کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ تھنوں سے دودھ اتر آیا، حالانکہ اس سے پہلے ان میں دودھ نہیں تھا
حدیث نمبر: 11322M
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ وَفِي رِوَايَةٍ ثُمَّ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِصَخْرَةٍ مُنْقَعِرَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ شَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابو معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! کیا دودھ موجود ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، لیکن مجھے اس مال پر امین بنایا گیا ہے (لہذا میں اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نہیں دے سکتا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسی بکری ہے، جس کی بکرے سے جفتی نہ کرائی گئی ہو؟ پس میں اس قسم کی ایک بکری لے آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھن کو چھوا تو اس میں دودھ اتر آیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ایک برتن میں دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی پیا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا۔ پس وہ سکڑ گیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس دین میں کچھ تعلیم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالی تجھ پر رحم کرے، تو تو پیارا سا تعلیمیافتہ لڑکا ہے۔ ایک روایت میں ہے: پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیالہ نما پتھر لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دودھ دوہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اور میں نے دودھ پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا۔ پس وہ سکڑ گیا۔ اس کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس دین میں کچھ سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو سکھایا ہوا لڑکا ہے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں سیکھی تھیں، اس میں کسی کا مجھ سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ تھا کہ ایسی بکری کے تھنوں میں دودھ اتر آیا تو دودھ والی تھی ہی نہیں۔
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ قَيْسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا قَالَ فَدَنَا مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَحَفَلَ فَاحْتَلَبَ قَالَ وَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنَ فَقَالَ لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّاءِ قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا قَالَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ صَدْرِهِ وَأَلْقَى السُّلَّاءَ ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ رُضَاضَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمادبن سلمہ کہتے ہیں: میں نے قیس قبیلہ کے ایک بزرگ سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے کہا: نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہماری ایک سرکش اونٹنی تھی، ہم اس کو قابو نہیں کر سکتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب ہوئے، اس کے تھنوں کو چھوا، پس وہ تو دودھ سے بھر گئے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ دوہا۔ جب میرے باپ فوت ہوئے تو میں نے ان کو ان کے کفن میں لپیٹا اور کھجور کے درخت کا کانٹا لے کر اس کے ذریعے ان کے کفن کو باندھ دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو اس کانٹے کے ذریعے تکلیف نہ دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینے سے کپڑا ہٹایا، جھلی کو پھینک دیا اور ان کے سینے پر تھوکا،یہاں تک کہ میں نے باقاعدہ ان کے سینے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تھوک کے قطرے دیکھے۔
حدیث نمبر: 11322M
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْفَائِشِيِّ عَنْ ابْنَةٍ لِخَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ خَرَجَ خَبَّابٌ فِي سَرِيَّةٍ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَعَاهَدُنَا حَتَّى كَانَ يَحْلُبُ عَنْزًا لَنَا قَالَتْ فَكَانَ يَحْلُبُهَا حَتَّى يَطْفَحَ أَوْ يَفِيضَ فَلَمَّا رَجَعَ خَبَّابٌ حَلَبَهَا فَرَجَعَ حِلَابُهَا إِلَى مَا كَانَ فَقُلْنَا لَهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْلُبُهَا حَتَّى يَفِيضَ وَقَالَ مَرَّةً حَتَّى تَمْتَلِئَ فَلَمَّا حَلَبْتَهَا رَجَعَ حِلَابُهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرے باپ ایک لشکر میں چلے گئے، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا بہت خیال رکھتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے لیے ہماری بکری بھی دوہ دیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دوہتے تھے تو دودھ برتن سے بہہ پڑتا تھا، لیکن جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ لوٹے اور اسی بکری سے دودھ دوہا تو پہلے کی طرح دودھ کم ہو گیا، ہم نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بکری کا دودھ دوہتے تھے تو دودھ بہہ پڑتا تھا، لیکن برتن بھر جاتا تھا، لیکن جب آپ نے دودھ دوہا ہے تو یہ دودھ واپس چلا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود مبارک بھی اس قدر برکت والا تھاکہ جو چیز مس ہو جاتی، وہ بھی برکت والی بن جاتی۔