کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا اسید بن حضیر کی فضیلت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11628
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَرَجُلًا آخَرَ مِنَ الْأَنْصَارِ تَحَدَّثَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فِي حَاجَةٍ لَهُمَا حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ سَاعَةٌ وَلَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ ثُمَّ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْقَلِبَانِ وَبِيَدِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عُصَيَّةٌ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا لَهُمَا حَتَّى مَشَيَا فِي ضَوْئِهَا حَتَّى إِذَا افْتَرَقَ بِهِمَا الطَّرِيقُ أَضَاءَتْ لِلْآخَرِ عَصَاهُ فَمَشَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ضَوْءِ عَصَاهُ حَتَّى بَلَغَ إِلَى أَهْلِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری شخص (عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) رات کو دیر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے،یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا، جبکہ رات بھی سخت اندھیری تھی۔ پھرجب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں سے اٹھ کر واپس چلے تو دونوں کے پاس ایک ایک لاٹھی تھی، ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور اس طرح وہ دونوں اپنی اپنی لاٹھی کی روشنی میں اپنے گھر پہنچ گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11628
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه البخاري: 465، 3639، 3805 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12431»
حدیث نمبر: 11629
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَعَبَّادَ بْنَ بِشْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ ظَلْمَاءَ حِنْدِسٍ فَخَرَجَا مِنْ عِنْدِهِ فَأَضَاءَتْ عَصَا أَحَدِهِمَا فَجَعَلَا يَمْشِيَانِ فِي ضَوْئِهَا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا الْآخَرِ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا فَلَمَّا تَفَرَّقَا أَضَاءَتْ عَصَا ذَا وَعَصَا ذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ایک سخت اندھیری رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے رہے، وہ آپ کے ہاں سے اٹھ کر گئے تو ان میں سے ایک کی لاٹھی روشن ہوگئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے گئے، آگے جا کر جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو دوسرے کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی۔ حماد راوی نے یوں کہا ہے کہ جب ان کے راستے الگ الگ ہوئے تو اس کی لاٹھی روشن تھی اور دوسرے کی بھی روشن ہوگئی۔
وضاحت:
فوائد: … یقینایہ ان دو صحابہ کی کراستانہ فضیلت اور منقبت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13906»
حدیث نمبر: 11630
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأَ رَجُلٌ الْكَهْفَ وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّهَا السَّكِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … امام نووی نے کہا: سکینت کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں، راجح معنییہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور اس میں اطمینان اور رحمت پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ فرشتے بھی ہوتے ہیں۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے یہ صحابی سیدنا اسید بن حضیر تھے، جیسا کہ درج ذیل مفصل روایت سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:اَنَّ اُسَیْدَ بْنِ حُضَیْرٍ رضی اللہ عنہ بَیْنَمَا ھُوَ لَیْلَۃًیَقْرَأُ فِی مِرْبَدِہِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُہُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرٰی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَیْضًا، فَقَالَ أُسَیْدٌ: فَخَشِیتُ أَنْ تَطَأَ یَحْیٰییَعْنِی ابْنَہُ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فَوْقَ رَأْسِی فِیہَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَیْنَمَا أَنَا الْبَارِحَۃَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ أَقْرَأُ فِی مِرْبَدِی إِذْ جَالَتْ فَرَسِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَیْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ۔)) فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ یَحْیٰی قَرِیبًا مِنْہَا فَخَشِیتُ أَنْ تَطَأَہُ فَرَأَیْتُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ رَآہَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْہُمْ۔)) (صحیح مسلم: ۷۹۶، صحیح بخاری معلقا: ۵۰۱۸ بصیغۃ الجزم، واللفظ لاحمد) … ایک رات کو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اپنے باڑے میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے، اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، (وہ چپ ہو گئے)، پھر جب انہوں نے قراء ت شروع کی تو وہ پھر بدکنے لگا، بس جب بھی پڑھنے لگتے تو وہ بدکنے لگ جاتا، سیدنا اسید کہتے ہیں مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ وہ میرے بیٹےیحییٰ کو کچل دے گا، پس میں بیٹے کو پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا، میں نے دیکھا کہ میرے اوپر بادل کی مانند سائبان تھا، جس میں چراغ روشن تھے، جو فضا میں چڑھتا جا رہا تھا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں گزشتہ رات
کے آخر میں اپنے باڑے میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا، اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، پھر آگے ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن گھوڑا پھر بدکنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: میں پڑھتا تو پھر گھوڑا بدکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ جی میں نے پڑھا، لیکن میرا بیٹایحییٰ قریب پڑا تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑا اسے کچل دے گا، پھر میں نے سائبان کی مانند چیز دیکھی، جس میں چراغ جگمگا رہے ہیں اور وہ فضا میں بلند ہو رہی ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم قراء ت صبح تک جاری رکھتے تو لوگ انہیں دیکھتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بہت خوبصورت آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، ان احادیث میں سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی امتیازی فضیلت کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3614، ومسلم: 795 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18666»
حدیث نمبر: 11631
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ وَكَانَ يَقُولُ لَوْ أَنِّي أَكُونُ كَمَا أَكُونُ عَلَى أَحْوَالٍ ثَلَاثٍ مِنْ أَحْوَالِي لَكُنْتُ حِينَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَحِينَ أَسْمَعُهُ يُقْرَأُ وَإِذَا سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا شَهِدْتُ جِنَازَةً وَمَا شَهِدْتُ جِنَازَةً قَطُّ فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِسِوَى مَا هُوَ مَفْعُولٌ بِهَا وَمَا هِيَ صَائِرَةٌ إِلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہا کرتی تھیں کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہا افضل ترین لوگوں میں سے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ تین مواقع پر میری جو کیفیت ہوتی ہے، اگر میں اسی حالت پر برقرار رہوں تو یقینا جنتی ہوں گا: (۱)جب میں قرآن کی تلاوت خود کر رہا ہوں یا کسی سے سن رہا ہوں، (۲)جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنتا ہوں اور (۳)جب میں کسی جنازہ میں شریک ہوتا ہوں تو میری تمام تر توجہ اس طرف ہوتی ہے کہ اس شخص کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11631
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف محمد بن عبد الله، اخرجه الطبراني في الكبير : 554، والحاكم: 3/288 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19303»
حدیث نمبر: 11632
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ مَا لَكَ تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ صَدَقْتِ لَعَمْرِي حَقِّي أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ قَالَتْ قُلْتُ لَهُ مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ“ قَالَتْ وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ہم حج یا عمرہ سے واپس آئے تو اہل مدینہ نے ذوالحلیفہ میں آکر ہمارا استقبال کیا، انصار کے لڑکے بھی اپنے گھر والوں کو ملنے آئے، جب ان کی سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ان کو ان کی اہلیہ کی وفات کی خبر دی، انہوں نے اپنے چہرے پر کپڑا ڈال لیا اور رونے لگ گئے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ کو بہت سی فضیلتیں حاصل ہیں۔ آپ بیوی کی وفات پر اس قدر کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹا کر کہا: آپ نے درست کہا ہے، واقعی حق تو یہ ہے کہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی پر نہ روؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں بہت کچھ فرمایا ہے۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے ان سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ کا عرش سعد بن معاذ کی وفات پر جھوم گیا۔ سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ بات بیان کرتے وقت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عمرو بن علقمة، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/142، و الحاكم: 3/ 207 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19305»