کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پینے کی جگہ اور وضو سے بچے سے پانی سے تبرک حاصل کرنا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فِيهَا وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ فَقَطَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَ الْقِرْبَةِ فَهُوَ عِنْدَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور جبکہ گھر میں لٹکا ہوا ایک مشکیزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس سے پانی پیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مشکیزے کا منہ کاٹ لیا، اب وہ ہمارے پاس موجود ہے۔
حدیث نمبر: 11322M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْهَا قَائِمًا فَقَطَعْتُ فَاهَا وَإِنَّهُ لَعِنْدِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے ماں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس سے پانی پیا اور اس نے مشکیزہ کا منہ کاٹ لیا، اب وہ میرے پاس موجود ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دراصل یہ واقعہ سیدہ کبشہ بنت ثابت انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیش آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر ان کے مشکیزے سے پانی پیا، انھوں نے اس حصے کو کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک والی جگہ کی برکت کی امید وارتھیں۔
(ملاحظہ ہو: جامع ترمذی: ۱۸۹۲، ابن ماجہ: ۳۴۲۳، مسند احمد: ۲۷۴۴۸)
(ملاحظہ ہو: جامع ترمذی: ۱۸۹۲، ابن ماجہ: ۳۴۲۳، مسند احمد: ۲۷۴۴۸)
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ قُبَّةً حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ بِوَضُوءٍ لِيَصُبَّهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَمَنْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے چمڑے کا سرخ رنگ کا چھوٹا سا خیمہ دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نصب کیا گیا تھا، پھر میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ وضو کا پانی لائے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈالیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کریں)، پس لوگ (وضو والا پانی سے تبرک حاصل کرنے کے لیے) لپکے، جس کو کچھ پانی مل گیا، اس نے اس کو اپنے جسم پر مل دیا اور جو آدمی پانی حاصل نہ کر سکا، اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری سے پانی لینا شروع کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود بابرکت تھا، وہاں وہ چیز بھی برکت والی ہو جاتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجودِ مبارک کو مس کرتی تھی، تبرک حاصل کرنے کی مزید مثالیں ابھی تک جاری ہیں۔