کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
حدیث نمبر: 11286
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لَهُمْ جَمَلٌ يَسْنُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّ الْجَمَلَ اسْتَصْعَبَ عَلَيْهِمْ فَمَنَعَهُمْ ظَهْرَهُ وَإِنَّ الْأَنْصَارَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّهُ كَانَ لَنَا جَمَلٌ نُسْنِي عَلَيْهِ وَإِنَّهُ اسْتَصْعَبَ عَلَيْنَا وَمَنَعَنَا ظَهْرَهُ وَقَدْ عَطِشَ الزَّرْعُ وَالنَّخْلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ”قُومُوا“ فَقَامُوا فَدَخَلَ الْحَائِطَ وَالْجَمَلُ فِي نَاحِيَةٍ فَمَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ صَارَ مِثْلَ الْكَلْبِ الْكَلِبِ وَإِنَّا نَخَافُ عَلَيْكَ صَوْلَتَهُ فَقَالَ ”لَيْسَ عَلَيَّ مِنْهُ بَأْسٌ“ فَلَمَّا نَظَرَ الْجَمَلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ نَحْوَهُ حَتَّى خَرَّ سَاجِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَاصِيَتِهِ أَذَلَّ مَا كَانَتْ قَطُّ حَتَّى أَدْخَلَهُ فِي الْعَمَلِ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ بَهِيمَةٌ لَا تَعْقِلُ تَسْجُدُ لَكَ وَنَحْنُ نَعْقِلُ فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ ”لَا يَصْلُحُ لِبَشَرٍ وَلَوْ صَلُحَ لِبَشَرٍ أَنْ يَسْجُدَ لِبَشَرٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ مِنْ قَدَمِهِ إِلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ قُرْحَةً تَنْبَجِسُ بِالْقَيْحِ وَالصَّدِيدِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَتْهُ فَلَحَسَتْهُ مَا أَدَّتْ حَقَّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصاریوں کے ایک گھرانے کا اونٹ تھا، جس پروہ پانی لاد کر لاتے اور فصلوں کو سیراب کیا کرتے تھے۔ اونٹ سر کش ہو گیا اور اپنی پشت پر کوئی وزن اٹھانے سے انکاری ہو گیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارا ایک اونٹ تھا ،جس پر ہم فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی لاد کر لایا کرتے تھے، اب وہ ضدی اور سر کش ہو گیا ہے اور اپنی پشت پر کوئی وزن نہیں لادنے دیتا۔ ہماری کھیتیاں اور کھجوروں کے درخت خشک ہو رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایاـ: اٹھو۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ میں داخل ہوئے، وہ اونٹ باغ کے ایک کونے میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف چل کر گئے، انصار رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! وہ باؤلے کتے کی طر ح باؤلا ہو چکا ہے۔ ہمیں خطرہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ نہ کردے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی طرف سے کوئی اندیشہ نہیں۔ اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لپک کرآیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پیشانی کے بال پکڑے تووہ ازحد مطیع و تابع فرمان ہو گیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کام میں لگا دیا، صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ بے عقل جانور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ کرتا ہے ،جبکہ ہم تو عقل مند ہیںاور ہمیں زیادہ حق پہنچتا ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنا روا نہیں، اگر کسی انسان کے لیے کسی انسان کے سامنے سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میںبیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، کیونکہ اس پر شوہر کے بہت حقوق ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر شوہر پاؤں سے سر کی چوٹی تک پھوڑوں سے بھرا ہوا ہو اور ان میں سے خون اور پیپ رستی ہو، اور بیوی آکر اسے چاٹ چاٹ کر صاف کرے، تب بھیوہ اپنے شوہر کا حق پوری طرح ادا نہیں کر سکتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11286
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: والذي نفسي بيده لو كان من قدمه الخ۔ تفرد به حسين المروزي عن خلف بن خليفة، وخلف كان قد اختلط قبل موته، اخرجه البزار: 2454 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12641»
حدیث نمبر: 11287
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَاتُوا خِطَامًا“ فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ قَالَ ”إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک سفر سے واپس آئے، جب ہم بنو نجار کے ایک باغ کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سرکش اونٹ تھا، جو کوئی بھی باغ میں جاتا اونٹ اس پر حملہ کر دیتا، انصار نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کو بلایا، اس نے آکر اپنے ہونٹ زمین پر رکھ دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ــ اس کی مہار لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی رسی اس سے باندھ کر اس کے سر پر رکھ دی اور اونٹ کو اس کے مالک کے سپرد کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: سرکش اور نا فرمان جن و انس کے سوا زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز میرے متعلق جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک اہم قانون بیان کیا گیا ہے کہ سرکش اور باغی جن وانس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز میں شعور اور احساس ہے، جس شعور کی روشنی میں وہ اللہ تعالی، اس کی علامتوں اور اس کے رسول کو سمجھتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 473، والدارمي: 18، والطبراني في الكبير : 12744 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14385»
حدیث نمبر: 11288
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ فَإِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعِبَ وَاشْتَدَّ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا أَحَسَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ رَبَضَ فَلَمْ يَتَرَمْرَمْ مَا دَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک وحشی جانور تھا، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر چلے جاتے تووہ کھیلتا کو دتااور آگے پیچھے دوڑتا تھا۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد محسوس کرتا تو پرسکون ہو جاتا، پھرجب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں رہتے ،وہ کوئی حرکت نہ کرتا مباداکہ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11288
