کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شجاعت اور ایفائے عہد کابیان
حدیث نمبر: 11232
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ قَالَ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَانْطَلَقَ قِبَلَ الصَّوْتِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا قَدِ اسْتَبْرَأَ لَهُمُ الصَّوْتَ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ لِلنَّاسِ لَمْ تُرَاعُوا لَمْ تُرَاعُوا وَقَالَ لِلْفَرَسِ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ الْفَرَسُ قَبْلَ ذَلِكَ يُبَطَّأُ قَالَ مَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ حسین و جمیل، سب سے بڑھ کر سخی اور بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ کسی وجہ سے گھبرا گئے اور خوف زدہ سے ہوگئے، لوگ صورت حال معلوم کرنے کے لیے جس سمت سے آواز آئی تھی، اُدھر روانہ ہو گئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اُدھر سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر سوار تھے، وہ ننگا تھا، اس پر زین نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آنے والی آواز کا جائزہ لے کر آرہے تھے، آپ کی گردن میں تلوار تھی اور آپ بآواز بلند لوگوں سے فرما رہے تھے: گھبراؤ نہیں، گھبراؤ نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھوڑے کے متعلق فرمایا: ہم نے اسے سمندر کی طرح پایا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس سے قبل یہ گھوڑا انتہائی سست رفتار تھا، اس کے بعد وہ کبھی دوسرے گھوڑوں سے پیچھے نہ رہا۔
وضاحت:
فوائد: … سمندر کی طرح پایا ہے، تشبیہ کی دو وجوہات کے لحاظ سے ہو سکتی ہیں: (۱) جیسے سمندر کا پانی ختم نہیں ہوتا، اس طرح یہ گھوڑا رکتا اور تھکتا نہیں ہے، بلکہ مسلسل چلتا رہتا ہے، اور (۲) اس کے چلنے میں وسعت ہے، جیسے سمندر کا پانی وسیع ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم از حد بہادر، جری اور دلیر تھے، جرأت و شجاعت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے توکل پر ہے، جبکہ یہ صفت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بدرجۂ اتم و اکمل پائی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 11233
عَنْ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لَنَا يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں خوف کی صورت حال تھی۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے ہمارا مندوب نامی گھوڑا عاریۃً لیا اور واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم نے خوف کی کوئی بات نہیں دیکھی اور ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طرح پایا ہے۔
حدیث نمبر: 11234
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ كَانَتْ هَوَازِنُ نَاسًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو اسحاق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ بنو قیس کے ایک آدمی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگ غزوۂ حنین کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے؟ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو فرار نہیں ہو ئے تھے، دراصل بنو ہوازن ماہر تیر انداز تھے، جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ تتر بترہو گئے۔ ہم اموالِ غنیمت جمع کرنے لگے، انہوں نے تیروں کے ذریعے ہمارا سامنا کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے سفید خچر پر سوار تھے، اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی باگ کو تھامے ہوئے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رجز کہتے جاتے تھے۔ أَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ( میں اللہ کا نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں اور میں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں)۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۹۰۴) والا باب۔
حدیث نمبر: 11235
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَ الْبَأْسُ يَوْمَ بَدْرٍ اتَّقَيْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ مَا كَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَقْرَبَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ غزوۂ بدر کے دن جب معرکہ بپا ہوا تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے پناہ ڈھونڈنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے قوی بہادر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ مشرکین کے قریب ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 11236
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ بَدْرٍ وَنَحْنُ نَلُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَقْرَبُنَا إِلَى الْعَدُوِّ وَكَانَ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ بَأْسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے صحابہ کو بدر کے دن دیکھا کہ ہم اللہ کے رسول کے ذریعے پناہ ڈھونڈھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سب سے زیادہ مشرکین کے قریب تھے اور آپ نے اس دن سب سے بڑھ کر لڑائی لڑی تھی۔
حدیث نمبر: 11237
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قریشیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اللہ کی قسم! میں کبھی بھی ان کے پاس لوٹ کر نہیں جاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں۔ تم لوٹ جاؤ اور اگر دل میں وہی (قبولیتِ اسلام کی چاہت) رہی، جو اب ہے تو لوٹ آنا۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان اور کافر، دونوں سے کیے گئے معاہدے کی پاسداری ضروری ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقامِ حدیبیہ پر مشرکینِ مکہ سے طے پانے والے معاہدے کا لحاظ کیا اور سیدنا ابو رافع کو واپس کر دیا۔ سنن ابی داود میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق چلے گئے تھے، بعد میں آ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اسلام، کافروںکے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی کس قدر پاسداری کا قائل ہے، مسلمان کی شان کا اندازہ خود لگا لینا چاہیے۔
قاصدوں کو روک لینے سے عالمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، کسی کاکسی پر کوئی اعتماد نہیں رہتا اور راستے کٹ جاتے ہیں، ہاں کسی قاصد کو کافروں کی طرف واپس کر دینا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر ہی ڈٹا رہے اور اسلام قبول نہ کرے، کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر کے مسلمانوں کے پاس واپس آ جائے۔
قاصدوں کو روک لینے سے عالمی تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے، کسی کاکسی پر کوئی اعتماد نہیں رہتا اور راستے کٹ جاتے ہیں، ہاں کسی قاصد کو کافروں کی طرف واپس کر دینا، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کفر پر ہی ڈٹا رہے اور اسلام قبول نہ کرے، کیونکہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر کے مسلمانوں کے پاس واپس آ جائے۔