کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
حدیث نمبر: 11244
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ كَانَ الْعَبَّاسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلَانِ حِجَارَةً فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَلَى رَقَبَتِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَامَ فَقَالَ ”إِزَارِي إِزَارِي“ فَقَامَ فَشَدَّهُ عَلَيْهِ (وَفِي لَفْظٍ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب (قبل از نبوت) کعبہ کی تعمیر کی گئی تو عباس رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی پتھر لانے لگے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ پتھروں کی تکلیف سے بچنے کے لیے تہبند اتار کر گردن پر رکھ لیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی بات مان لی، لیکن ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورفرمایا: میری چادر، میری چادر مجھے دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور چادر باندھ لی۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: آپ بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد کبھی بھی آپ کوبرہنہ حالت میںنہیں دیکھا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … طبرانی اور بزار کی روایات کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا ازار لیا اور فرمایا: مجھے ننگا چلنے سے منع کیا گیا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس ڈر سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس بات کو چھپاتا تھا کہ کہیں لوگ یہ کہہ دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجنون ہیں،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو ظاہر کر دیا۔
یہ روایت مسند بزار (۱۲۹۵) اور بیہقی کی دلائل النبوہ (ج۲، ص ۳۳) میں عباس بن عبدالمطلب سے مروی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے ننگا چلنے سے روکا گیا ہے والی بات چھپانے والے عباس رضی اللہ عنہ ہیں، جابر رضی اللہ عنہ نہیں۔ جابر انصاری صحابی ہیں بنیانِ کعبہ میں عباس شامل تھے، جابر نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
یہ روایت مسند بزار (۱۲۹۵) اور بیہقی کی دلائل النبوہ (ج۲، ص ۳۳) میں عباس بن عبدالمطلب سے مروی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے ننگا چلنے سے روکا گیا ہے والی بات چھپانے والے عباس رضی اللہ عنہ ہیں، جابر رضی اللہ عنہ نہیں۔ جابر انصاری صحابی ہیں بنیانِ کعبہ میں عباس شامل تھے، جابر نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 11245
عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِخَدِيجَةَ ”أَيْ خَدِيجَةُ وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ أَبَدًا“ قَالَ فَتَقُولُ خَدِيجَةُ خَلِّ الْعُزَّى قَالَ كَانَتْ صَنَمَهُمُ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایک ہمسائے نے ہمیں بیان کیا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا: خدیجہ! اللہ کی قسم! میں لات اور عزی کی عبادت نہیں کرتا، اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان کی عبادت نہیں کروں گا۔ سیدہ نے جواباً کہا: آپ چھوڑیں اس عزی کی عبادت کو (اور پریشان نہ ہوں)۔ راوی کہتے ہیں: عزی ان کا ایک بت تھا، عرب لوگ اس کی عبادت کرکے سویا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس مختصر باب سے معلوم ہواکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی رحمت، عصمت اور عنایت حاصل تھی کہ قبل از نبوت بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر قسم کی آرائش اور عبادت اصنام سے محفوظ رکھا۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیائے کرام hکو معائب و نقائص سے پاک کرنا اور پاک رکھنا، اس کا اندازہ درج مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَکُونُوْا کَالَّذِینَ آذَوْا مُوسٰی فَبَرَّأَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا} [الأحزاب: ۶۹]قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ کَانُوْا یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی سَوْاَۃِ بَعْضٍ) وَکَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِنْہُ الْحَیَائُ وَ السِّتْرُ، وَ کَانَ یَتْسَتِرُ اِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوْا فِیْہِ بِعَوْرَۃٍ (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ! مَا یَمْنَعُ مُوْسٰی اَنْ یَغْتَسِلَ مَعَنَا اِلَّا اَنَّہُ آدَرُ) قَالَ: فَبَیْنَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ یَغْتَسِلُیَوْمًا وَضَعَ ثِیَابَہُ عَلٰی صَخْرَۃٍ فَانْطَلَقَتِ الصَّخْرَۃُ بِثِیَابِہِ، فَاَتْبَعَھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ضَرْبًا بِعَصَاہُ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! حَتَی انْتَھٰی بِہِ اِلٰی مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَ تَوَسَّطَھُمْ فَقَامَتْ (اَیْ: اَلصَّخْرَۃُ) وَ اَخَذَ نِبِیُّ اللّٰہِ ثِیَابَہُ فَنَظُرْوُا فَاِذَا اَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَ اَعْدَلُھُمْ صُوْرَۃً، فَقَالَتْ بَنُوْ اِسْرَئِیْلَ: قَاتَلَ اللّٰہُ اَفَّاکِی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فَکَانَتْ بَرَائَ تُہُ الَّتِیْ بَرَّاَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا۔)) … … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا۔ } … اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بنو اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی حضرت موسی علیہ السلام اس چیز سے حیا اور شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ پردہ کر کے غسل کرتے تھے، لیکن بنو اسرائیل نے اس وجہ سے ان پر ان کی شرمگاہ کے بارے میں طعن کیا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ ان کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، پس ایک دن اللہ کے یہ نبی نہا رہے تھے اور اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیئے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان کپڑوں سمیت چل پڑی، موسی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے ہو لیے، اس کو اپنی لاٹھی سے مارا اور یہ آواز دی: اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، لیکن اتنے میں وہ پتھر بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ کے نبی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، جب انھوں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے خوبصورت تخلیق والا اور سب سے معتدل صورت والا پایا، اس کے بعد بنو اسرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد کو ہلاک کرے، پس یہی وہ براء ت تھی کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بری کیا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۴۰۴، ۴۷۹۹)
موسیٰ علیہ السلام نہایت باحیا ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اپنے جسم کو ننگا نہ ہونے دیتے تھے، لیکن لوگوں نے یہ بات گھڑ لی کہ ان کی شرم گاہ میں فلان بیماری ہے، یہ اس وجہ سے ہر وقت پردہ کر کے رکھتے ہیں، حالات کا تقاضا تھا کہ موسی علیہ السلام کو اس الزام اور شبہے سے پاک ثابت کیا جائے، پس یہ واقعہ پیش آیا۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیائے کرام hکو معائب و نقائص سے پاک کرنا اور پاک رکھنا، اس کا اندازہ درج مثال سے لگایا جا سکتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَکُونُوْا کَالَّذِینَ آذَوْا مُوسٰی فَبَرَّأَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا} [الأحزاب: ۶۹]قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ کَانُوْا یَغْتَسِلُوْنَ عُرَاۃً (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: یَنْظُرُ بَعْضُھُمْ اِلٰی سَوْاَۃِ بَعْضٍ) وَکَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِنْہُ الْحَیَائُ وَ السِّتْرُ، وَ کَانَ یَتْسَتِرُ اِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوْا فِیْہِ بِعَوْرَۃٍ (وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ! مَا یَمْنَعُ مُوْسٰی اَنْ یَغْتَسِلَ مَعَنَا اِلَّا اَنَّہُ آدَرُ) قَالَ: فَبَیْنَمَا نَبِیُّ اللّٰہِ یَغْتَسِلُیَوْمًا وَضَعَ ثِیَابَہُ عَلٰی صَخْرَۃٍ فَانْطَلَقَتِ الصَّخْرَۃُ بِثِیَابِہِ، فَاَتْبَعَھَا نَبِیُّ اللّٰہِ ضَرْبًا بِعَصَاہُ وَ ھُوَ یَقُوْلُ: ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! ثَوْبِیْیَاحَجَرُ! حَتَی انْتَھٰی بِہِ اِلٰی مَلَاٍ مِنْ بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ وَ تَوَسَّطَھُمْ فَقَامَتْ (اَیْ: اَلصَّخْرَۃُ) وَ اَخَذَ نِبِیُّ اللّٰہِ ثِیَابَہُ فَنَظُرْوُا فَاِذَا اَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَ اَعْدَلُھُمْ صُوْرَۃً، فَقَالَتْ بَنُوْ اِسْرَئِیْلَ: قَاتَلَ اللّٰہُ اَفَّاکِی بَنِیْ اِسْرَئِیْلَ فَکَانَتْ بَرَائَ تُہُ الَّتِیْ بَرَّاَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِھَا۔)) … … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْہًا۔ } … اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بنو اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ وہ ننگے غسل کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھتے تھے، جبکہ اللہ کے نبی حضرت موسی علیہ السلام اس چیز سے حیا اور شرم محسوس کرتے تھے، اس لیے وہ پردہ کر کے غسل کرتے تھے، لیکن بنو اسرائیل نے اس وجہ سے ان پر ان کی شرمگاہ کے بارے میں طعن کیا، ایک روایت میں ہے: انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی چیزیہ ہے کہ ان کے خصیتین پھولے ہوئے ہیں، پس ایک دن اللہ کے یہ نبی نہا رہے تھے اور اپنے کپڑے ایک چٹان پر رکھ دیئے، لیکن ہوا یوں کہ وہ چٹان کپڑوں سمیت چل پڑی، موسی علیہ السلام بھی اس کے پیچھے ہو لیے، اس کو اپنی لاٹھی سے مارا اور یہ آواز دی: اے پتھر! میرے کپڑے، اے پتھر! میرے کپڑے، لیکن اتنے میں وہ پتھر بنو اسرائیل کے ایک گروہ کے پاس پہنچ گیا اور ان کے درمیان جا کر کھڑا ہو گیا، اللہ کے نبی نے اپنے کپڑے لے کر پہن لیے، جب انھوں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے خوبصورت تخلیق والا اور سب سے معتدل صورت والا پایا، اس کے بعد بنو اسرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد کو ہلاک کرے، پس یہی وہ براء ت تھی کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کو بری کیا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۴۰۴، ۴۷۹۹)
موسیٰ علیہ السلام نہایت باحیا ہو نے کی وجہ سے لوگوں کے سامنے اپنے جسم کو ننگا نہ ہونے دیتے تھے، لیکن لوگوں نے یہ بات گھڑ لی کہ ان کی شرم گاہ میں فلان بیماری ہے، یہ اس وجہ سے ہر وقت پردہ کر کے رکھتے ہیں، حالات کا تقاضا تھا کہ موسی علیہ السلام کو اس الزام اور شبہے سے پاک ثابت کیا جائے، پس یہ واقعہ پیش آیا۔