کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب کرنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار سے تبرک حاصل کرنا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرَةٍ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ فَقُلْنَا وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَاءَ وَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَجَابَهُ نَحْوًا مِمَّا تَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں تھے، اچانک ایک بدّو نے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلند آواز سے پکارا اور کہا: اے محمد! ہم نے اس سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، اپنی آواز کو پست رکھ، تجھے اس طرح آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنی آواز کو پست نہیں کروں گا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کے انداز کے مطابق ہی جواب دیا، سفیان راوی نے کہا: جیسے اس نے بات کی تھی، اسی طرح کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا، پھر اس نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کا خیال ہے، جو کچھ لوگوں سے محبت تو کرتا ہے، لیکن وہ ان کو ملا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اسی آدمی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس کو محبت ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … ایک طرف صحابہ نے تو اس بدّو کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب کی تعلیم دی تھی، لیکن دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود انتہائی اعلی اخلاق کا مظاہرہ کیا اور بے تکلفی سے کام لیتے ہوئے اس آدمی کے ساتھ اسی کے انداز میں بات کی۔
نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پست آواز میں بات کرنا، اس مسئلہ کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۵۸) والا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن اخرجه الترمذي: 3535 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18268»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ فِي بَيْتِكِ عَلَى فِرَاشِكِ قَالَ فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ قَالَ فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا قَالَ فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے تھے، جبکہ وہ اس میں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے آ کر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو خبر دی کہ یہ نبی ٔ کریم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، پس وہ آئیں اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ بستر پر چمڑے کے ایک ٹکڑے پر نچڑ رہا ہے، انھوں نے اپنا بیوٹی باکس کھولا اور اس پسینے کو چوس کر اس کو اپنی شیشیوں میں نچوڑنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرا گئے اور پوچھا: او ام سلیم! کیا کر رہی ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے بچوں کے لیے اس کی برکت کی امید رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے درست کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … عَتِیْدَۃ سے مراد لکڑی کا وہ صندوق ہے، جس میں خواتین اپنی خوشبو اور تیل وغیرہ رکھتی تھیں، آج کل یہی کام بیوٹی باکس سے لیا جاتا ہے، اس لیے ہم نے یہی معنی بیان کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2331، واخرج البخاري نحوه: 6281 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13343»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ فَقَالَتْ هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا تو میری ماں ایک شیشی لے کر آئیں اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ جمع کرنے لگیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور فرمایا: ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کو پسینہ ہے، ہم اس کو اپنی خوشبو میں مِکس کریں گے، جبکہ یہ پسینہ تو سب سے پاکیزہ اور اچھی خوشبو ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود متبرّک تھا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود سے نکلنے والی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کو مس کرنے والی چیز بھی تبرّک والی ہو جاتی تھی، جیسے کپڑے، پسینہ، بال وغیرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12423»
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شَعَرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ فَأَخَذَ شَعَرَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ کیا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بال مونڈے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سر مبارک کے ایک جانب کے بال پکڑے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس لے آئے، وہ ان کو اپنی خوشبو میں ملایا کرتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم اخرج نحوه البخاري: 171، ومسلم:1305 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13542»
حدیث نمبر: 11322M
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بِمِنًى أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ بِيَدِهِ فَلَمَّا فَرَغَ نَاوَلَنِي فَقَالَ ”يَا أَنَسُ انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ“ فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا خَصَّهَا بِهِ مِنْ ذَلِكَ تَنَافَسُوا فِي الشِّقِّ الْآخَرِ هَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ وَهَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثْتُهُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعَرَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ أَصْبَحَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَفِي بَطْنِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی میں اپنا سر مبارک منڈوائے تو سر کی دائیں جانب کے بال لیے اور مجھے پکڑا کر فرمایا: انس! یہ بال ام سلیم کے پاس لے جاؤ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص کر کے ام سلیم کو یہ بال بھیجے ہیں تو وہ سر کی دوسری جانب کے بالوں کی رغبت کرنے لگے، کچھ بال کسی نے لیے اور کچھ کسی نے۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث عبیدہ سلمانی کو بیان کی تو انھوں نے کہا: اگر میرے پاس ان میں سے ایک بال بھی ہوتا تو وہ مجھے اس سارے سونے اور چاندی سے محبوب ہوتا، جو زمینکے اوپر والی سطح اور اس کے اندر پایا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل، وقد صح بغير ھذه السياقة، وانظر الحديث السابق بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13720»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ مَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعَرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مونڈ رہا تھا، صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لے رکھا تھا، وہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو بال بھی گرے، اس کو کوئی نہ کوئی آدمی پکڑ لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2325 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12390»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ وَرَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ يَقْسِمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ مِنْهَا شَيْءٌ وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ قَالَ فَإِنَّهُ لَعِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ يَعْنِي شَعْرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ قربان گاہ میں نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک قریشی آدمی کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانیاں کر رہے تھے، لیکن نہ قربانی ان کو ملی اور نہ ان کے انصاری ساتھی کو، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اپنا سر منڈوایا تو وہ بال ان کو دیئے اور انھوں نے وہ بال مردوں میں تقسیم کر دیئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناخن تراشے تو وہ ان کے ساتھی کو دیئے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ سے رنگے ہوئے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … وسمہ کی وضاحت کے لیے حدیث نمبر (۱۱۱۴۱)دیکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود، وجود سے زائل کر دی جانے والی زائد چیز جیسے بال اور ناخن اور وجود کو مس کرنے والی چیز باعث ِ برکت تھی، اس لیے صحابۂ کرام ان چیزوں سے تبرک حاصل کیا کرتے تھے، تبرک کی ان تمام صورتوں کو نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح اخرجه ابن خزيمة: 2932، والحاكم: 1/ 475 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16588»