کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 11622
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَمَّرَ أُسَامَةَ بَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ يَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَيَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ فَقَامَ كَمَا حَدَّثَنِي سَالِمٌ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ تَعِيبُونَ أُسَامَةَ وَتَطْعَنُونَ فِي إِمَارَتِهِ وَقَدْ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَإِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ كُلِّهِمْ إِلَيَّ وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا بَعْدَهُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ فَاسْتَوْصُوا بِهِ خَيْرًا فَإِنَّهُ مِنْ خِيَارِكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سربراہ مقرر فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ لوگ اسامہ رضی اللہ عنہ کے سربراہ بننے پر اعتراض کرتے ہیں اور ان کو امیر بنائے جانے پر طعن کرتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر فرمایا: تم لوگ اسامہ کو سربراہِ لشکر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو اور ان کو امیر بنائے جانے پر طنز کرتے ہو، یہی کام تم نے اس سے قبل اس کے والد کے بارے میں بھی کیا تھا، حالانکہ وہ امیر بنائے جانے کا بجا طور پر حق دار تھا۔ اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی تھا، اس کے بعد اس کا یہ بیٹامجھے سب سے زیادہ پیارے لوگوں میں سے ہے، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں، یہ تمہارے بہترین لوگوں میں سے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۷۴)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ کے آخری ایام میں ایک لشکر ترتیب دے کر سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا، چونکہ یہ غلام خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور رنگت بھی سیاہ تھی، اس لیے کچھ لوگوں نے ان کو امیر بنائے جانے پر باتیں بنائیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا کہ تم لوگوں کو اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر اعتراض ہے اور اس سے پہلے اس کے والد پر بھی اعتراض کرتے تھے، یاد رکھو کہ امارت کا حق دار یہی ہے اور مجھے سب سے زیادہ پیارا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11622
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3730،4250، ومسلم: 2426 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5630»
حدیث نمبر: 11623
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُسَامَةُ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ مَا حَاشَا فَاطِمَةَ وَلَا غَيْرَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ محبوب اسامہ (بن زید) ہے، فاطمہ وغیرہ کے علاوہ۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شدید محبت کا اظہار ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11623
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه البخاري: 4468، وليس فيه ما حاشا فاطمة ولا غيرھا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5707»
حدیث نمبر: 11624
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ مَعِيَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَصْمَتَ فَلَا يَتَكَلَّمُ فَجَعَلَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ يَصُبُّهَا عَلَيَّ أَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ بیمار ہو گئے تو میں اور میرے رفقاء ہم سب مدینہ کے ایک نواح میں ٹھہر گئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالکل خاموش تھے اور شدت مرض کی وجہ سے بول نہ سکتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر میری طرف جھکا کر اشارہ کرتے۔ میں جان گیا کہ آپ میرے حق میں دعائیں کر رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11624
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الترمذي: 3817 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22098»
حدیث نمبر: 11625
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا تَمِيمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ يُحَدِّثُهُ أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَضُمُّنَا ثُمَّ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَرْحَمُهُمَا“ قَالَ أَبِي قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ هُوَ السَّلِّيُّ مِنْ عَنَزَةَ إِلَى رَبِيعَةَ يَعْنِي أَبَا تَمِيمَةَ السَّلِّيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور دوسری ران پر سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں اپنے سینے سے چمٹا کر فرماتے: یا اللہ! میں ان پر شفقت کرتا ہوں تو بھی ان پر رحم فرما دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11625
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22130»
حدیث نمبر: 11626
عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَبْغُضَ أُسَامَةَ بَعْدَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو،وہ اسامہ سے محبت رکھے۔ اس فرمان کے بعد کسی کے لیے اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنا روا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11626
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25748»
حدیث نمبر: 11627
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَثَرَ بِأُسْكُفَّةِ أَوْ عَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمِيطِي عَنْهُ أَوْ نَحِّي عَنْهُ الْأَذَى“ قَالَتْ فَتَقَذَّرْتُهُ قَالَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ ثُمَّ يَمُجُّهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَكَسَوْتُهُ وَحَلَّيْتُهُ حَتَّى أُنْفِقَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ دروازے کی چوکھٹ میں گر پڑے اور ان کی پیشانی پر زخم آگیا۔ (اور ایک روایت میں یوں ہے کہ خون بہنے لگا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اس کی پیشانی سے خون صاف کر دو۔ لیکن مجھے کچھ کراہت سی محسوسی ہوئی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود شروع ہو گئے اور زخم کو چوس کر تھوکتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اسامہ رضی اللہ عنہ لڑکی ہوتا تو میں اسے اچھے اچھے کپڑے اور زیور پہنا کر اس قدر خوب صورت بنا دیتا کہ لوگ اس سے شادی کرنے میں رغبت کا اظہار کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب فى فضائل بعض الصحابة الكرام / حدیث: 11627
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن بطرقه، اخرجه ابن ماجه: 1976 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26386»