کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لاٹھی کسی صحابی کے لیے روشن ہو گئی،یہاں تک کہ وہ گھر پہنچ گیا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ قَالَ عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا قَالَ فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ وَقَالَ خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ وَتَرَاءَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ قَالَ فَفَعَلَ فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رات کو آسمان بادو باراں والا ہو گیا، جب نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشا کے لیے گئے اور بجلی چمکی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور پوچھا: قتادہ! کون سی چیز تم کو اس وقت میں لے آئی ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ نمازی کم ہوں گے، اس لیے میں نے چاہا کہ چلو میں تو پہنچ جاؤں۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ لو تو میرے آنے تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو ایک کھجور کی شاخ دی اور فرمایا: یہ شاخ لے لو، یہ تمہارے آگے اور پیچھے دس دس (ہاتھ) تک روشنی پیدا کرے گی، جب تم گھر میں داخل ہو جاؤ اور گھر کے ایک کونے میں کوئی وجود دیکھ لو تو کلام کرنے سے پہلے اس کو مارنا، کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، ہم اسی وجہ سے ان شاخوں اور چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ چھڑی نے روشنی دینا شروع کر دی، سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ کو نماز عشا میں آنے کی وجہ سے یہ شرف حاصل ہوا۔
ذہن نشین کر لیں کہ فرائض و واجبات اور مستحبات کی ادائیگی اور ممنوعات و محرّمات سے اجتناب دنیا و آخرت میں باعث ِ عزت و شرف ہے اور اسی چیز میں انجام بخیر و عافیت ہے۔
ذہن نشین کر لیں کہ فرائض و واجبات اور مستحبات کی ادائیگی اور ممنوعات و محرّمات سے اجتناب دنیا و آخرت میں باعث ِ عزت و شرف ہے اور اسی چیز میں انجام بخیر و عافیت ہے۔