کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک معجزہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ والا بھی ہے، جو دوران سفر چلنے سے عاجز آکر راستے میں بیٹھ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنا قدم مبارک مارا تو وہ انتہائی پھرتیلا ہو گیا
حدیث نمبر: 11292
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ يَقُولُ إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَرَكَ بِهِ بَعِيرٌ قَدْ أَزْحَفَ بِهِ فَمَرَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ”مَا لَكَ يَا جَابِرُ؟“ فَأَخْبَرَهُ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ ”ارْكَبْ يَا جَابِرُ“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَا يَقُومُ فَقَالَ لَهُ ”ارْكَبْ“ فَرَكِبَ جَابِرٌ الْبَعِيرَ ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ بِرِجْلِهِ فَوَثَبَ الْبَعِيرُ وَثْبَةً لَوْ لَا أَنَّ جَابِرًا تَعَلَّقَ بِالْبَعِيرِ لَسَقَطَ مِنْ فَوْقِهِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِجَابِرٍ ”تَقَدَّمْ يَا جَابِرُ الْآنَ عَلَى أَهْلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَجِدْهُمْ قَدْ يَسَّرُوا لَكَ كَذَا وَكَذَا“ حَتَّى ذَكَرَ الْفُرُشَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا اونٹ تھک ہار کر اور چلنے سے عاجز ہو کر بیٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: جابر! کیا بات ہے؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے اونٹ کی طرف گئے اور فرمایا: جابر! سوار ہو جاؤ۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سوار تو ہو جاؤ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اونٹ پر سوار ہوگئے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں اونٹ کو مارا اوروہ اچھل کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اگر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اونٹ کو قابو کرکے پکڑ نہ لیتے تو اوپر سے نیچے جا گرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اب تم چلو اور اپنے اہل خانہ میں پہنچو۔ تم گھر جا کر دیکھو گے کہ وہ تمہارے لیے فلاں فلاں چیز تیار کر چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بستروں تک کا بھی ذکر کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (گھر میں) ایک بستر مرد کے لیے، ایک اس کی بیوی کے لیے، تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ اور برکت تھی کہ اس طرح کا تھکا ہوا اونٹ خوب چلنے پر قدرت حاصل کر لیتا ہے۔
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ (اس قسم کی) احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے میں حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔
امام نووی نے کہا: علمائے اسلام کا نظر یہ ہے کہ (اس قسم کی) احادیث کامفہوم یہ ہے کہ جب لوگ اس سلسلے میں حاجت اور ضرورت سے بڑھ کر کام کریں گے تو وہ مباہات،تکبر اور دنیوی زینت کے لیے ہو گا اور اس قسم کی چیزمذموم ہوتی ہے، جس کو شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، کیونکہ وہی اس سے راضی ہوتا ہے، لوگوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالتا ہے اور ان کو ان کی کاروائیاں خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