کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دختران رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11380
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا يَدْخُلِ الْقَبْرَ رَجُلٌ قَارَفَ أَهْلَهُ“ فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْقَبْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے آج رات اپنی بیوی سے ہم بستری کی ہو وہ قبر میں داخل نہ ہو۔ پس سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قبر میں داخل نہ ہوئے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح بالترتیب انکے چچا زادوں عتبہ بن ابی لہب اور عتیبہ بن ابی لہب سے ہوا، لیکن جب سورۂ لہب نازل ہوئی اور انھوں نے ابو لہب کی مذمت سنی تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بغض کا ثبوت دیتے ہوئے ہم بستری سے پہلے ہی ان دونوں بیٹیوں کو طلاق دے دی تھی، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان سمیتحبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، پھر مکہ واپس لوٹ آئے اورپھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر میں مصروف تھے، اس وقت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان ہی کی خدمت کی وجہ سے غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ بدر سے لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے ذریعے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دوبارہ داماد بنا لیا، اس لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ذو النورین کہتے ہیں، لیکن زندگی نے ساتھ نہ دیا اور شعبان (۹) سن ہجری میں سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر محرم اور اجنبی بھی عورت کو دفنا سکتا ہے، کیونکہ سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال کسی میت کی تدفین کے سب سے زیادہ مستحق اس کے رشتہ دار ہیں، جیسا کہ ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: {وَاُلُوْا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ} (سورۂ انفال: ۷۵) یعنی: اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ مستحق ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیّدنا علی، سیّدنا عباس، سیّدنا فضل اور مولائے رسول سیّدنا صالح نے دفنایا تھا، اگر رشتہ دار نہ ہوں یا معذور ہوں تو دوسرے لوگوں کو تعاون کرنا چاہیے۔ نیزیہ بھی پتہ چلا کہ قبر میں اترنے والے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس نے گزشتہ رات کو حق زوجیت ادا نہ کیا ہو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر محرم اور اجنبی بھی عورت کو دفنا سکتا ہے، کیونکہ سیّدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال کسی میت کی تدفین کے سب سے زیادہ مستحق اس کے رشتہ دار ہیں، جیسا کہ ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: {وَاُلُوْا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ} (سورۂ انفال: ۷۵) یعنی: اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ مستحق ہیں۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیّدنا علی، سیّدنا عباس، سیّدنا فضل اور مولائے رسول سیّدنا صالح نے دفنایا تھا، اگر رشتہ دار نہ ہوں یا معذور ہوں تو دوسرے لوگوں کو تعاون کرنا چاہیے۔ نیزیہ بھی پتہ چلا کہ قبر میں اترنے والے کے لیے شرط یہ ہے کہ اس نے گزشتہ رات کو حق زوجیت ادا نہ کیا ہو۔
حدیث نمبر: 11381
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} [طه: 55] قَالَ ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْجَبُوبَ وَيَقُولُ ”سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ“ ثُمَّ قَالَ ”أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی {مِنْہَا خَلَقْنَاکُمْ وَفِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً أُخْرٰی} … ہم نے تمہیں اسی مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور پھر اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ (سورۂ طہ، ۵۵) سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یہ نہیں جانتا کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی تھییا نہیں: بِاسْمِ اللّٰہِ، وَفِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔ (اللہ کے نام کے ساتھ،اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے طریقے کے مطابق دفن کرتے ہیں)۔ جب لحد کی چنائی کر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف گارا پھینکا اور فرمایا: اس سے اینٹوں کے شگافوں کو پر کر دو۔ پھر فرمایا: یہ کوئی ضروری چیز نہیں ہے، بس زندہ لوگوں کا نفس ذرا مطمئن ہو جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بعض لوگ میت کو قبر میں اتارتے وقت یا اس میں مٹی ڈالتے وقت یہ آیت پڑھتے ہیں، ان کا یہ عمل درست نہیں ہے، کیونکہیہ حدیث ضعیف ہے، البتہ میت کو قبر میں اتارتے وقت یہ دعائیں پڑھنی چاہئیں: بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بِاسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بَابٌ وَمِنْہُمْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سیدنا ابراہیم بن رسول اللہ رضی اللہ عنہ کاتذکرہ
بِاسْمِ اللّٰہِ وَعَلٰی سُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بِاسْمِ اللّٰہِ وَبِاللّٰہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔
بَابٌ وَمِنْہُمْ اِبْرَاہِیْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سیدنا ابراہیم بن رسول اللہ رضی اللہ عنہ کاتذکرہ