کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میںاضافہ ہو گیا
حدیث نمبر: 11317
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحُدَيْبِيَةَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِيَالِهَا فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَصَقَ فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناسلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے، ہماری تعداد چودہ سو تھی، وہاں اس قدر معمولی پانی تھا کہ پچاس بکریوں کو بھی سیراب نہ کر سکتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنوئیں کے کنارے پر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی یا اس میں اپنا لعاب ڈالا تو اس کنویں کا پانی جوش مارنے لگا، پس ہم نے پانی پیا اور پلایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11317
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16633»
حدیث نمبر: 11318
عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ انْتَهَيْنَا إِلَى الْحُدَيْبِيَةِ وَهِيَ بِئْرٌ قَدْ نُزِحَتْ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ فَنُزِعَ مِنْهَا دَلْوٌ فَتَمَضْمَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ وَدَعَا قَالَ فَرُوِينَا وَأَرْوَيْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم حدیبیہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں ایک کنواں تھا، جس کا پانی ختم ہونے کے قریب تھا۔ ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ کنوئیں سے پانی کا ایک ڈول نکالا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کچھ پانی لے کر کلی کرکے وہ اس میں ڈال دیا اور دعا بھی فرمائی۔ پس پھر ہم پانی سے خوب سیراب ہوئے اور دوسروں کو بھی سیراب کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11318
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3577، 4150 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18762»
حدیث نمبر: 11319
عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيَّةٍ ذَمَّةٍ يَعْنِي قَلِيلَةَ الْمَاءِ قَالَ فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ مَاحَةً فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيَّةِ فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قِرَابَ ثُلُثَيْهَا فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَرَاءُ فَكِدْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ فَرُفِعَتِ الدَّلْوُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَنَا أُخْرِجَ بِثَوْبٍ خَشْيَةَ الْغَرَقِ قَالَ ثُمَّ سَاحَتْ يَعْنِي جَرَتْ نَهْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہم ایک ایسے کنوئیں تک پہنچے جس میں بہت تھوڑا پانی تھا، کنوئیں سے پانی نکالنے کے لیے پانچ آدمی اس میں اترے، میں چھٹا تھا، کنویں میں ہماری طرف ڈول ڈالا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں کے کنارے پر موجود تھے۔ ہم نے اس ڈول میں اس کے نصف تک یا دو تہائی تک پانی بھرا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اوپر کو کھینچ لیا گیا۔ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کوشش کی کہ اپنے برتن میں کچھ پانی ڈال کر اپنے حلق کو تر کر لوں، مگر مجھے اس قدر تھوڑا سا پانی بھی نہ مل سکا۔ ڈول اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھینچا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈبو کر اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور ڈول کو پانی سمیت کنویں کے اندر ہماری طرف واپس اتارا گیا۔ اس کی برکت سے کنویں میں اتنا پانی ہو گیا کہ ہمارے ڈوب جانے کے اندیشہ سے ہم میں سے ہر ایک کو کپڑے کے ساتھ باندھ کر باہر نکالا گیا، اس کے بعد وہ نہر کی طرح بہنے لگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11319
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال يونس بن عُبيد، اخرجه الطبراني في الكبير : 1177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18785»
حدیث نمبر: 11320
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَكَانَ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَفِيهَا جَرْعَةُ مَاءٍ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَلَمَّا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ فَقَالَ ”لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا قَتَادَةَ ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ“ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ ”احْلِلْ لِي غُمَرِي“ يَعْنِي قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ وَيَسْقِي النَّاسَ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رَيٍّ“ فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ لِي فَقَالَ ”اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ“ قَالَ قُلْتُ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کے ساتھ تھا، ان کے پاس وضو کا ایک برتن تھا، جس میں محض ایک چلو کی مقدارپانی تھا، جب دھوپ خوب تیز ہوئییعنی گرمی بڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے آئے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پیاس کی شدت کی وجہ سے ہم مر رہے ہیں، ہماری تو گردنیں ٹوٹ رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا: آج تم پر ہلاکت نہیں پڑے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! تم وضو والا برتن لے کر آؤ۔ میں نے وہ برتن آپ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے فرمایا: تم میرا چھوٹا پیالہ کھول لاؤ۔ میں اسے کھول کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا، آپ اس میں پانی ڈال کر لوگوں کو پلانے لگے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی بھرنے کے لیے اچھا رویہ اپناؤ، تم میں سے ہر ایک سیراب ہو کر لوٹے گا۔ سب لوگوں نے خوب پانی پیا، صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میں بچ گئے، آپ نے پیالے میں میرے لیے پانی ڈالا اور فرمایا: ابو قتادہ! لو پیو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے آپ پئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ تب میں نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد نوش فرمایا اور وضو کے برتن میں پانی جتنا تھا، وہ تقریباً اتنا ہی رہا۔ اس دن صحابہ کی تعداد تین سو تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11320
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 681 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22546»
حدیث نمبر: 11321
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَانَ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ أَوْ فِي جَفْنَةٍ فَنَضَحْنَا بِهِ قَالَ وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ وَلَا نَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانی تھوڑا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالےیا کھلے برتن میں وضو کیا، ہم نے اس سے پانی لے لے کر مختصر وضو کیا، ہم میں وہ آدمی خوش قسمت تھا، جسے اس پانی میں سے کچھ مل گیا۔ ہمارا خیال ہے کہ پانی ہر آدمی کو مل گیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چاشت کے وقت نماز پڑھائی۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس معجزہ کا بیان ہے کہ متعدد مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت پوری کر لی، جبکہ اصل پانی انتہائی معمولی مقدار میں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11321
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائذ بن عمرو، اخرجه الطبراني في الكبير : 18/ 34 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20915»