کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11268
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا صَبِيٌّ أَصَابَهُ بَلَاءٌ وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ مَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً قَالَ ”نَاوِلِينِيهِ“ فَرَفَعَتْهُ إِلَيْهِ فَجَعَلَتْهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا وَقَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ“ ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ ”الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ“ قَالَ فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ فَقَالَ ”مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ“ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ قَالَ ”انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ“ (وَفِي رِوَايَةٍ فَأَهْدَتْ إِلَيْهِ كَبْشَيْنِ وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنَ السَّمْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”خُذِ الْأَقِطَ وَالسَّمْنَ وَأَحَدَ الْكَبْشَيْنِ وَرُدَّ عَلَيْهَا الْآخَرَ“) قَالَ وَخَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجَبَّانَةِ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ ”انْظُرْ وَيْحَكَ هَلْ تَرَى مِنْ شَيْءٍ يُوَارِينِي“ قُلْتُ مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أَرَاهَا تُوَارِيكَ قَالَ ”فَمَا بِقُرْبِهَا“ قُلْتُ شَجَرَةٌ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا قَالَ ”فَاذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ“ قَالَ فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ ”اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا“ فَرَجَعَتْ قَالَ وَكُنْتُ عِنْدَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَهُ جَمَلٌ يُخَبِّبُ حَتَّى صَوَّبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ ”وَيْحَكَ انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا“ قَالَ فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ ”مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا“ فَقَالَ وَمَا شَأْنُهُ قَالَ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ عَمِلْنَا عَلَيْهِ وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ حَتَّى عَجَزَ عَنِ السِّقَايَةِ فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ قَالَ ”فَلَا تَفْعَلْ هَبْهُ لِي أَوْ بِعْنِيهِ“ فَقَالَ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَوَسَمَهُ بِسِمَةِ الصَّدَقَةِ ثُمَّ بَعَثَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنایعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین ایسی باتیں ملاحظہ کی ہیں، جن کو نہ تو مجھ سے پہلے کسی نے دیکھا اور نہ میرے بعد ہی کوئی ان کا ملاحظہ کر سکے گا، ایک دفعہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوران سفر راستہ پر بیٹھی ہوئی ایک عورت کے پاس سے گزرے، اس کے پاس اس کا ایک (چھوٹا سا) بچہ تھا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کو جنات چمٹے ہوئے ہیں، اس کی وجہ سے ہم بہت زیادہ پریشان ہیں، اس کو ایک ایک دن میں کئی کئی بار دورہ پڑتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھے پکڑاؤ۔ اس نے بچے کو اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور پالان کی لکڑی کے درمیان بٹھا دیا، آپ نے اس کا منہ کھول کر اس میں تین بار پھونک ماری، جس کے ساتھ تھوک بھی تھا اور یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ أَنَا عَبْدُ اللّٰہِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللّٰہِ۔ (میں اللہ کا نام لے کر کہتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ ہوں،تو ناکام ہو جا اے اللہ کے دشمن )پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بچہ اس عورت کو تھما دیا اور فرمایا: تم واپسی پر ہمیں یہیں ملنا اور بتلانا کہ کیا نتیجہ نکلا ہے۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:۔ ہم آگے چلے گئے، پھر جب ہم واپس آئے تو ہم نے اس عورت کو اسی جگہ پایا۔ اس کے پاس تین بکریاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تمہارے بچے کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا:اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ہم نے اُس وقت سے اب تک کوئی چیز محسوس نہیں کی۔ آپ یہ بکریاں بطور عطیہ (ہدیہ) قبول فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اتر کر ایک بکری لے لو اور باقی واپس کردو۔ ایک روایت میں ہے: اس نے دو مینڈھے اور کچھ پنیر اور کچھ گھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پنیر، گھی اور ایک مینڈھا رکھ لو اور دوسرا مینڈھا واپس لوٹا دیا۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک روز جبانہ (ویرانے) کی طرف نکل گیا، جب ہم کھلی جگہ پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا بھلا ہو، کوئی ایسی چیز دیکھوجو (قضائے حاجت کے وقت) میرے لیے آڑ بن سکے۔ میں نے عرض کیا: مجھے تو ایسی کوئی نظر نہیں آرہی، صرف ایک درخت ہے، میرے خیال میں وہ بھی آپ کی آڑ کا کام نہیں دے سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے قریب کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا: اس جیسا ایک درخت ہے یایوں کہا کہ اس کے قریب ہی ایک اور درخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان درختوں کے پاس جا کر کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ تم اللہ کے حکم سے اکٹھے ہو جاؤ۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ بات سن کر وہ دونوں درخت آپس میں مل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اوٹ میں قضائے حاجت کی اور پھر واپس آگئے اور فرمایا: تم ان درختوں کے پاس جا کر ان سے کہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم دونوں اپنی اپنی جگہ پہ واپس چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ اپنی اپنی جگہ لوٹ گئے۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور اس نے اپنی گردن کا نیچے والا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے زمین پر رکھ دیا اور اس کی آنکھ سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا بھلا ہو، پتہ کرکے آؤ کہ یہ اونٹ کس کا ہے؟ اس کا ایک کام ہے۔ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، وہ ایک انصاری کا تھا۔ میں اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بلا لایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے اونٹ کو کیا شکایت ہے؟ اس نے کہا:اسے کیا شکایت ہے؟ میں تو نہیں جانتا کہ اسے کیا شکایت ہے؟ ہم اس پر کام کرتے رہے اور پانی لاد کر لاتے رہے، اب یہ پانی اٹھا کر لانے سے قاصر ہے، تو ہم نے کل مشورہ کیا کہ اسے نحر (ذبح) کرکے اس کا گوشت تقسیم کر دیں۔ آپ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرنا، تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کر دو یا فروخت کردو۔ اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ آپ کا ہے، آپ رکھ لیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بیت المال کے صدقہ والے اونٹوں والا نشاں لگا کر ادھر بھیج دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ یہ روایت ضعیف ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں یہ امور ثابت ہیں، جمادات، حیوانات، نباتات، غرضیکہ ہر چیز میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا شعور اور احساس ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے ثابت ہوتا ہے: سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنْ سَفَرٍ، حَتّٰی إِذَا دَفَعْنَا إِلٰی حَائِطٍ مِنْ حِیْطَانِ بَنِی النَّجََّارِ إِذَا فِیْہِ جَمَلٌ لَا یَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلاَّ شَدَّ عَلَیْہِ، قَالَ: فَذَکَرُوْا ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فَجَائَ حَتّٰی أَتَی الْحَائِطَ، فَدَعَا الْبَعِیْرَ، فَجَائَ وَاضِعًا مِشْفَرَہٗإِلَی الْأرْضِ حَتّٰی بَرَکَ بَیْنَیَدَیْہِ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((ھَاتُوْاخِطَاماً۔)) فَخَطَمَہٗوَدَفَعَہٗإِلٰی صَاحِبِہِ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی النَّاسِ، قَالَ: ((إِنَّہُ لَیْسَ شَیْئٌ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ إِلَّا یَعْلَمُ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ، إِلَّاعَاصِیَ الْجِنِّ وَالْأِنْسِ۔)) … ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک سفر سے واپس آئے، جب ہم بنو نجار کے ایک باغ کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سرکش اونٹ تھا، جو کوئی بھی باغ میں جاتا اونٹ اس پر حملہ کر دیتا، انصار نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کو بلایا، اس نے آکر اپنے ہونٹ زمین پر رکھ دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ــ اس کیمہار لائو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی رسی اس سے باندھ کر اس کے سر پر رکھ دی اور اونٹ کو اس کے مالک کے سپرد کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: سرکش اور نا فرمان جن و انس کے سوا زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز میرے متعلق جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ (مسند احمد: ۱۴۳۳۳، ابن ابی شیبہ: ۱۱/ ۴۷۳، دارمی: ۱۸)
یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے مزید تحقیق کے لیے دیکھیں مسند محقق ج: ۲۲، ص: ۲۳۳۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11268
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الرحمن بن عبد العزيز اخرجه ابن ابي شيبة: 11/488 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17690»
حدیث نمبر: 11269
(وَعَنْهُ عَنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ وَجَاءَ بَعِيرٌ فَضَرَبَ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ جَرْجَرَ حَتَّى ابْتَلَّ مَا حَوْلَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ الْبَعِيرُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَاحِبَهُ يُرِيدُ نَحْرَهُ“ فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَوَاهِبُهُ أَنْتَ لِي“ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي مَالٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ قَالَ ”اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا“ فَقَالَ لَا جَرَمَ لَا أُكْرِمُ مَالًا لِي كَرَامَتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَتَى عَلَى قَبْرٍ يُعَذَّبُ صَاحِبُهُ فَقَالَ ”إِنَّهُ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ“ فَأَمَرَ بِجَرِيدَةٍ فَوُضِعَتْ عَلَى قَبْرِهِ فَقَالَ ”عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) یہ حدیث بھی گزشتہ حدیث کی مانند مروی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس میںیوں ہے: ایک اونٹ نے آکر اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا اورپھر اس نے اس قدر جھاگ نکالی کہ اردگرد کی جگہ تر ہوگئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: آیا تم جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہہ رہاہے ؟ یہ کہہ رہا ہے کہ اس کا مالک اسے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مالک کو پیغام بھیجا، جب وہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کرتے ہو؟ اس نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ مجھے اپنے سارے مال میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو پھر میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتاہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے اے اللہ کے رسول! میرا جس قدر بھی مال ہے، میں سب سے بڑھ کر اس کا اکرام کروں گا۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے، اس قبر والے کو عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کسی مشکل کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی قبر پر ایک چھڑی رکھنے کا حکم دیا، پس وہ رکھ دی گئی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امید ہے کہ جب تک یہ تر رہے گی اس کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11269
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حبيب بن ابي جبيرة، اخرجه الطبراني في الكبير : 2/ 705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17702»
حدیث نمبر: 11270
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ قَالَ ثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ رَأَيْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ إِذْ مَرَرْنَا بِبَعِيرٍ يُسْنَى عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآهُ الْبَعِيرُ جَرْجَرَ وَوَضَعَ جِرَانَهُ فَوَقَفَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ“ فَجَاءَ فَقَالَ ”بِعْنِيهِ“ فَقَالَ لَا بَلْ أَهَبُهُ لَكَ فَقَالَ ”لَا بِعْنِيهِ“ قَالَ لَا بَلْ أَهَبُهُ لَكَ وَإِنَّهُ لِأَهْلِ بَيْتٍ مَا لَهُمْ مَعِيشَةٌ غَيْرُهُ قَالَ ”أَمَا إِذْ ذَكَرْتَ هَذَا مِنْ أَمْرِهِ فَإِنَّهُ شَكَا كَثْرَةَ الْعَمَلِ وَقِلَّةَ الْعَلَفِ فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ“ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ شَجَرَةٌ تَشُقُّ الْأَرْضَ حَتَّى غَشِيَتْهُ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ ذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ ”هِيَ شَجَرَةٌ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهَا“ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَمَرَرْنَا بِمَاءٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا بِهِ جِنَّةٌ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْخَرِهِ فَقَالَ ”اخْرُجْ إِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ سَفَرِنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَاءِ فَأَتَتْهُ الْمَرْأَةُ بِجَزُورٍ وَلَبَنٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرُدَّ الْجَزُورَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَشَرِبَ مِنَ اللَّبَنِ فَسَأَلَهَا عَنِ الصَّبِيِّ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا رَأَيْنَا مِنْهُ رَيْبًا بَعْدَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(تیسری سند ) سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین امور مشاہدہ کئے، ایک دفعہ ہم آپ کے ساتھ جا رہے تھے، ہم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے، جس پر کھیتی کو سیراب کرنے کے لیے پانی لادا جاتا تھا۔ اونٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ جھاگ اگلنے لگا اور اس نے( زمین پر بیٹھ کر) اپنی گردن زمین پر لگا دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس کھڑ ے ہوگئے اور پوچھا: اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم یہ اونٹ مجھے فروخت کردو۔ اس نے کہا: میں اسے آپ کے ہاتھ فروخت نہیں کرتا، البتہ آپ کو ہبہ کر دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم اس کو میرے ہاتھ پر فروخت کردو۔ اس نے کہا: جی نہیں، میں اسے فروخت نہیں، بلکہ ہم اسے آپ کے نام ہبہ کرتے ہیں۔ وہ اونٹ ایسے گھرانے کا تھاکہ جن کا اس کے سوا کوئی اور ذریعۂ معاش نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے، وہ اپنی جگہ درست ہے، دراصل بات یہ ہے کہ اس نے کام کی کثرت اور گھاس کی کمی کی شکایت کی ہے، تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد ہم آگے گئے اور ایک مقام پر رکے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے، ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور اس نے آپ کو ڈھانپ لیا، پھر وہ اپنی جگہ واپس لوٹ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے اس واقعہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس درخت نے اپنے رب تعالیٰ سے اجازت طلب کی کہ وہ اللہ کے رسول کو سلام کہہ لے، تو اسے اجازت دے دی گئی۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم آگے گئے اور پانی کے ایک چشمے (یا تالاب) کے پاس سے گزرے۔ ایک عورت اپنے بیٹے کو لیے آئی، جسے جن چمٹے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کی ناک کو پکڑ کر فرمایا: نکل جا، میں اللہ کا رسول محمد (تجھے یہ حکم دے رہا) ہوں۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:پھر ہم آگے روانہ ہوگئے، ہم سفر سے واپس آئے اور اس چشمے یا تالاب کے پاس سے گزرے تو وہ عورت ایک موٹی تازی بکری اور دودھ لے کر حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری واپس کر دینے کا حکم دیا اور صحابہ کو دودھ پی لینے کا امر صادر فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بچے کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! ہم نے آپ کے بعد اس میں بیماری کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11270
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن حفص، وعطاء بن السائب كان قد اختلط،وانظر الحديثين بالطريقين الاول والثاني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17708»
حدیث نمبر: 11271
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ مَا أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ فَذَكَرَ أَمْرَ الصَّبِيِّ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَأَمْرَ الْبَعِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ”مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ زَعَمَ أَنَّكَ سَانِيهِ حَتَّى إِذَا كَبُرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ“ قَالَ صَدَقْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(چوتھی سند) سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو باتیں دیکھی ہیں، دوسروں نے ان سے کم ہی دیکھی ہوں گی۔ پھر انہوں نے بچے کا، دو کھجوروں کا اور اونٹ والا واقعہ ذکر کیا۔ البتہ اس روایت میں یوں ہے کہ آپ نے اونٹ کے مالک سے فرمایا: کیا بات ہے، یہ اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے؟ یہ کہہ رہا ہے کہ تم اس پر پانی لاد لاد کر اس سے کام لیتے رہے اور اب جب یہ بوڑھا ہو گیا ہے تو تم اسے نحر کر دینا چاہتے ہو۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے! آپ کی بات واقعی درست ہے، میرایہی ارادہ ہے،اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اسے نحر(ذبح) نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11271
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، المنھال بن عمرو لم يسمع من يعلي بن مرة، اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 680، والبيھقي في الدلائل : 6/ 20 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17710»
حدیث نمبر: 11272
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ وَهُوَ يَقُولُ ”أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمْ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ“ ثُمَّ أَقْبَلَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا ذَاهِبُ الْعَقْلِ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ لَهَا ”ائْتِينِي بِمَاءٍ“ فَأَتَتْهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَتَفَلَ فِيهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ ”اذْهَبِي فَاغْسِلِيهِ بِهِ وَاسْتَشْفِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ“ فَقُلْتُ لَهَا هَبِي لِي مِنْهُ قَلِيلًا لِابْنِي هَذَا فَأَخَذْتُ مِنْهُ قَلِيلًا بِأَصَابِعِي فَمَسَحْتُ بِهَا شِقَّةَ ابْنِي فَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ فَسَأَلْتُ الْمَرْأَةَ بَعْدُ مَا فَعَلَ ابْنُهَا قَالَتْ بَرِئَ أَحْسَنَ بَرْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سلیمان بن عمرو بن احوص ازدی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمرۂ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اورایک عورت اپنے بچے کو لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئی اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا پاگل ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: پانی لاؤ۔ وہ پتھر کے ایک برتن میں پانی لے کر آئی، آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور آپ نے اپنا چہرہ اس برتن کے اوپر دھویا، پانی نیچے اس برتن میں گرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس برتن میں دعا پڑھی اور فرمایا : جاؤ بچے کو اس پانی کے ساتھ غسل دینا اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا کرنا۔ میں نے اس سے کہا: تو اس پانی میں سے تھوڑا سا مجھے بھی دے دے تاکہ میں اپنے بیٹے کو پلا لوں، پھر میں نے اپنی انگلی کے ساتھ اس میں سے تھوڑا سا پانی لے کر اپنے بیٹے کے ہونٹ پر لگا دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ سب سے بڑھ کر نیک ہوا۔ میں نے اس کے بعد اس عورت سے اس کے بیٹے کے متعلق دریافت کیا کہ اس کا کیا حال ہے؟ اس نے بتلایاکہ وہ بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون قوله: فأتته بماء الخ ، وھذا اسناد ضعيف لضعف يزيد بن عطاء ويزيد بن ابي زياد الھاشمي، ولجھالة حال سليمان بن عمرو بن الاحوص ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27672»
حدیث نمبر: 11273
