کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
حدیث نمبر: 11301
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ“ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَبَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً“ أَوْ قَالَ ”أَمْ هَدِيَّةً“ قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى قَالَ وَأَيْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلَّا قَدْ حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ قَالَ وَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ قَالَ فَأَكَلْنَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَجَعَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس کھانے کی تقریباً ایک صاع کی مقدارتھی،پس اس کا آٹا گوندھا گیا، اس کے بعد ایک مشرک آدمی بکریاں ہانکتے ہوئے آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور پرا گندہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکریاں فروخت کرو گے یا عطیہ کرو گے؟ اس نے کہا: عطیہ یا ہبہ نہیں، بلکہ فروخت کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی، اسے ذبح کر کے تیار کیا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلیجی گردے وغیرہ بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کی کلیجی کا حصہ ہر آدمی کے لیے رکھا، جو کوئی موجود تھا اسے دے دیااور جو موجود نہیں تھا، اس کے لیے رکھ چھوڑا۔ بکری کے گوشت کے دو تھال تیار کیے گئے۔ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا اور دونوں میں گوشت بچا رہا، پھر ہم نے وہ بچا ہوا کھانا اونٹ پر لاد لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11301
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2216، 2618،ومسلم: 2056 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1703 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1703»
حدیث نمبر: 11302
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَصَفَّهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ لِي ”اجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدٍ فَأَدْخِلْ يَدَكَ وَلَا تَنْثُرْهُنَّ“ قَالَ فَحَمَلْتُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِي فَسَقَطَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کھجوروں کو اپنے سامنے بکھیر لیا۔ پھر دعا فرمائی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کھجوروں کو چمڑے کے تھیلے میں ڈال لو۔ کھجوریں نکالنے کے لیے اس کے اندر ہاتھ ڈال کر کھجوریں نکالنا اور اسے الٹ کر جھاڑنا نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس تھیلے سے اتنے اتنے وسق (ایک وسق ساٹھ صاع اور ایک صاع تقریباً دو کلو سو گرام ہوتا ہے) اللہ کی راہ میں نکالے۔ہم خود کھاتے بھی اور کھلاتے بھی۔ وہ تھیلا کبھی بھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتا تھا۔مگرجب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا سانحہ پیش آیا تو وہ میری کمر سے کٹ کر گر گیا (اور گم ہوگیا)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11302
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8613»
حدیث نمبر: 11303
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ يَنْحَرُونَهَا بَلِ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ قَالَ ”أَجَلْ“ قَالَ فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ اس دوران مسلمانوں کا زاد راہ ختم ہو گیا اور وہ کھانے کے سلسلہ میں محتاج ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت مرحمت فرما دی۔ اس کی اطلاع عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوہوئی تو انہوں نے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! یہ اونٹ مسلمانوں کو اپنے اوپرسوار کرکے دشمن تک پہنچاتے ہیںتو کیایہ ان کو ذبح کر لیں؟ اللہ کے رسول! آپ اس کی بجائے لوگوں کے پاس جو بچا کھچا زاد راہ ہے وہ منگوا کر اللہ عزوجل سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں (تو زیادہ مناسب ہوگا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوںسے ان کے پاس بچا ہوا زاد راہ طلب فرمایا۔ لوگوں کے پاس جو جو چیزیں بچی ہوئی تھیںوہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ عزوجل سے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے برتن (اور تھیلے وغیرہ) منگوا کر ان کو کھانے سے بھر دیااور بہت سا کھانا بچ رہا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ جو کوئی صدق دل سے ان دو باتوں کی گواہی دیتا ہوا اللہ سے جا ملے اور اسے ان میں کسی قسم کا تردد نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه بنحوه مسلم: 27 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9447»
حدیث نمبر: 11304
ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَكَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ فَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا سیدنا ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ (یہ شک اعمش کو ہوا ہے) سے روایت ہے کہ غزوۂ تبوک کے موقع پر لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11304
