کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مؤذن رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11646
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ“ فَقَالَ بِلَالٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم ایسا کون سا عمل کرتے ہو کہ تمہیں اسلام میں اس کے بہت زیادہ نفع یعنی ثو اب کی امید ہو؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔ سیدنا بلا ل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے اسلام میں اور تو کوئی ایسا عمل نہیں کیا، جس پر مجھے یہ ثواب ملا ہو،البتہ میرا معمول ہے کہ میں دن رات میں جب بھی وضو کرتا ہوں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ مجھے جس قدر توفیق دیتا ہے، میں نماز ادا کر لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11646
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2458 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9670»
حدیث نمبر: 11647
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ ”بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ“ فَقَالَ مَا أُحْدِثُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بِهَذَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے،البتہ اس میں یہ وضاحت ہے: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم کس عمل کی بدولت جنت میں مجھ سے پہلے پہنچ گئے۔ انہوں نے عرض کیا: میں کوئی خاص عمل تو نہیں کرتا البتہ جب بھی بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کرتا ہوں اور پھر دور رکعت نماز ادا کرتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس اسی عمل کی وجہ سے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو احادیث سے ثابت ہوا کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا وصف یہ تھا کہ وہ جب بے وضو ہوتے تھے تو وضو کرتے اور دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔
عام لوگوںمیں صرف یہ مشہور ہے کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ باقاعدگی کے ساتھ تحیۃ الوضوء پڑھا کرتے تھے، لیکن ان کا مکمل عمل یہ تھا کہ وہ جب بھی بے وضو ہوتے تو فوراً وضو کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11647
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الترمذي: 3689 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23384»
حدیث نمبر: 11648
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِهَا وَجْسًا قَالَ ”يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا“ قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ ”قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جس رات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف سے ہلکی سی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے جبریل! یہ آواز کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بلال مؤذن ہے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ہے،میں نے اس کے لیےیہ کچھ دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11648
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، قابوس مختلف فيه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2324»
حدیث نمبر: 11649
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا حَبَسَكَ“ فَقَالَ مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي فَقُلْتُ لَهَا إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَى وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ وَكَفَيْتِنِي الرَّحَى فَقَالَتْ أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ فَذَاكَ حَبَسَنِي قَالَ ”فَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللَّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نمازِ فجر سے پیچھے رہ گئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہاں رک گئے تھے؟ انھوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرا، وہ چکی چلا رہی تھیں اور بچہ رو رہا تھا۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ چاہیں تو میں چکی چلا دوں اور آپ بچے کو سنبھالیں یا میں بچے کو سنبھال لوں اور آپ چکی چلائیں، انھوں نے کہا: تمہاری نسبت بچے پر میں زیادہ شفیق اور مہربان ہوں، تو اس کام نے مجھے نماز سے دیر کرا دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا پر شفقت کی، اللہ تم پر رحم فرمائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11649
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، عمار بن عمارة لم يدرك انسا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12552»
حدیث نمبر: 11650
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ شَاعِرًا قَالَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِلَالُ عَبْدُ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ كَذَبْتَ ذَاكَ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کے بیٹے بلال کی وفات پر ایک قصیدہ پڑھتے ہوئے کہا: عبد اللہ کا بلال، بہترین بلال تھا۔یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو، یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بلال تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حق گوئی اور حق پسندی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11650
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عمر بن حمزه، اخرجه ابن ماجه: 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5638»