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهِ لَمَمًا وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا قَالَ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا لَهُ فَتَعَّ تَعَّةً فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ فَشُفِيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے بیٹے کو لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس پر جنون یعنی پاگل پن کا اثر ہے اور اسے ہمارے کھانے کے وقت دورہ پڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے دعا کی، تو اسے ایک قے آئی اور اس کے منہ سے کتے کے پلے کی سی کوئی سیاہ چیز نکلی اور و ہ شفا یاب ہوگیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11273
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فرقد السبخي،قال البخاري: في حديثه مناكير، وقال احمد وابوحاتم: ليس بالقوي، اخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 50، والدارمي: 19، والطبراني: 12460 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2133»
حدیث نمبر: 11274
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ قَالَ هَذِهِ ضَرْبَةٌ أُصِبْتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ يَوْمَ أُصِبْتُهَا قَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن عبید سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر زخم کا ایک نشان دیکھا، میں نے پوچھا: ابو مسلم! یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: خیبر کے دن مجھے زخم لگا تھا، یہ اس کا نشان ہے، جس دن مجھے یہ زخم آیا تھا، لوگوں نے کہا: سلمہ رضی اللہ عنہ کو شدید قسم کا زخم آیا ہے، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ نے اس زخم پر تھوک کے ساتھ تین پھونکیں ماریں، اس کے بعد اب تک مجھے اس میں کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4206 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16629»
حدیث نمبر: 11275
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرِنِي الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْكَ فَإِنِّي مِنْ أَطَبِّ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أُرِيكَ آيَةً“ قَالَ بَلَى قَالَ فَنَظَرَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ ”أُدْعُ ذَلِكَ الْعِذْقَ“ قَالَ فَدَعَاهُ فَجَاءَ يَنْقُزُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ارْجِعْ“ فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَقَالَ الْعَامِرِيُّ يَا آلَ بَنِي عَامِرٍ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَسْحَرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں : قبیلہ ٔ بنو عامر کا ایک فرد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ کے کندھوں کے درمیان جو ابھرا ہوا گوشت ہے، وہ مجھے دکھلائیں۔ میں ایک ماہر طبیب ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: آیا میں تجھے ایک نشانی نہ دکھلاؤں؟ اس نے کہا ضرور دکھلائیں ۔ آپ نے کھجور کے ایک درخت کی طرف دیکھ کر فرمایا: کھجور کے اس درخت کو بلاؤ۔ اس نے اسے بلایا تو وہ چھلانگیں لگاتاہوا آیا اور آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے واپس لوٹ جانے کا حکم دیا تو وہ اپنی جگہ واپس پلٹ گیا۔ تو اس عامری نے کہا :اے آل بنو عامر! میں نے اس سے بڑا جادو گر کبھی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3628 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1954»
حدیث نمبر: 11276
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ فَدَخَلَ يَوْمًا حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ قَدْ أَتَاهُ فَجَرْجَرَ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ قَالَ بَهْزٌ وَعَفَّانُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرَاتَهُ وَذِفْرَاهُ فَسَكَنَ فَقَالَ ”مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ“ فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”أَمَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَهَا اللَّهُ“ إِنَّهُ شَكَا إِلَيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن مجھے سواری پر اپنے پیچھے سوار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے راز دارانہ طور پر ایک بات فرمائی،جو میں کبھی بھی کسی کو نہیں بتلاؤں گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے وقت کسی بلند عمارت یا کھجوروں کے جھنڈکو پسند کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن انصاریوں کے کھجوروں کے باغات میں سے ایک باغ میں تشریف لے گئے، تو ایک اونٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر بلبلانا اور آنکھوں سے آنسو بہانا شرو ع کر دیا۔ جعفر اور عفان سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پشت پر اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ پر سکون ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ـ: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نو جوان نے آکر عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے تمہیں اس جانور کا مالک بنایا ہے۔ کیا تم اس کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور مشقت زیادہ لیتے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11276
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 342 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1745 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1745»