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 27، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11080 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11096»
حدیث نمبر: 11305
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَأَصَابَ النَّاسَ مَخْمَصَةٌ فَاسْتَأْذَنَ النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ وَقَالُوا يُبَلِّغُنَا اللَّهُ بِهِ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ هَمَّ أَنْ يَأْذَنَ لَهُمْ فِي نَحْرِ بَعْضِ ظُهُورِهِمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِنَا إِذَا نَحْنُ لَقِينَا الْقَوْمَ غَدًا جِيَاعًا أَوْ رِجَالًا وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَنَجْمَعَهَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللَّهَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَقَايَا أَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَجِيئُونَ بِالْحَثْيَةِ مِنَ الطَّعَامِ وَفَوْقَ ذَلِكَ وَكَانَ أَعْلَاهُمْ مَنْ جَاءَ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ ثُمَّ دَعَا الْجَيْشَ بِأَوْعِيَتِهِمْ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْتَثُوا فَمَا بَقِيَ فِي الْجَيْشِ وِعَاءٌ إِلَّا مَلَؤُوهُ وَبَقِيَ مِثْلُهُ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فَقَالَ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَى اللَّهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا إِلَّا حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن ابی عمرۃ انصاری اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، اس دوران لوگوں کوشدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری کے بعض اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ہمارے اپنی اگلی منزل تک پہنچنے کا اللہ مالک ہے۔ لیکن جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بعض اونٹوں کے نحر کرنے کی اجازت دینے کو تیار ہیں تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسو ل! کل جب ہم بھوکے یا پیدل دشمن کے مقابل ہوں گے تو ہمارا کیا بنے گا؟ اس کے بدلے اگر آپ مناسب سمجھیں تو لوگوں کے پاس کھانے پینے کی جو اشیاء بچی ہوئی ہوں،وہ منگوائیں ۔ہم ان اشیاء کو ایک جگہ جمع کر دیتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ سے ان میں برکت کی دعا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کی دعا سے ہمارے لیے برکت فرمائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے کھانے پینے کی بچی ہوئی اشیاء منگوائیں، لوگ کھانے کی ایک ایک مٹھییا اس سے کچھ زیادہ لانے لگے، کوئی زیادہ سے زیادہ طعام لایا تو وہ ایک صاع کھجور تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام اشیاء کو جمع کرکے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے بقدردعائیں کیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لشکر کو بلوایا کہ وہ اپنے اپنے برتن (تھیلے، بوریاں وغیرہ) لے آئیں اور ان کو کھانے سے بھر لیں، پورے لشکر میں جتنے بھی برتن تھے، انہوں نے ان سب کو کھانے سے بھر لیااور اتنا ہی کھانا باقی بچا رہا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدت فرح سے اس حدتک مسکرائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑیں نظر آنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں،جو مومن ان دو باتوں کی شہادت اور دلی اقرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملے گا، قیامت کے دن اس سے آگ کو دور ہٹا دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11305
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، اخرجه النسائي في الكبري : 8793 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15449 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15528»
حدیث نمبر: 11306
عَنْ أَنَسٍ قَالَ عَمَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نِصْفِ مُدِّ شَعِيرٍ فَطَحَنَتْهُ ثُمَّ عَمَدَتْ إِلَى عُكَّةٍ كَانَ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ فَاتَّخَذَتْ مِنْهُ خَطِيفَةً قَالَ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ إِنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ أَرْسَلَتْنِي إِلَيْكَ تَدْعُوكَ فَقَالَ ”أَنَا وَمَنْ مَعِي“ قَالَ فَجَاءَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ قَالَ فَدَخَلْتُ فَقُلْتُ لِأَبِي طَلْحَةَ قَدْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَمَشَى إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هِيَ خَطِيفَةٌ اتَّخَذَتْهَا أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ نِصْفِ مُدِّ شَعِيرٍ قَالَ فَدَخَلَ فَأُتِيَ بِهِ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهَا ثُمَّ قَالَ ”أَدْخِلْ عَشَرَةً“ قَالَ فَدَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ دَخَلَ عَشَرَةٌ فَأَكَلُوا ثُمَّ عَشَرَةٌ ثُمَّ عَشَرَةٌ حَتَّى أَكَلَ مِنْهَا أَرْبَعُونَ كُلُّهُمْ أَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا قَالَ وَبَقِيَتْ كَمَا هِيَ قَالَ فَأَكَلْنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نصف مد جو پیسے، پھرگھی کے لیے چمڑے کا بنا ہوا ڈبہ اٹھایا، اس میں تھوڑا ساگھی تھا۔ انہوں نے اس سے دلیہ سا بنایا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانے کے لیے مجھے بھیجا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے درمیان تشریف فرماتھے۔ میں نے عرض کی: ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مجھے بھیجا ہے، وہ آپ کو کھانے کے لئے بلا رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اور میرے ان ساتھیوں کو بھی؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تشریف لائے۔ میں نے گھر جا کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ تشریف لا رہے ہیں۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ باہرنکلے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو کے ساتھ چلنے لگے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو صرف دلیہ ہے، جو ام سلیم نے نصف مد جو سے تیار کیاہے (اتنی مقدار تو کھانے کی نہیں ہے کہ اتنے لوگ کھا لیں)۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندرتشریف لائے، وہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں رکھا اور فرمایا: دس آدمیوںکو اندر بلا لو۔ پس دس آدمیوں نے آکر پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، پھر دس آدمی آئے،پھر دس آدمی آئے، یہاں تک کہ چالیس افراد نے سیر ہو کر کھاناکھایا اور وہ کھانا جیسے تھا، ویسے ہی باقی بچا رہا، پھر ہم گھر والوں نے وہ کھا لیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11306
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5450 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12519»
حدیث نمبر: 11307
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ قَالَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَزَلْ يَتَدَاوَلُونَهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنَ الظُّهْرِ يَأْكُلُ كُلُّ قَوْمٍ ثُمَّ يَقُومُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ فَيَتَعَاقَبُوهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ هَلْ كَانَتْ تُمَدُّ بِطَعَامٍ قَالَ أَمَّا مِنَ الْأَرْضِ فَلَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ كَانَتْ تُمَدُّ مِنَ السَّمَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ثرید (وہ کھانا جس میں روٹی شوربے میں بھگو کر نرم کرکے کھائی جاتی ہے) کا ایک پیالہ پیش کیاگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور دیگر لوگوں نے وہ کھایا، ظہر کے وقت تک لوگ کھاناکھاتے رہے، ایک گروہ کھانا کھا کر اٹھ جاتا تو ان کے بعد دوسرا گروہ آجاتا۔ ایک شخص نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیاکھانے میں مزید کھانا شامل کیا جاتا رہا؟ انہوں نے جواب دیا: زمین سے تو شامل نہیں کیا گیا، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ آسمان سے اس میں اضافہ کیا جاتا رہا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11307
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الترمذي: 3625 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20397»
حدیث نمبر: 11308
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِائَةٍ نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ ”قُمْ فَأَعْطِهِمْ“ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يَقِيظُنِي وَالصِّبْيَةَ قَالَ وَكِيعٌ الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قَالَ ”قُمْ فَأَعْطِهِمْ“ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمْعًا وَطَاعَةً قَالَ فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ فَفَتَحَ الْبَابَ قَالَ دُكَيْنٌ فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ قَالَ شَأْنُكُمْ قَالَ فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنادکین بن سعید خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چار سو چالیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدمت میں آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانے کا مطالبہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھواور انہیں کھانا مہیا کرو۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میرے ہاں تو صرف اس قدر کھانا ہے جو میرے لیے اور میری اولاد کے لیے صرف چار ماہ تک کافی ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھواوران کو کھانا دو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! سنا اور اطاعت کی (یعنی آپ کا حکم سر آنکھوں پر)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ہم بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، وہ ہمیں اپنے ساتھ لے کر بالاخانے کی طرف گئے۔ انہوں نے اپنی کمر سے چابی نکال کر دروازہ کھولا۔ سیدنا دکین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے کمرے میں کم زور قسم کی کھجور پڑی تھی۔ انہوں نے کہا: تم یہاں سے جس قدر چاہو اٹھا لو، ہم میں سے ہر آدمی نے وہاں سے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھا لیں، میں سب سے آخر میں تھا۔ میں نے غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ گویا ہم نے ان کی کھجوروں میں ایک کھجور بھی کم نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … فَصِیْل اونٹ اور گائے کے اس بچے کو کہتے ہیں، جس کا دودھ چھڑا دیا گیا ہو اور رَابِض بیٹھنے والے مقیم بندے کو کہتے ہیں، اس تشبیہ سے مراد کم زور کھجوریں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11308
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح اخرجه ابوداود: 5238 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17719»
حدیث نمبر: 11309
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِ مِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِهِ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ ”زَوِّدْهُمْ“ فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةٌ مِنْ تَمْرٍ وَمَا أَرَاهَا تُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ ”انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ“ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عُلِّيَّةٍ لَهُ فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلُ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ فَقَالَ خُذُوا فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ قَالَ وَكُنْتُ أَنَا فِي آخِرِ الْقَوْمِ قَالَ فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ وَقَدْ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُ مِائَةِ رَجُلٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم قبیلہ بنو مزینہ کے چار سو آدمی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لئے لوگوں کو حکم دیا۔ بعض لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ان کو دینے کے لیے ہمارے پاس کھانا میسر نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم انہیں کھانا مہیا کرو۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس تو کچھ ہلکی قسم کی کھجور ہے، میرا خیال ہے کہ وہ ان کو کفایت نہیں کرے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر انہیں دے دو۔ وہ ہمیں اپنے ساتھ بالا خانے میں لے گئے، وہاں مٹیالے رنگ کی سی کھجور تھی۔ انہوں نے کہا: یہاں سے اٹھا لو۔ لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھا لیں، میں سب سے آخر میں تھا۔ میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ ہم نے ایک کھجور کے برابر بھی جگہ خالی نہیں کی۔ حالانکہ وہاں سے چار سو افراد نے کھجوریں اٹھائی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11309
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه البيھقي: 5/ 365 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24147»
حدیث نمبر: 11310
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَتَغَدَّى عِنْدَنَا فَافْعَلْ قَالَ فَجِئْتُهُ فَبَلَّغْتُهُ فَقَالَ ”وَمَنْ عِنْدِي“ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ ”انْهَضُوا“ قَالَ فَجِئْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَأَنَا لَدَهِشٌ لِمَنْ أَقْبَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا صَنَعْتَ يَا أَنَسُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ قَالَ ”هَلْ عِنْدَكِ سَمْنٌ“ قَالَتْ نَعَمْ قَدْ كَانَ مِنْهُ عِنْدِي عُكَّةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ سَمْنٍ قَالَ ”فَأْتِي بِهَا“ قَالَتْ فَجِئْتُهُ بِهَا فَفَتَحَ رِبَاطَهَا ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَعْظِمْ فِيهَا الْبَرَكَةَ“ قَالَ فَقَالَ ”اقْلِبِيهَا“ فَقَلَبْتُهَا فَعَصَرَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسَمِّي قَالَ فَأَخَذْتُ نَقْعَ قِدْرٍ فَأَكَلَ مِنْهَا بِضْعٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا فَفَضَلَ فِيهَا فَضْلٌ فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَ ”كُلِي وَأَطْعِمِي جِيرَانَكِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہو کہ ممکن ہو تو کھانا ہمارے ہاں تناول فرمائیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر یہ پیغام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور جو لوگ میرے پاس ہیں وہ؟ میں نے کہہ دیا: جی ہاں وہ بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو !اٹھو۔ میں نے جا کر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ سے ساری بات کہہ دی۔ مجھے ان لوگوں کا ڈر تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ آرہے تھے کہ اتنے لوگوں کو کھانا کیسے کفایت کرے گا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا انس! تم نے یہ کیا کیا؟ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریفلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا آپ کے پاس گھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! میرے پاس چمڑے کا ایک ڈبہ تھا،اس میں کچھ گھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ڈبہ اٹھا لائیں۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے وہ ڈبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ڈھکن کھولا اور فرمایا: بسم اللہ، یا اللہ! اس میں خوب برکت فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب اس ڈبے کو پلٹ دو۔ انہوں نے اسے پلٹ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کا نام لیتے لیتے اسے اچھی طرح نچوڑا، انہوں نے وہ سارا گھی ہنڈیا میں ڈال دیا۔ اس سے اسی سے زائد آدمیوں نے کھانا کھایااورکافی کھانا بچا رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ہنڈیا ام سلیم رضی اللہ عنہ کے حوالے کی اور فرمایا: لو تم بھی کھاؤ اور ہمسایوں کو بھی کھلاؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11310
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2040 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13581»
حدیث نمبر: 11311
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى أَبُو طَلْحَةَ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ فَأَمَرَ بِهِ فَصُنِعَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ لِي يَا أَنَسُ انْطَلِقْ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ يَدْعُوكَ إِلَى طَعَامِهِ فَقَامَ وَقَالَ لِلنَّاسِ ”قُومُوا“ فَقَامُوا فَجِئْتُ أَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَضَحْتَنَا قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَمْرَهُ فَلَمَّا انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ قَالَ لَهُمْ ”اقْعُدُوا“ وَدَخَلَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَلَمَّا دَخَلَ وَأُتِيَ بِالطَّعَامِ تَنَاوَلَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ ”قُومُوا وَلْيَدْخُلْ عَشَرَةٌ مَكَانَكُمْ“ حَتَّى دَخَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَأَكَلُوا قَالَ قُلْتُ كَمْ كَانُوا قَالَ كَانُوا نَيْفًا وَثَمَانِينَ قَالَ وَفَضَلَ لِأَهْلِ الْبَيْتِ مَا أَشْبَعَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ دو مد جولے کر آئے، انہوں نے اس سے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا، پھر مجھ سے کہا: انس! تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا لاؤ اور تم جانتے ہی ہو کہ کھانا تھوڑا سا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو صحابۂ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کو کھانے کے لیے بلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بھی کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے آگے چلتا ہوا سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو صورت حا ل سے باخبر کیا (کہ وہ تو سارے لوگ آ رہے ہیں)۔ انھوں نے کہا: تونے تو آج ہمیں رسوا کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو رد نہیں کر سکتا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو وہیں بیٹھ جانے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نو صحابہ کے ہمراہ اندر چلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اندر آئے اور کھانا پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ والوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اٹھ جاؤ اور تمہاری جگہ مزید دس آدمی آجائیں ۔ یہاں تک کہ سب لوگوں نے آکر کھانا تناول کیا۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن صحابۂ کرام کی تعداد کیا تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے زائد افراد تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر بھی اتنا کھانا بچ گیا جس نے گھر والوںکو سیر کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11311
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2040 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13461»
حدیث نمبر: 11312
