حدیث نمبر: 11634
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ وَكَانَ صَائِمًا فَقَالَ ”أَعِيدُوا تَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ وَسَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ“ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثُمَّ دَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَلِأَهْلِهَا بِخَيْرٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً قَالَ ”وَمَا هِيَ“ قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ قَالَ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ وَقَالَ ”اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ“ قَالَ فَمَا مِنَ الْأَنْصَارِ إِنْسَانٌ أَكْثَرُ مِنِّي مَالًا وَذَكَرَ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً غَيْرَ خَاتَمِهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّ ابْنَتَهُ الْكُبْرَى أُمَيْنَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ دُفِنَ مِنْ صُلْبِهِ إِلَى مَقْدَمِ الْحَجَّاجِ نَيِّفًا عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے آپ کی خدمت میں کھجوریں اور گھی پیش کیا،لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روزے سے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کھجوریں ان کے تھیلے میں اور گھی اس کے ڈبے میں واپس رکھ دو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہو کر دو رکعتیں ادا کیں، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔ پھر آپ نے سیدنا ام سلیم رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کے حق میں برکت کی دعا کی۔ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ایک خصوصی درخواست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خادم سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہے، اس کے حق میں خصوصی دعا کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا و آخرت کی ہر خیر کی میرے حق میں دعا کر دی اور فرمایا: یا اللہ! اسے بہت سا مال اور اولاد عنایت فرما اور اس کے لیے ان میں برکت فرما۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ تمام انصار میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ دولت نہیں، جبکہ اس سے پہلے ان کے پاس صرف ایک انگوٹھی تھی اور ان کی بڑی بیٹی امینہ نے بتلایا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کے آنے سے پہلے تک اپنی اولاد میں سے تقریباً ایک سو پچیس چھبیس افراد کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: یہ حدیث کئی فوائد پر مشتمل ہے، بعض یہ ہیں: (۱) مال و اولاد میں کثرت کی دعا مشروع ہے، امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: الدعاء بکثرۃ المال والولد مع البرکۃ۔
(۲) اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے تو مال و اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور بہترین چیزیں ہیں، وہ لوگ کتنے گمراہ ہیں جو بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے ہیں۔
(۳) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اوروہ سب سے زیادہ مال و اولاد والے انصاری ثابت ہوئے۔ (صحیحہ: ۱۴۱)
! اتنے بچوں کے فوت ہونے کی برکت یہ ہے کہ یہ سب کے سب والدین کے لیے ذخیرہ آخرت بن جائیں گے۔ ان کی زندہ اولاد اور اولاد کی اولاد کی تعداد بھی ایک صد سے متجاوز تھی۔ (فتح الباری) (عبداللہ رفیق)
(۲) اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے تو مال و اولاد اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور بہترین چیزیں ہیں، وہ لوگ کتنے گمراہ ہیں جو بچوں کی تعداد کم کرنے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے ہیں۔
(۳) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی اوروہ سب سے زیادہ مال و اولاد والے انصاری ثابت ہوئے۔ (صحیحہ: ۱۴۱)
! اتنے بچوں کے فوت ہونے کی برکت یہ ہے کہ یہ سب کے سب والدین کے لیے ذخیرہ آخرت بن جائیں گے۔ ان کی زندہ اولاد اور اولاد کی اولاد کی تعداد بھی ایک صد سے متجاوز تھی۔ (فتح الباری) (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 11635
عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ“ قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَنِي بَعْضُ وَلَدِي أَنَّهُ قَدْ دُفِنَ مِنْ وَلَدِي وَوَلَدِ وَلَدِي أَكْثَرُ مِنْ مِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ انس آپ کا خادم ہے، آپ اس کے حق میں اللہ سے دعا کر دیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا کی: یا اللہ! اس کے مال اور اولاد میں اضافہ کر اور تو اسے جو کچھ عطا کرے، اس میں برکت فرما۔ راویٔ حدیث حجاج نے اپنی حدیث میں ذکر کیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میری اولاد میں سے بعض نے مجھے بتلایا کہ میری اولاد اور اولاد کی اولاد میں سے ایک سو سے زائد لوگ دفن کیے جا چکے ہیں۔
