کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صحابۂ کرام کاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک ہاتھ اور انگلیوں کے اثر سے تبرک حاصل کرنا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز ادا کر لیتے تو اہل مدینہ کے نوکر چاکر برتن لے کر آ جاتے، ان میں پانی ہوتا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو برتن بھی لایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں ہاتھ ڈبو دیتے تھے، بسا اوقات تو ایسے ہوتا کہ لوگ سردی والی صبح کو پانی لے آتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس طرح سے وہ پانی بابرکت ہو جاتا تھا اور صحابۂ کرام اس سے برکت حاصل کرتے تھے، اس حدیث ِ مبارکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن اخلاق کا بیان بھی موجود ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2324 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12428»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَسٍ يَا أَنَسُ مَسَسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرِنِي أُقَبِّلُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جناب ثابت l سے مروی ہے، انھوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے انس! کیا تم نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ مس کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تو انھوں نے کہا: لیجئے، مجھے وہ دکھاؤ، میں اس کا بوسہ لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره اخرجه الدارمي: 50، والبخاري في الادب المفرد : 974 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12094 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12118»
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ غَيْرُ يُونُسَ ابْنُ رَزِينٍ أَنَّهُ نَزَلَ الرَّبَذَةَ هُوَ وَأَصْحَابٌ لَهُ يُرِيدُونَ الْحَجَّ قِيلَ لَهُمْ هَاهُنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ فَقَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَخْرَجَ لَنَا كَفَّهُ كَفًّا ضَخْمَةً قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَبَّلْنَا كَفَّيْهِ جَمِيعًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جناب عطاف کہتے ہیں: عبد الرحمن بن رزین اپنے ساتھیوں سمیت ربذہ مقام پر اترے، وہ حج کرنے کے لیے جا رہے تھے، ان سے کسی نے کہا کہ اللہ کے رسول کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ یہاں موجود ہیں، وہ کہتے ہیں: پس ہم ان کے پاس آئے، ان کو سلام کہا اور پھر ہم نے ان سے سوالات کیے، انھوں نے کہا: میں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، پھر انھوں نے اپنا ہاتھ نکالا، ان کی ہتھیلی بڑی تھی، پس ہم نے اٹھ کر ان کی طرف گئے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تابعین عظام اور سلف صالحین کی نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گہری محبت کا نتیجہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن اخرجه البخاري في الادب المفرد : 973، والطبراني في الاوسط : 661 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16666»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ فَوَضَعْتُ إِصْبَعِي عَلَيْهَا فَقَالَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ ذَا جُمَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے کنارے پر ایک تل دکھایا، میں نے اپنی انگلی اس پر رکھی، دراصل انھوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تل پر اپنی انگشت ِ مبارک رکھی تھی اور فرمایا تھا کہ تو ضرور ضرور ایک صدی عمر پائے گا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ لمبے لمبے بالوں والے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … حسن بن ایوب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی وجہ سے اس تل پر ہاتھ رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی تھی اور سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے ایک صدی عمر پائی تھی۔ مونڈھوں تک لٹکی ہوئی زلفوں کو جُمّہ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن اخرجه الحاكم: 2/ 549، 4/ 500، والبيھقي في الدلائل : 6/ 503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17841»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَثَرَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَثَرَ أَصَابِعِهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَحْفَةٍ فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَذُقْهَا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَرَ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ“ قَالَ لِمَ تَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَا تَأْكُلُ فَقَالَ ”إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھانالایا جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کھاتے اور بچ جانے والا کھانا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشانات کو تلاش کرتے اور اپنی انگلیاں وہاں رکھتے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کا اثر نظر آتا تھا، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پلیٹ میں کھانا لایا گیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے لہسن کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نہیں کھایا اور سارا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشان نہیں دیکھے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کھانے میں آپ کی انگلیوں کے آثار نظر نہیں آ رہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کھانے میں لہسن کی بو محسوس کی ہے ۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ خود نہیں کھاتے، وہ میری طرف کیوں بھیجتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرا پاس فرشتہ آتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد کی اس سے سابقہ حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز آپ ناپسند کرتے ہیں، میں بھی اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب مسجد میں نہ جاناہو تو لہسن اور پیاز وغیرہ کھائے جا سکتے ہیں، لیکن بیچ میں اتنا وقت ہونا چاہیے کہ مسجد میں جانے تک منہ سے بو کے اثرات زائل ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح اخرجه الترمذي: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20622»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً عَلَيْهَا لَبِنَةُ شَبْرٍ مِنْ دِيبَاجٍ كِسْرَوَانِيٍّ وَفَرْجَاهَا مَكْفُوفَانِ بِهِ قَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا يَسْتَشْفِي بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے اسماء جناب عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے طیالسی جبہ نکالا، اس کے دامن میں فارسی ریشم کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور اس کے چاک بھی ریشم کے تھے۔ کہا یہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ تھا،جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنا کرتے تھے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا تھا، ہم اسے مریض کے لئے پانی میں ڈال کر اس کی برکت سے شفاء طلب کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … عجموں کے ایک لباس کو طیالسہ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2069، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27481»