کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیماری اور وفات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11377
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلْمَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهِ فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْتُهَا فِي شَكْوَاهَا تِلْكَ قَالَتْ وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَتْ يَا أُمَّاهْ اسْكُبِي لِي غُسْلًا فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ ثُمَّ قَالَتْ يَا أُمَّاهْ أَعْطِينِي ثِيَابِي الْجُدُدَ فَأَعْطَيْتُهَا فَلَبِسَتْهَا ثُمَّ قَالَتْ يَا أُمَّاهْ قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ فَفَعَلْتُ وَاضْطَجَعَتْ فَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا ثُمَّ قَالَتْ يَا أُمَّاهْ إِنِّي لَمَقْبُوضَةٌ الْآنَ وَقَدْ تَطَهَّرْتُ فَلَا يَكْشِفُنِي أَحَدٌ فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا قَالَتْ فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَخْبَرْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب مرض الموت میں مبتلا ہوئیں تو میں ان دنوں ان کی تیمار داری کیاکرتی تھی،ایام مرض کے دوران وہ ایک دن کافی ہشاش بشاش تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اماں جان! میرے نہانے کے لیے پانی رکھ دیں، میں نے ان کے لیے غسل کا پانی رکھ دیا، انہوں نے بہت اچھا غسل کیا اور پھر کہا: اماں جان! مجھے میرے نئے کپڑے لا دیں، میں نے ان کو نئے کپڑے لا دیئے جو انہوں نے زیب تن کیے۔ پھر کہا: اماں جان! میرا بستر کمرے کے درمیان لگا دیں، میں نے اسی طرح کر دیا۔ انہوں نے قبلہ رو لیٹ کر اپنا ہاتھ رخسار کے نیچے رکھ لیا۔ پھر کہا: اماں جان! میں اب فوت ہونے والی ہوں، میں نے غسل کر لیا ہے، کوئی بھی مجھے غسل دینے کے لیے میرا لباس نہ اتارے، چنانچہ وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے ان کو سیدہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11377
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لعنعنة ابن اسحاق ولضعف عبيد الله بن علي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28167»
حدیث نمبر: 11378
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ“ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دختر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد امیر المؤمنین ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مال فے کے حصہ سے ان کا حصہ ان کو دے دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارا ترکہ ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہوگئیںاور ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بات چیت منقطع کر لی۔یہ سلسلہ انکی وفات تک رہا۔ عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہی تھیں۔
وضاحت:
فوائد: … راجح بات یہی ہے کہ نبی کرم کی وفات کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11378
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3092، ومسلم: 1759 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25»