کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کنویں میں کلی کی اور اس سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھوٹنے لگ گئی
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَهْلِي عَنْ أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ مَجَّ فِي الدَّلْوِ ثُمَّ صَبَّ فِي الْبِئْرِ أَوْ شَرِبَ مِنَ الدَّلْوِ ثُمَّ مَجَّ فِي الْبِئْرِ فَفَاحَ مِنْهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الجبار بن وائل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اہل نے مجھے بیان، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ پانی کا ایک ڈول نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پیا اور پھر ڈول میں کلی کی اور وہ پانی کنویں میں پھینک دیا،یا اس طرح ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈول سے پانی پیا اور کنویں میں کلی کی، پس اس کنویں سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھیلنے لگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19044»
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَتَمَضْمَضَ فَمَجَّ فِيهِ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ أَوْ قَالَ مِسْكٌ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ڈول میں زمزم کا پانی لایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کلی کی اور وہ پانی اسی ڈول میں پھینکا، پس وہ تو کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ڈول سے باہر ناک جھاڑا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ وجود کی برکت اور اثر تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11322M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 119 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19080»