کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11246
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ“ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هُوَ قَالَ ”نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاںعطا کی گئی ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … زمین کی چابیاں ملنے سے مراد فتوحات ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 434 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 763»
حدیث نمبر: 11247
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُوتِيتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ كَانَ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَيُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ عَنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا“ قَالَ الْأَعْمَشُ فَكَانَ مُجَاهِدٌ يَرَى أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسَ وَالْأَسْوَدَ الْجِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات سے نوازا گیا ہے کہ وہ مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو نہیںدی گئیں، دشمن پر میری ہیبت اور رعب کے ذریعے مدد کی گئی ہے، اس لیے دشمن مجھ سے ایک ماہ کی مسافت پر ہی مرعوب ہو جاتا ہے۔میرے لیےساری زمین کو نماز کی جگہ اور طہارت کا ذریعہ بنایا گیا ہے، میرے لیے اموال غنیمت کو حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں، مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا، مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو ئی دعا کریں جو مانگیں گے ملے گا، لیکن میں نے اس دعا کو آخرت میں اپنی امت کے حق میں سفارش کے طور پر محفوظ کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم میں سے جس آدمی نے اللہ کے ساتھ شرک نہ کیا ہوگا، اسے اس دعا (شفاعت) کا فائدہ ہوگا۔ اعمش راوی کہتے ہیں کہ مجاہد کہا کرتے تھے: سرخ و سیاہ میں سرخ سے انسان اور سیاہ سے مراد جن ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ہر نبی کو اس کی مرضی کے مطابق ایک دعا قبول کروانے کا اختیار ہوتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ اختیار قیامت والے دن استعمال کریں گے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمال شفقت کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11247
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابوداود: 489 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21624»
حدیث نمبر: 11248
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُنَّ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتُهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی بھی نبی کو عطا نہیں کی گئیں تھیں، میں اس کا اظہار فخر کے طور پر نہیں، بلکہ اللہ کی نعمت اور احسان کے طور پر کر رہا ہوں۔ مجھے سرخ و سیاہیعنی تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے،ایک ماہ کی مسافت سے میرا رعب و ہیبت دشمن پر طاری کرکے میری مدد کی گئی ہے،اموال غنیمت کو میرے لیے حلال کر دیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے غنیمت کے اموال کسی کے لیے بھی حلال نہیں کیے گئے تھے، میرے لیے ساری زمین کو نماز کیجگہ اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے اور مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے اور میں نے اس دعا کو اپنی امت کے ایسے لوگوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے، جو اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سابقہ امتوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے مخصوص عبادت خانوں اور گرجا گھروں میں عبادت کریں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیےیہ گنجائش نکالی گئی ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی مسجد میں نہیں جا سکتا تو وہ زمین کے کسی بھی خطے میں نماز ادا کر سکتا ہے اور اگر وضو اور غسل جنابت کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11248
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 402، والبزار: 3460، والطبراني: 11047، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2742 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2742»
حدیث نمبر: 11249
وَعَنْ أَبِي مُوسَى بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً وَإِنِّي أَخْبَأْتُ شَفَاعَتِي ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، (یہ حدیث گزشتہ حدیث کی مانندہے) البتہ اس میں ہے: مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے اور ہر نبی نے اپنی زندگی میں ہی شفاعت کر لی، لیکن میں نے اپنی شفاعت کو چھپا لیا، (یعنی محفوظ اور مؤخر کر لیا)، اب یہ شفاعت میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کے حق میں کروں گا، جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … رعب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ظاہری اسباب کے بغیر دشمنوں کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رعب موجود ہے، رہا مسئلہ ظاہری اسباب کی وجہ سے رعب کاہونا تو یہ ایک روٹین والا معاملہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11249
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 11/433 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19973»
حدیث نمبر: 11250
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث نبوی بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11250