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الصحيح الا ان مجاھد بن جبر لم يصرح بما يفيد سماعه ھذا الحديث من عائشة، اخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 4/ 195، والبزار: 2450، وابويعلي: 4441 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25329»
حدیث نمبر: 11289
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كُنَّا بِالْحُرِّ انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ وَكَانَ آخِرُ الْعَهْدِ مِنْهُمْ وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّمُرِ وَهُوَ يَقُولُ ”وَا عَرُوسَاهْ“ قَالَتْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِيَ الْخِطَامَ فَأَلْقَيْتُهُ فَأَعْلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے، جب ہم وادی حُرّ میں پہنچے اور وہاں سے واپس ہوئے، میں ایک اونٹ پر سوارتھی، اس کے بعد وہ دوڑ پڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ببول کے درختوں کے درمیان زور زور سے پکار رہے تھے: ہائے دلہن! ہائے دلہن! اورمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آوازیں سن رہی تھی۔ اللہ کی قسم! میں اسی کیفیت سے دو چار تھی کہ کسی نے مجھے پکار کر اس کی مہار نیچے پھینکنے کا کہا: میں نے مہار کو نیچے پھینک دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مہار کو اونٹ کے اگلے پاؤں میں الجھا دیا (اور وہ رک گیا)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11289
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة ابي شداد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26641»
حدیث نمبر: 11290
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ قَالَ وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الْخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ قَالَ فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَضَعَ ثَوْبَهُ ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ فَقَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ وَقَالَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا“ ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ وَضَرَبَ أُخْرَى فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ فَقَالَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا“ ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَلَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ فَقَالَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا، کھدائی کے دوران ایک مقام پر چٹان آگئی، جہاں گینتیاں کام نہیں کرتی تھیں، صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر اپنا کپڑا ایک طرف رکھا اور چٹان کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گینتی کو پکڑ کر بسم اللہ پڑھی اور اسے زور سے مارا ،چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے فرمایا: اللہ اکبر، مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئیں ہیں، اللہ کی قسم! میں اپنی اس جگہ سے اس وقت وہاں کے سرخ محلات کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ بسم اللہ پڑھ کر دوبارہ گینتی چلائی، چٹان کا دوسرا ایک تہائی ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے ایران کی چابیاں دے دی گئی ہیں، اللہ کی قسم میں مدائن کو اور وہاں کے سفید محل کو اپنی اس جگہ سے اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ نے بسم اللہ پڑھ کر تیسری مرتبہ گینتی چلائی تو باقی چٹان بھی ریزہ ریزہ ہوگئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زور سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے یمن کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں اس وقت اس جگہ سے صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11290
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ميمون ابي عبد الله، أخرجه النسائي في الكبري : 8858، وابويعلي: 1685 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18898»
حدیث نمبر: 11291
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلَاثًا لَمْ يَذُوقُوا طَعَامًا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا كُدْيَةً مِنَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رُشُّوهَا بِالْمَاءِ فَرَشُّوهَا“ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ أَوِ الْمِسْحَاةَ ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ فَضَرَبَ ثَلَاثًا فَصَارَتْ كَثِيبًا يُهَالُ قَالَ جَابِرٌ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام بغیر کچھ کھائے تین روز تک خندق کھودتے رہے، کھدائی کے دوران صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! یہاں ایک پہاڑی چٹان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو۔ صحابہ کرام نے اس پر پانی چھڑک دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر گینتی اٹھائی اور فرمایا: بسم اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار گینتی چلائی تو وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اچانک میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھا ہوا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہواکہ، سرکش، باغی اور ضدی قسم کے جانور بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ کر مطیع و تابع ہو جاتے تھے۔
اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ کیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں اونٹ کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس نے اپنا منہ زمین پر رکھ دیا تھا۔ جیسا کہ اسی باب کی حدیث سے واضح ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11291
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4101 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14260»