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَمِلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَنْدَقِ قَالَ فَكَانَتْ عِنْدِي شُوَيْهَةُ عَنْزٍ جَذَعٌ سَمِينَةٌ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ صَنَعْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرْتُ امْرَأَتِي فَطَحَنَتْ لَنَا شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ وَصَنَعَتْ لَنَا مِنْهُ خُبْزًا وَذَبَحَتْ تَلْكَ الشَّاةَ فَشَوَيْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَيْنَا وَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْإِنْصِرَافَ عَنِ الْخَنْدَقِ قَالَ وَكُنَّا نَعْمَلُ فِيهِ نَهَارًا فَإِذَا أَمْسَيْنَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ صَنَعْتُ لَكَ شُوَيْهَةً كَانَتْ عِنْدَنَا وَصَنَعْنَا مَعَهَا شَيْئًا مِنْ خُبْزِ هَذَا الشَّعِيرِ فَأُحِبُّ أَنْ تَنْصَرِفَ مَعِي إِلَى مَنْزِلِي وَإِنَّمَا أُرِيدُ أَنْ يَنْصَرِفَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحْدَهُ قَالَ فَلَمَّا قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ قَالَ ”نَعَمْ“ ثُمَّ أَمَرَ صَارِخًا فَصَرَخَ أَنْ انْصَرِفُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِ جَابِرٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ النَّاسُ مَعَهُ قَالَ فَجَلَسَ وَأَخْرَجْنَاهَا إِلَيْهِ قَالَ فَبَرَكَ وَسَمَّى ثُمَّ أَكَلَ وَتَوَارَدَهَا النَّاسُ كُلَّمَا فَرَغَ قَوْمٌ قَامُوا وَجَاءَ نَاسٌ حَتَّى صَدَرَ أَهْلُ الْخَنْدَقِ عَنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ خندق میں کام کیا، میر ے ہاں موٹی تازی ایک کھیری عمر کی چھوٹی سی بکری تھی۔ میں نے سوچا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کھانے کے لیے اس بکری کو پکا لیں۔ میں نے اپنی اہلیہ کو حکم دیاتو اس نے کچھ جو پیس کر آٹا تیارکیااور ہمارے لیے روٹیاں پکائیں۔ اس بکری کو ذبح کیا اور ہم نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بھونا، جب شام ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خندق سے واپسی کا ارادہ فرمایا، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم دن کو کام کیا کرتے اور شام کے وقت اہل و عیال میں واپس آجاتے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہمارے ہاں ایک چھوٹی سی بکری تھی، میں نے آپ کے لیے وہ تیار کی ہے اور جو کی کچھ روٹیاں بھی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر تشریف لے چلیں۔ سیدنا جابر کہتے ہیں: میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے ہی میرے ساتھ تشریف لے چلیں ، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے اعلان کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ جابر کے گھر چلو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعلان سن کر میں نے إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ دوسرے لوگ آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے، ہم نے تیار شدہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برکت کی دعا کی اور اللہ کا نام لے کر کھانا کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگ باری باری آتے گئے، جب ایک گروہ فارغ ہو کر اٹھ جاتا تو دوسرے لوگ آجاتے یہاںتک کہ تمام اہل خندق کھانا کھا گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11312
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه بنحوه البخاري: 3070، 4102،ومسلم: 2039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15093»
حدیث نمبر: 11313
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ حَدِيقَتَيْنِ وَلِيَهُودِيٍّ عَلَيْهِ تَمْرٌ وَتَمْرُ الْيَهُودِيِّ يَسْتَوْعِبُ مَا فِي الْحَدِيقَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ الْعَامَ بَعْضًا وَتُؤَخِّرَ بَعْضًا إِلَى قَابِلٍ“ فَأَبَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا حَضَرَ الْجِدَادُ فَآذِنِّي“ قَالَ فَآذَنْتُهُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَجَعَلْنَا نَجُدُّ وَيُكَالُ لَهُ مِنْ أَسْفَلِ النَّخْلِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِالْبَرَكَةِ حَتَّى أَوْفَيْنَاهُ جَمِيعَ حَقِّهِ مِنْ أَصْغَرِ الْحَدِيقَتَيْنِ فِيمَا يَحْسِبُ عَمَّارٌ ثُمَّ أَتَيْنَا هُمْ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا ثُمَّ قَالَ ”هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد احد کے دن شہید ہوگئے تھے، وہ اپنے ترکہ میں دو باغ چھوڑ گئے تھے، ان کے ذمہ ایک یہودی کا کھجوروں کی صورت میں قرضہ تھا، یہودی کا قرض دونوں باغوں کے پھل سے بھی زائد تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: کیا تم اتنی رعایت دے سکتے ہو کہ کچھ قرض اس سال لے لو اور کچھ آئندہ سال۔ اس نے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب کھجور کا پھل تیار ہو تو مجھے اطلاع کرنا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ ہم پھل اتارنے لگے اور کھجور کے نیچےیہودی کے لیے کھجوروں کا وزن کیا جانے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برکت کی دعافرماتے رہے۔ ہم نے چھوٹے باغ کے پھل سے یہودی کو سارا قرض ادا کر دیا۔ اس کے بعد ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تازہ کھجور اور پانی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور صحابہ نے کھجوریں کھائیں اور پانی پیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہے، جن کی بابت تم سے پوچھ گچھ ہوگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11313