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7068»
حدیث نمبر: 11251
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34] قَالَ قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کو پانچ چیزوں کے علاوہ ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئی ہیں۔ وہ پانچ چیزیںیہ ہیں: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} … قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ (سورۂ لقمان: ۲۴) عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ عبداللہ بن سلمہ سے دریافت کیا کہ آیا آپ نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خودسنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پچاس سے بھی زائد مرتبہ سنی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر چیز کی چابیاں دے دی گئیں،یہ الفاظ تو اگرچہ عام ہیں، لیکن ان سے مراد وہ خاص علم ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیا جانا تھا، وگرنہ یہ لازم آئے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم لامتناہی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم غیب بھی جاننے والے ہوں، جبکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لَّایَعْلَمُ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ} … آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، وہ غیب کو نہیں جانتے، مگر اللہ تعالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11251
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطيالسي: 385، وابويعلي: 5153 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4167»
حدیث نمبر: 11252
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصِّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تلوار دے کر قیامت سے قبل مبعوث کیا گیا ہے، تاکہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، جس کا کوئی شریک نہیں اور میرا رزق میرے نیزے کی انی کے نیچے رکھا گیا ہے اور جس نے میرے دین کی مخالفت کی، ذلت و رسوائی اس کا مقدر ٹھہری اور جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے شمار ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … جب تلک نبوی منہج کے مطابق جہاد کا سلسلہ جاری رہا اور رہے گا، اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیشین گوئیاں پوری ہوتی رہیں پوری ہوتی رہیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11252
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن ثابت اختلف فيه اقوال المجرحين والعادلين، وخلاصة القول فيه انه حسن الحديث اذا لم ينفرد بما يُنكر، فقد اشار الامام احمد الي ان له احاديث منكرة، وھذا منھا اخرجه ابن ابي شيبة: 5/313، والبخاري معلقا: 6/ 98 (الفتح)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5667»
حدیث نمبر: 11253
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِيءَ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي“ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَشِلُونَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمن پر میری ہیبت کے ذریعے میری مدد کی گئی، مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں، میں سویا ہوا تھا کہ روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھ میں تھما دی گئیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تشریف لے گئے ہیں اور تم ان خزانوں کو سمیٹ رہے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … خزانوںکی چابیوں سے مراد فتوحات کے سلسلے ہیں، جن کے نتیجے میں کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6998، ومسلم: 523 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7620»
حدیث نمبر: 11254
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَأَخْبَرَنَا بِمَا يَكُونُ فِي أُمَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَعَاهُ مَنْ عَاهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ میں شعبہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت میں قیامت تک بپا ہونے والے تمام واقعات بیان فرما دیئے،یاد رکھنے والوں نے یاد رکھا اور بھلا دینے والوں نے بھلا دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11254
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره ، اخرجه الطبراني في الكبير : 20/1077، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18411»
حدیث نمبر: 11255
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ”إِنِّي نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَإِنَّ عَادًا أُهْلِكَتْ بِالدَّبُورِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باد صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ اور قوم عاد کو مغرب کی طرف سے آنے والی تیز ہوا یعنی شدید آندھی کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … باد صبا: یہ معروف ہوا ہے، اس کو قَبول بھی کہتے ہیں، کیونکہیہ خانہ کعبہ کے دروازے کے بالمقابل چلتی ہے، دراصل یہ ہوا مشرق کی سمت سے آتی ہے۔
دبور: یہ ہوا مغرب کی سمت سے چلتی ہے اور بادِ صبا کی ضد ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11255
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1035، 3205،ومسلم: 900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1955»
حدیث نمبر: 11256
قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرْضٌ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ الْوِتْرُ وَالنَّحْرُ وَصَلَاةُ الضُّحَى“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین کام مجھ پر فرض اور تمہارے لیے نفل ہیں، وتر، قربانی اور چاشت کی نماز۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11256
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو جناب الكلبي ضعّفه ابن سعد ويحيي بن سعيد القطان، وابن معين وابوحاتم وغيرھم اخرجه البزار: 2433، والدارقطني: 2/ 21، والحاكم: 1/ 300 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2050»
حدیث نمبر: 11257
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ رَجُلٌ فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، صفوں کے آخر میں ایک آدمی نے نماز اچھی طرح ادا نہیں کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیراتو اس سے فرمایا: ارے فلاں! کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے، تم نماز کس طرح ادا کرتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو وہ مجھ سے پوشیدہ ہے، اللہ کی قسم! میں جس طرح آگے دیکھتا ہوں، اسی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خصوصیت اور معجزہ حاصل تھا، جس کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقتدیوں سے تھا، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تک اپنے جوتے سے لگی ہوئی نجاست کا علم نہیں ہوا تھا، جب تک جبریل علیہ السلام نے تشریف لا کر بتایا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11257
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 423 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9795»
حدیث نمبر: 11258
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمِئِينَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ الْمَثَانِيَ وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تورات کے عوض سبع طوال (سات مفصل سورتیں)،زبور کے عوض مئیں،انجیل کے عوض مثانی دی گئی ہیں اور مفصل سورتوں کے ذریعے باقی انبیاء پر مجھے فضیلت دی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن کریم کی سورتیں چار قسم کی ہیں: (۱) طِوَال: سات ہیں، بقرہ، آل عمران، نسائ، مائدہ، انعام، اعراف اور انفال اور براء ت(سورۂ انفال اور سورۂ براء ت) کو ایک شمار کیا گیا ہے۔
(۲) المِئِیْنَ: جن سورتوں کی آیات (۱۰۰) سے زائد یا اس کے قریب ہیں۔
(۳) الْمَثَانِی: وہ سورتیں جو تعداد میں مئین کے بعد آتی ہیں، ان کو مثانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کو طوال اور مئین کی بہ نسبت بار بار پڑھا جاتا ہے۔
(۴) المُفصَّل: ان کی ابتداء سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے ہوتی ہے، یہ مزید تین حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں: طِوال مُفصَّل: سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ نباء یا سورۂ بروج تک۔
اَوْسَاط مُفصَّل: سورہ نباء یا سورۂ بروج سے لے کر سورۂ ضحییا سورۂ بینہ تک۔
قِصَار مُفصَّل: سورۂ ضحییا سورۂ بینہ سے آخرِ قرآن تک۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11258
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 475، والطيالسي: 1012 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16982 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17107»
حدیث نمبر: 11259
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أُحِلَّ لَهُ النِّسَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لئے مزید عورتوں سے نکاح کرنا حلال کردیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۱۴) اور اس کے فوائد۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11259
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3216، والنسائي: 6/ 56، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24638»
حدیث نمبر: 11260
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ مَا شَاءَ قُلْتُ عَمَّنْ تُؤْثِرُ هَذَا قَالَ لَا أَدْرِي حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال سے قبل اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ آپ جس قدر چاہیں، مزید عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔ میں نے اپنے شیخ سے دریافت کیایہ آپ کس سے روایت کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا مجھے یاد نہیں۔ میرا خیال ہے کہ میں نے عبید بن عمیر کو یہ بیان کرتے سنا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11260
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26171»
حدیث نمبر: 11261
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فِي السَّاعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُنَّ إِحْدَى عَشْرَةَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ وَهَلْ كَانَ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ أُعْطِيَ قُوَّةَ ثَلَاثِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات اور دن کی ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (حق زوجیت ادا) کر لیتے تھے، اس وقت ان کی تعداد گیارہ تھی، میں نے سیدنا انس سے کہا: کیا آپ کو اتنی طاقت تھی، انہوں نے کہا: ہم آپس میں بیان کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس آدمیوں کی قوت عطا کی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان گیارہ میں سے دو لونڈیاں تھیں، سیدہ ماریہ اور سیدہ ریحانہ رضی اللہ عنہما۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11261
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14155»