حدیث نمبر: 11636
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَحْسَنَ النَّاسِ صَلَاةً فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن سیرین کا بیان کا ہے کہ سفر و حضرمیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خوبصورت نماز ادا کرنے والے تھے۔
حدیث نمبر: 11637
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ وَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَاكَذَا وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَاكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ہجرت کے بعد) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑکر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انس رضی اللہ عنہ ایک سمجھداراور ہوشیار بچہ ہے، یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔ چنانچہ میں (انس) نے سفر و حفر میں دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت سر انجام دی ۔ اللہ کی قسم! میں نے کوئی کام کر لیا تو آپ نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا؟یا اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یہ نہ فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 11638
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِيَدِي مَقْدَمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَتْ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي وَهُوَ غُلَامٌ كَاتِبٌ قَالَ فَخَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ قَطُّ صَنَعْتُهُ أَسَأْتَ أَوْ بِئْسَ مَا صَنَعْتَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو میری والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا میرا ہاتھ پکڑے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اور کہا: اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا لکھنا پڑھنا جانتا ہے۔ (اسے اپنی خدمت کے لیے قبول فرمائیں) چنانچہ میں نے آپ کی نو برس تک خدمت کی، میں نے کوئی کام کیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے یوں نہ فرمایا کہ تونے برا کام کیا ہے، یا تو نے غلط کام کیا ہے۔
حدیث نمبر: 11639
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ الْعَسَلَ وَالْمَاءَ وَاللَّبَنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہد، پانی اور دودھ، بلکہ ہر قسم کا مشروب پلایا ہے۔
حدیث نمبر: 11640
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ فَانْتَهَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَرَجَعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي بَعْدَ السَّاعَةِ الَّتِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهَا فَقَالَتْ لِي أُمِّي مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقَالَتْ أَيُّ حَاجَةٍ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ يَا أُمَّاهُ إِنَّهَا سِرٌّ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَ ثَابِتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ أَوْ تَذْكُرُهَا قَالَ إِي وَاللَّهِ وَإِنِّي لَا أَذْكُرُهَا وَلَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ لَحَدَّثْتُكَ بِهَا يَا ثَابِتُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثابت بنانی سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے روانہ ہو کر اپنے اہل کی طرف چلا اورراستے میں کھیلتے ہوئے بچوں کے پاس سے گزرا، مجھے ان کا کھیل اچھا لگاتو میں وہاں رک کر انہیں دیکھنے لگا، میں ابھی وہیں کھڑاتھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر بچوں کو سلام کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے روانہ فرمایا، میں کام کرکے واپس آیا تو اپنے سابقہ معمول سے ہٹ کر ذرا لیٹ گھر پہنچا، تو میری والدہ نے مجھ سے دریافت کیا: بیٹے! کہاں دیر ہوگئی تھی؟ میں نے عرض کیا: امی جان! یہ ایک راز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ ثابت کہتے ہیں، میں نے عرض کیا: ابو حمزہ! کیا آج بھی آپ کو وہ کام یاد ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم یاد رہے، لیکن میں بتاؤں گا نہیں۔ ثابت! اگر لوگوں میں سے کسی کو میں نے وہ بتانا ہوتا تو تمہیں ضرور بتلا دیتا۔
حدیث نمبر: 11641
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ وَمَاتَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت میری عمر دس سال تھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو اس وقت میری عمر بیس برس تھی۔
حدیث نمبر: 11642
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عُمِّرَ مِائَةَ سَنَةٍ غَيْرَ سَنَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمید سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عمر ننانوے سال تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب معلوم ہوئے نیز معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادۂ انس کے ساتھ خصوصی روابط اور تعلقات تھے، آپ وقتاً فوقتاً ان کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے۔
