کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ جمادات اور حیوانات کا گفتگو کرنا اور کھجور کے تنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں رونابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے
حدیث نمبر: 11277
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ“ (وَفِي رِوَايَةٍ لَيَالِيَ بُعِثْتُ) ”إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں، وہ بعثت سے پہلے یا بعثت والی راتوں کو مجھ کو سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان ہے، نیز معلوم ہوا کہ جمادات میں بھی تمیز اور شناخت کا شعور موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} … اور بے شک ان سے کچھ پتھر یقینا وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں (سورۂ بقرہ: ۷۴)
حدیث نمبر: 11278
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ عَدَا الذِّئْبُ عَلَى شَاةٍ فَأَخَذَهَا فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَأَقْعَى الذِّئْبُ عَلَى ذَنَبِهِ قَالَ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ تَنْزِعُ عَنِّي رِزْقًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيَّ فَقَالَ يَا عَجَبِي ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَى ذَنَبِهِ يُكَلِّمُنِي كَلَامَ الْإِنْسِ فَقَالَ الذِّئْبُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَثْرِبَ يُخْبِرُ النَّاسَ بِأَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ قَالَ فَأَقْبَلَ الرَّاعِي يَسُوقُ غَنَمَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَزَوَاهَا إِلَى زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِي ”أَخْبِرْهُمْ“ فَأَخْبَرَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ وَيُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَيُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کی خبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنے بکریوں کو ہانکنا شروع کیا،یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔
حدیث نمبر: 11279
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ يَهُشُّ عَلَيْهَا فِي بَيْدَاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ إِذْ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ فَجَهْجَأَهُ الرَّجُلُ فَرَمَاهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى اسْتَنْقَذَ مِنْهُ شَاتَهُ ثُمَّ إِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتَّى أَقْعَى مُسْتَذْفِرًا بِذَنَبِهِ مُقَابِلَ الرَّجُلِ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی ذو الحلیفہ میں بیداء مقام پر اپنی بکریوں پر درختوں کے پتے جھاڑ رہا تھا، اچانک ایک بھیڑ ئیے نے حملہ کیا اور ایک بکری لے گیا، لیکن اس بندے نے اس کو ڈانٹا، چلّایا اور اس کو پتھر مارا اور اس سے اپنی بکری چھڑا لی، پھر وہ بھیڑیا اپنی دم کو ٹانگوں کے درمیان کر کے اس آدمی کے سامنے بیٹھ گیا، … … ۔ آگے وہی روایت ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے پہلے سابقہ مذہبی ادب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واضح تذکرہ ملتاہے۔ اس ضمن میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بڑا خوبصورت تذکرہ موجود ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۱۷۴۳)، نیز حدیث نمبر (۱۰۴۸۶) میں مذکورہ مضمون ملاحظہ ہو۔
حدیث نمبر: 11280
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عَبْسٍ قَالَ كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً قَالَ فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا يَا آلَ ذَرِيحٍ قَوْلٌ فَصِيحٌ رَجُلٌ يَصِيحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹ سے یہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ جمادات کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی و رسول ہونے کا شعور تھا۔ اور مکہ میں ایک پتھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل آپ کو سلام کہا کرتا تھا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ چاہے تو جمادات کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے۔
نیز معلوم ہوا کہ علامات قیامت میں سے ایکیہ بھی ہے کہ قیامت سے قبل درندے یعنی جانور انسانوں سے انسانوں کی طرح ہم کلام ہوں گے اور اللہ چاہے تو جانوروں کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے جیسا کہ بھیڑیئے نے چرواہے کے ساتھ گفتگو کی۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ چاہے تو جمادات کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے۔
نیز معلوم ہوا کہ علامات قیامت میں سے ایکیہ بھی ہے کہ قیامت سے قبل درندے یعنی جانور انسانوں سے انسانوں کی طرح ہم کلام ہوں گے اور اللہ چاہے تو جانوروں کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے جیسا کہ بھیڑیئے نے چرواہے کے ساتھ گفتگو کی۔