کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ چاند کا پھٹنا، کا بیان
حدیث نمبر: 11264
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شِقَّتَيْنِ حَتَّى نَظَرُوا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اشْهَدُوا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چانددو ٹکڑے ہوا، یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گواہ ہو جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ ایسا عالمی اور کائناتی معجزہ ہے کہ جو ہمارے نبی کے ساتھ خاص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو ایسا معجزہ عطا نہیں کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11264
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3636، 4865،ومسلم: 2800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3583»
حدیث نمبر: 11265
عَنْ أَنَسٍ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ {اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} [القمر: 1-2]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو مکہ میں دو بار چاند دو ٹکڑے ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} … قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر وہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیںیہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ علامہ عبدالرحمن مبارکپوری نے ترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی (ج۴، ص۱۹۱) میں اور حافظ ابن حجر نے صحیح بخاری کی شرح فتح الباری (ج۷، ص۱۸۳) میں دیگر روایات کو سامنے رکھ کر اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ مرتین کا معنی فِلْقَتَیْنِ ہے یعنی چاند دو ٹکڑے ہوا نہ کہ دو مرتبہ پھٹا۔ (عبداللہ رفیق)
وضاحت:
فوائد: … اہل مکہ کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھایا گیا، علماء کے درمیانیہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند ثابت شدہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں، لیکن قریش نے ایمان لانے کی بجائے اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11265
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12718»
حدیث نمبر: 11266
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قتادۃ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11266
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2802 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14003»
حدیث نمبر: 11267
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَفِرْقَةً عَلَى هَذَا الْجَبَلِ فَقَالُوا سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ فَقَالُوا إِنْ كَانَ سَحَرَنَا فَإِنَّهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوی میں چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر نظر آ رہا تھا، کافروں نے کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے ہم پر جادو کر دیا، لیکن بعض لوگوں نے کہا: اگر ہم پر جادو کر دیا ہے تو اس کو اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ سب لوگوں پر جادو کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11267
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حصين بن عبد الرحمن لم يسمع ھذا الحديث من محمد بن جبير بن مطعم، بينھما جبير بن محمد بن جبير وھو مجھول، أخرجه الترمذي: 3289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16750 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16871»