امام البانی نے ایک حدیث کی تخریج کرتے ہوئے یہ حدیث بھی بیان کی: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا چھوٹا سا خادم ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کا مال اور اولاد زیادہ کر دے اور اس کی عمر لمبی کر اور اس کے گناہ بخش دے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی اولاد میں سے اٹھانوے یا ایک سو دو افراد دفن کیے اور میرے درختوں کو سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور میں نے اتنی لمبی عمر پائی کہ زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا (اور ایک روایت میں ہے کہ میں لمبی زندگی کی وجہ سے) لوگوں سے شرماتا تھا، (یہ تین دعائیں پوری ہوگئیں اور اب) مجھے چوتھی دعا (جو میری بخشش پر مشتمل تھی، کے قبول ہونے کی امید ہے)۔ (ابن سعد: ۷/ ۱۹، الأدب المفرد للبخاری: ۶۵۳)
معلوم ہوا کہ کسی انسان کے لیے طویل عمر کی دعا کی جا سکتی ہے، جیسا کہ عرب کے بعض علاقوں کے لوگوں کی عادت ہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۱)
یہ احادیث ِ مبارکہ اعلامِ نبوت میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار دعائیں کیں، جن تین کا تعلق دنیا سے تھا، وہ تو پہلی صدی ہجری میں ہی پوری ہو گئی تھیں، مغفرت کا تعلق آخرت سے ہے، جس کی قبولیت کی امید ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ننانوے یا ایک سو تینیا ایک سو سات سال عمر پائی، دوسرا قول راجح ہے، اکانوے یا ترانے سن ہجری میں بصرہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی آپ ہی تھے۔ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ صاحب ِ اولاد آپ ہی تھے۔ ۷۵ھمیں جب حجاج بصرہ میں آیا تھا، اس وقت تک ان کے بیٹے اور بیٹیوں میں سے (۱۲۰) سے زائد افراد دفن کیے جا چکے تھے اور زندہ بچ جانے والوں کی تعداد سو سے زیادہ تھی۔ مال و دولت میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت برکت ڈالی تھی، انصاریوں میں سب سے زیادہ مالدار آپ تھے، ان کے ایک باغ میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور اس میں ایسے پھول تھے، جن سے کستوری کی خوشبو آتی تھی، ابو نعیم نے الحلیۃ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا: میری زمین میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا، ہمارے علاقے میں یہ خصوصیت کسی اور خطۂ زمین کی نہ تھی۔
امام البانی نے ایک حدیث کی تخریج کرتے ہوئے یہ حدیث بھی بیان کی: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ماں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا چھوٹا سا خادم ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے دعا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کا مال اور اولاد زیادہ کر دے اور اس کی عمر لمبی کر اور اس کے گناہ بخش دے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی اولاد میں سے اٹھانوے یا ایک سو دو افراد دفن کیے اور میرے درختوں کو سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور میں نے اتنی لمبی عمر پائی کہ زندگی سے دل اچاٹ ہو گیا (اور ایک روایت میں ہے کہ میں لمبی زندگی کی وجہ سے) لوگوں سے شرماتا تھا، (یہ تین دعائیں پوری ہوگئیں اور اب) مجھے چوتھی دعا (جو میری بخشش پر مشتمل تھی، کے قبول ہونے کی امید ہے)۔ (ابن سعد: ۷/ ۱۹، الأدب المفرد للبخاری: ۶۵۳)
معلوم ہوا کہ کسی انسان کے لیے طویل عمر کی دعا کی جا سکتی ہے، جیسا کہ عرب کے بعض علاقوں کے لوگوں کی عادت ہے۔ (صحیحہ: ۲۲۴۱)
یہ احادیث ِ مبارکہ اعلامِ نبوت میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار دعائیں کیں، جن تین کا تعلق دنیا سے تھا، وہ تو پہلی صدی ہجری میں ہی پوری ہو گئی تھیں، مغفرت کا تعلق آخرت سے ہے، جس کی قبولیت کی امید ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے ننانوے یا ایک سو تینیا ایک سو سات سال عمر پائی، دوسرا قول راجح ہے، اکانوے یا ترانے سن ہجری میں بصرہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی آپ ہی تھے۔ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ صاحب ِ اولاد آپ ہی تھے۔ ۷۵ھمیں جب حجاج بصرہ میں آیا تھا، اس وقت تک ان کے بیٹے اور بیٹیوں میں سے (۱۲۰) سے زائد افراد دفن کیے جا چکے تھے اور زندہ بچ جانے والوں کی تعداد سو سے زیادہ تھی۔ مال و دولت میں بھی اللہ تعالیٰ نے بہت برکت ڈالی تھی، انصاریوں میں سب سے زیادہ مالدار آپ تھے، ان کے ایک باغ میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا اور اس میں ایسے پھول تھے، جن سے کستوری کی خوشبو آتی تھی، ابو نعیم نے الحلیۃ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا: میری زمین میں سال میں دو دفعہ پھل لگتا تھا، ہمارے علاقے میں یہ خصوصیت کسی اور خطۂ زمین کی نہ تھی۔