِسَوْطِي قَالَ فَانْطَلَقَ أَوْضَعَ أَوْ أَسْرَعَ جَمَلٍ رَكِبْتُهُ قَطُّ وَهُوَ يُنَازِعُنِي خِطَامَهُ قَالَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنْتَ بَائِعِي جَمَلَكَ هَذَا“ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ”بِكَمْ“ قَالَ قُلْتُ بِأُوقِيَّةٍ قَالَ قَالَ لِي ”بَخٍ بَخٍ كَمْ فِي أُوقِيَّةٍ مِنْ نَاضِحٍ وَنَاضِحٍ“ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا بِالْمَدِينَةِ نَاضِحٌ أُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا مَكَانَهُ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”قَدْ أَخَذْتُهُ بِأُوقِيَّةٍ“ قَالَ فَنَزَلْتُ عَنِ الرَّحْلِ إِلَى الْأَرْضِ قَالَ ”مَا شَأْنُكَ“ قَالَ قُلْتُ جَمَلُكَ قَالَ قَالَ لِي ”ارْكَبْ جَمَلَكَ“ قَالَ قُلْتُ مَا هُوَ بِجَمَلِي وَلَكِنَّهُ جَمَلُكَ قَالَ كُنَّا نُرَاجِعُهُ مَرَّتَيْنِ فِي الْأَمْرِ إِذَا أَمَرَنَا بِهِ فَإِذَا أَمَرَنَا الثَّالِثَةَ لَمْ نُرَاجِعْهُ قَالَ فَرَكِبْتُ الْجَمَلَ حَتَّى أَتَيْتُ عَمَّتِي بِالْمَدِينَةِ قَالَ وَقُلْتُ لَهَا أَلَمْ تَرَيْ أَنِّي بِعْتُ نَاضِحَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُوقِيَّةٍ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا أَعْجَبَهَا ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ نَاضِحًا فَارِهًا قَالَ ثُمَّ أَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ خَبَطٍ أَوْ أَجَرْتُهُ إِيَّاهُ ثُمَّ أَخَذْتُ بِخِطَامِهِ فَقُدْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُقَاوِمًا رَجُلًا يُكَلِّمُهُ قَالَ قُلْتُ دُونَكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَمَلَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِخِطَامِهِ ثُمَّ نَادَى بِلَالًا فَقَالَ ”زِنْ لِجَابِرٍ أُوقِيَّةً وَأَوْفِهِ“ فَانْطَلَقْتُ مَعَ بِلَالٍ فَوَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَى مِنَ الْوَزْنِ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ يُحَدِّثُ ذَلِكَ الرَّجُلَ قَالَ قُلْتُ لَهُ قَدْ وَزَنَ لِي أُوقِيَّةً وَأَوْفَانِي قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ ذَهَبْتُ إِلَى بَيْتِي وَلَا أَشْعُرُ قَالَ ”فَنَادَى أَيْنَ جَابِرٌ“ قَالُوا ذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ أَدْرِكْ ائْتِنِي بِهِ قَالَ فَأَتَانِي رَسُولُهُ يَسْعَى قَالَ يَا جَابِرُ يَدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ”فَخُذْ جَمَلَكَ“ قُلْتُ مَا هُوَ جَمَلِي وَإِنَّمَا هُوَ جَمَلُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”خُذْ جَمَلَكَ“ قَالَ فَأَخَذْتُهُ قَالَ فَقَالَ ”لَعَمْرِي مَا نَفَعْنَاكَ لِنُنْزِلَكَ عَنْهُ“ قَالَ فَجِئْتُ إِلَى عَمَّتِي وَالنَّاضِحُ مَعِي وَبِالْأُوقِيَّةِ قَالَ فَقُلْتُ لَهَا مَا تَرَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي أُوقِيَّةً وَرَدَّ عَلَيَّ جَمَلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات میرا اونٹ گم ہوگیا، اس کی تلاش میں میرا گزر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ہوا۔ آپ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ کو تیار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: رات اندھیری ہے اور میرا اونٹ گم ہو گیا ہے۔آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اونٹ وہاں ہے، جا کر اسے پکڑ لو۔ آپ نے جس طرح اشارہ فرمایا تھا، میں ادھر کو گیا لیکن اونٹ تو مجھے نہ ملا، میں آپ کی خدمت میں واپس آیا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے باپ اور ماں آپ پر فدا ہوں،مجھے تو اونٹ نہیں ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اونٹ وہیں ہے، جا کر اسے پکڑ لو۔ آپ نے جس طرف کا اشارہ کیا تھا، میں ادھر گیا، لیکن اونٹ مجھے نہ ملا، میں نے واپس آکر عرض کیا: اے اللہ کے نبی ! اللہ کی قسم! اونٹ مجھے تو نہیں ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا ٹھہرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کام سے فارغ ہو کر میرا ہاتھ پکڑا اور چل پڑے، یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے اونٹ کے پاس جا پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ میرے حوالے کیا اور فرمایا: یہ اونٹ ہے۔ لوگ آگے جا چکے تھے، میں اپنے اونٹ پر سوار چلا جا رہا تھا، میرا اونٹ سست رفتار تھا، میں کہہ رہا تھا کہ کس قدر افسوس ہے کہ میرا اونٹ سست رفتار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ آپ نے میری بات سن لی۔ آپ مجھ سے آن ملے۔ اور فرمایا۔جابر! ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ مجھے اپنی کہی ہوئی بات بھول چکی تھی۔ میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! میں نے تو کچھ نہیں کہا۔ پھر اچانک مجھے یہ بات یاد آگئی۔ تو میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی میں نے کہا تھا، افسوس! میرا اونٹ کس قدر سست ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کے پچھلے حصے پر اپنی یامیری لاٹھی ماری۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لاٹھی پڑتے ہی اونٹ اس قدر تیز دوڑا کہ میں آج تک کبھی بھی اس قدر تیز رفتار اونٹ پر سوار نہیں ہوا۔ وہ اپنی مہار مجھ سے چھڑاتا تھا اور قابو میں نہ آرہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اپنا یہ اونٹ میرے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کتنے ہیں؟ میں نے عرض کیا، کہ ایک اوقیہ سونے کے عوض۔ آپ نے فرمایا بہت خوب، ایک اوقیہ کے کتنے اونٹ آتے ہیں؟ میں نے عرض کیا، اللہ کے نبی! پورے مدینہ میں ہمیں کوئی اونٹ اس سے زیادہ پیارا نہیں لگتا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک اوقیہ کے بدلے یہ اونٹ میں نے لے لیا۔یہ سنتے ہی میں اونٹ سے نیچے اتر آیا۔ آپ نے فرمایا: کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ اب یہ اونٹ میرا نہیں بلکہ آپ کا ہے۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے اونٹ پر سوار ہو جاؤ۔ میں نے کہا، اب یہ اونٹ میرا نہیں رہا۔ بلکہ آپ کا ہو چکا ہے۔ ہم نے دو مرتبہ یہ باتیں دہرائیں۔ اور تیسری دفعہ نہ دہرائی۔ اور میں اونٹ پر سوار ہو گیا۔ مدینہ منورہ جا کر میں اپنی پھوپھی جان کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ دیکھیں میں نے یہ اونٹ ایک اوقیہ سونے کے عو ض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ یہ سودا انہیں اچھا نہیں لگا، دراصل وہ اونٹ بڑا تیز اور طاقت ور تھا،میں نے ایک درخت کے پتے جھاڑ کر اونٹ کو کھلائے اور اس کی مہار پکڑ کر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر نے چلا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے ساتھ محو گفتگو تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ اپنا یہ اونٹ سنبھال لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کی مہار پکڑ لی اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم جابر کوایک اوقیہ سونا تول دو اور کچھ زیادہ دے دینا۔ میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا، انہوں نے ایک اوقیہ سونا مجھے تول کر مزید بھی دے دیا، میں قیمت وصول کرکے واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک اس آدمی کے ساتھ محوکلام تھے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: بلال رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک اوقیہ سونا اور کچھ مزید دے دیا ہے۔ آپ وہیں کھڑے تھے اور میں اپنے گھر کی طرف چل دیا۔ میں اپنے خیالوں میں جا رہا تھا کہ آپ نے آواز دی: جابر کہاں ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ وہ تو اپنے گھر چلا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جاؤ اور اسے میرے پاس بلا لاؤ۔ آپ کا قاصد دوڑتا ہوا میرے پاس آیا۔ اس نے کہا: جابر! آپ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلایا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا اونٹ لے جاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ میرا نہیں بلکہ اب تو آپ کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا اونٹ لے جاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اب یہ اونٹ میرا نہیں، بلکہ آپ کا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا اونٹ لے جاؤ۔ چنانچہ میں نے اونٹ لے لیا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے سوچا کہ اگر ہم آپ کے اس سودے سے منحرف ہوتے ہیں تو یہ بات ہمارے حق میں قطعاً مفید نہیں۔چنانچہ میں اپنی پھوپھی جان کے پاس گیا، اونٹ میرے ساتھ تھااور ایک اوقیہ سونا بھی میرے پاس تھا۔ میں نے پھوپھی جان کو بتلایا کہ دیکھیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک اوقیہ سونا بھی دیا ہے اور میرا اونٹ بھی مجھے واپس کر دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی منقبت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ان کے مقام کا پتہ چلتا ہے۔