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3580 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15206 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15276»
حدیث نمبر: 11314
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقُلْتُ لَهُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ وَلَيْسَ عِنْدِي إِلَّا مَا يُخْرِجُ نَخْلُهُ فَلَا يَبْلُغْ مَا يَخْرُجُ سُدُسَ مَا عَلَيْهِ قَالَ فَانْطَلِقْ مَعِي لِكَيْلَا تَفَحَّشَ عَلَيَّ الْغُرَمَاءُ فَمَشَى حَوْلَ بَيْدَرٍ مِنْ بَيَادِرِ التَّمْرِ ثُمَّ دَعَا وَجَلَسَ عَلَيْهِ وَقَالَ ”أَيْنَ غُرَمَاؤُهُ“ فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي لَهُمْ وَبَقِيَ مِثْلُ الَّذِي أَعْطَاهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان کے والد مقروض شہید ہوئے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کی کہ میرے والد فوت ہوگئے ہیں اور ان کے ذمے قرض ہے،جبکہ میرے پاس کھجوروں کے پھل کے سوا ادائیگی کے لیے اور کچھ نہیں ہے اور کھجوروں کا پھل قرض کا چھٹا حصہ بھی نہیں ہوگا۔ تو آپ میرے ساتھ چلیں تاکہ قرض خواہ میرے ساتھ سخت کلامی نہ کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے ڈھیروں میں سے ایک ڈھیر کے گرد چکر کاٹنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی اور بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اس کے قرض خواہ کہاں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے حق ان کو پورے کر دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قدر ان کو دیا اتنا ہی پھل باقی بچا رہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11314
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14997»
حدیث نمبر: 11315
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطْعِمُهُ فَأَطْمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسْقَ شَعِيرٍ فَمَا زَالَ الرَّجُلُ يَأْكُلُ مِنْهُ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَوَصِيفٌ لَهُمْ حَتَّى كَالُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ لَمْ تَكِيلُوهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ وَلَقَامَ لَكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھانا طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک وسق (یعنی ساٹھ صاع) جو عطا فرمائے۔ کافی عرصہ تک وہ آدمی، اس کی بیوی اور ان کا ایک لڑکا اس سے کھاتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اس کو ماپ لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی پیمائش نہ کرتے تو تم اس سے کھاتے رہتے اور وہ تمہارے پاس موجود رہتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11315
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14676»
حدیث نمبر: 11316
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةَ كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا الْإِدَامَ وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ فَعَمَدَتْ إِلَى عُكَّتِهَا الَّتِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ فِيهَا سَمْنًا فَمَا زَالَ يَدُومُ لَهَا أُدْمُ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ وَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَعَصَرْتِيهِ“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ لَكِ مُقِيمًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا چمڑے کے ایک برتن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گھی بطور ہدیہ بھیجا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ان کے بیٹوں نے ان سے سالن طلب کیا، ان کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، جسے وہ بطور سالن دیتیں، وہ جس برتن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گھی بھیجا کرتی تھیں، اس میں انہوں نے تھوڑا سا گھی پایا، ایک عرصہ تک وہی گھی ان کے بیٹوں کے لیے سالن کا کام دیتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اسے نچوڑ دیا۔ پھر اس نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا (کہ برتن کا گھی تو ختم ہوگیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اسے نچوڑا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے ویسے ہی استعمال کرتی رہتی تو وہ تیرے لیے کبھی ختم نہ ہوتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعدد معجزات بیان ہوئے ہیں کہ آپ کی برکت سے کھانے کی معمولی مقدار میں اس قدر برکت ہوئی کہ وہ کھانا جو بظاہر تھوڑا ہوتا تھا، لیکن بہت بڑی تعداد کی ضرورت پوری کر جاتا۔ حدیث نمبر (۱۱۳۰۳)کے مطابق تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس برکت سے خود اتنا تعجب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی گواہی دی اور اس شہادت کی بنا پر جنت میں جانے کی خوشخبری بھی سنا دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11316
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14719»