کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
حدیث نمبر: 11293
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَّةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ ”مَا شَأْنُكُمْ؟“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا فَقُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ کے دن لوگوں کو شدید پیاس لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چمڑے کا ایک چھوٹا سا برتن تھا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کیا کرتے تھے، لوگ اس برتن کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ انہوں نے عر ض کیا: اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے موجود پانی کے علاوہ ہمارے پاس پینےیا وضو کرنے کے لیے پانی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چمڑے کے اس برتن میں رکھ دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے پانی چشموں کی مانند پھوٹنے لگا۔ہم نے پانی پیااور وضو کیا۔سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی رہتا ،ویسے ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔
حدیث نمبر: 11294
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ“ قَالَ الْأَعْمَشُ فَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ كَمْ كَانَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، صحابہ کو پانی نہ ملا، پھر پانی سے بھرا ہوا پیتل کا ایک برتن لایا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا اور اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا۔میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے پانی پھوٹ رہا ہے۔ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: وضو کے پانی اور اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی برکت کی طرف آؤ۔ اعمش کہتے ہیں : مجھے سالم بن ابی جعد نے بتایا کہ انہوں نے جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس دن لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم پندرہ سو (1500) تھے۔
حدیث نمبر: 11295
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ ”هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟“ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”فَأْتِنِي بِهِ“ قَالَ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ ”نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حال میں صبح کی کہ لشکر میں (لوگوں کے پاس اپنی ضروریات کے لیے) پانی (بالکل ) نہ تھا۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! لشکرمیں پانی بالکل نہیںہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ پانی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وہ پانی میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں برتن کے منہ میں ڈال کر انگلیوں کو ذرا کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وضو کے لیے بابرکت پانی موجود ہے۔
حدیث نمبر: 11296
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ كُلُّ قَرِيبِ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ وَبَقِيَ مَنْ كَانَ أَهْلُهُ نَائِيَ الدَّارِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حَجَارَةٍ فَصَغُرَ أَنْ يَبْسُطَ أَكُفَّهُ فِيهِ قَالَ فَضَمَّ أَصَابِعَهُ قَالَ فَتَوَضَّأَ بَقِيَّتُهُمْ قَالَ حُمَيْدٌ وَسُئِلَ أَنَسٌ كَمْ كَانُوا قَالَ ثَمَانِينَ أَوْ زِيَادَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز کے لیے آواز دی گئی، جن لوگوں کے گھر مسجد کے قریب تھے، وہ سب اٹھ کر گھروں کو چلے گئے، (تاکہ وضو کر کے آئیں)۔ صرف وہ لوگ رہ گئے جن کے گھر مسجد سے دور تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا، وہ اس قدر چھوٹا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں ہتھیلی کو نہ پھیلا سکے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگلیوں کو آپس میں ملالیا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی کتنے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسییا اس سے کچھ زائد افراد تھے۔
حدیث نمبر: 11297
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبَعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا ثَلَاثَمِائَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوراء مقام پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں محض اس قدر پانی بھی نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیاں اس میں ڈوب جاتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو وضو کرنے کا حکم دیااور اپنی ہتھیلی پانی میں رکھ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے اور ان کے کناروں سے پانی نکلنے لگا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم تین سو تھے۔
حدیث نمبر: 11298
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوا فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوئِهِ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ يَدَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا مِنْهُ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبَعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عصر کی نماز کے وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، لوگوں نے وضو کرنے کے لیے پانی تلاش کیا، مگر انہیں پانی نہ مل سکا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضوء کرنے کا پانی پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس پانی سے وضوء کریں۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ کے نیچے سے پانی پھوٹتے دیکھا، لوگوں نے وضو کرنا شروع کیا،یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔
حدیث نمبر: 11299
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِّثْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ شَيْئًا شَهِدْتَهُ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ يَوْمًا ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهَا عَلَيْهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالْعَصْرِ فَقَامَ كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ أَهْلٌ يَقْضِي الْحَاجَةَ وَيُصِيبُ مِنَ الْوَضُوءِ وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهَالِي بِالْمَدِينَةِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدْحٍ أَرْوَحَ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَا وَسِعَ الْإِنَاءُ كَفَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ ”أَدْنُوا فَتَوَضَّئُوا“ وَيَدُهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ كَمْ تَرَاهُمْ قَالَ بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ثابت سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! آپ ہمیں ان عجیب باتوں (یعنی معجزات) میں سے کچھ ایسے معجزات بیان فرمائیں جو آپ نے خودملاحظہ کئے ہوںاور وہ آپ کسی دوسرے سے روایت نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل کر ان مقامات پر جا بیٹھے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جبریل علیہ السلام آیا کرتے تھے۔ اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عصر کی نماز کے لیے آواز دی۔ (یہ سن کر)جن لوگوں کے رہائش گاہیں مدینہ منورہ میں تھیں، وہ سب اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے تاکہ قضائے حاجت کرکے باوضو ہو کر آئیں، کچھ مہاجرین جن کے اہل و عیال مدینہ منورہ میں نہ تھے، وہ رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی کا ایک کھلا برتن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مبارک ہتھیلی اس میں رکھ دی۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی برتن میں پوری نہ آسکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار انگلیاںاکٹھی کرکے برتن میں رکھ دیں اور فرمایا: قریب آجاؤاور وضو کرلو۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ برتن میں ہی رہا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ میں نے دریافت کیا: ابو حمزہ! کیا خیال ہے وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ستر سے اسی کے درمیان تھے۔
حدیث نمبر: 11300
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةُ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَ الْقَوْمَ فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ يَمْسَحُونَ وَيَمْسَحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمْ حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ عُيُونَ الْمَاءِ يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّؤُوا أَجْمَعُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ یا سفر میں تھے، ہماری تعداد دو سو دس سے کچھ زائد تھی، اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس پانی ہے؟ (یہ سن کر) ایک آدمی دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیاجس میں معمولی سا پانی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی ایک پیالہ میں انڈیلا اور خوب اچھی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے کو ہٹ گئے اور لوگوں کو وہیں رہنے دیا، سب لوگ پیالے کے قریب اکٹھے ہوگئے اور پانی کو چھونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کا ازدحام اور شور دیکھا تو فرمایا: حوصلہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پانی اور پیالے میں رکھی اور فرمایا: بسم اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضوء مکمل کرو۔ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے بصارت کے متعلق آزمائش میں ڈالا ہے: اس دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ کے درمیان سے پانی کے چشمے رواں دیکھے،یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ متعدد مواقع پر جبکہ پانی کی قلت تھی، اللہ نے اپنے رسول کے ہاتھوں یہ معجزہ ظاہر فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں کی انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری ہو گئے اور پورے لشکر نے اپنی پانی کی ضروریات پوری کر لیں۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آخری عمر میں نابینا ہوگئے تھے، اس لیے انہوں نے اپنی حدیث میں کہا کہ اس ذات کی قسم! جس نے بصارت کے معاملہ میں مجھے آزمایا ہے۔