کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس امر کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ کی طرف سے دنیوی مال و دولت عطا کرنے کی پیش کش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا اور معمولی مال پر قناعت فرمائی
حدیث نمبر: 11215
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا فَقُلْتُ لَا يَا رَبِّ أَشْبَعُ يَوْمًا وَأَجُوعُ يَوْمًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ وَشَكَرْتُكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ربّ نے مجھ پر یہ چیز پیش کی کہ وہ مکہ مکرمہ کی وادیٔ بطحاء کو میرے لیے سونا بنا دے، لیکن میں نے کہا: نہیں، اے میرے ربّ! میں ایک دن سیر ہوں گا اور ایک دن بھوکا رہوں گا، جب میں بھوکا ہوں گا تو تیرے سامنے لاچاری و بے بسی کا اظہار کروں گا اور تجھے یاد کروں گا، اور جب سیر ہوں گا تو ۔۔۔۔۔۔۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ھَجَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نِسَائَ ہُ شَہْرًا فاَتَاہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَھُوَ فِی غُرْفَۃٍ عَلَی حَصِیْرٍ قَدْ اَثَّرَ الْحَصِیْرُ بِظَھْرِہِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کِسْرٰییَشْرَبُوْنَ فِی الذِّھَبِ وَالْفِضَّۃِ وَاَنْتَ ھٰکَذَا فَقَالَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنَّھُمْ عُجِّلَتْ لَھُمْ طَیِّبَاتُھُمْ فِی حَیَاتِھِمِ الدُّنْیَا)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک ماہ کے لیے چھوڑ دیا تھا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالاخانے میں ایک ایسی چٹائی پر تشریف رکھے ہوئے تھے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کمر پر اپنا اثر چھوڑا ہوا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسری کی طرح کے لوگ تو سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ اس طرح ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی نیکیاں ان کو دنیا میں ہی جلدی دے دی گئیں ہیں۔
(مسند احمد: ۷۹۵۰، مسند بزار: ۳۶۷۶)
گویا نعمتوں کی کثرت میں اس قسم کے خطرے کا امکان ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی صورت میں دنیا میں ہی نیکیوں کا عوض دیا جا رہا ہے، درج مثال پر غور کریں: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس (افطاری کے لیے) کھانا لایا گیا، جبکہ وہ روزے دار تھے، پس انھوں نے کہا: قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی کُفِّنَ فِی بُرْدَۃٍ إِنْ غُطِّیَ رَأْسُہُ بَدَتْ رِجْلَاہُ وَإِنْ غُطِّیَ رِجْلَاہُ بَدَا رَأْسُہُ وَأُرَاہُ قَالَ وَقُتِلَ حَمْزَۃُ وَہُوَ خَیْرٌ مِنِّی ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْیَا مَا بُسِطَ أَوْ قَالَ أُعْطِینَا مِنَ الدُّنْیَا مَا أُعْطِینَا وَقَدْ خَشِینَا أَنْ تَکُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا ثُمَّ جَعَلَ یَبْکِی حَتّٰی تَرَکَ الطَّعَامَ۔ … سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے، ایک چادر میں انہیں کفن دیا گیا، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور اگر پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا اور میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور وہ ہم سے بہتر تھے، پھر ہم پر دنیا وسیع کردی گئی اور ہمیں خوف ہوا کہ ہماری نیکیاں جلد دے دی گئیں پھر رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری: ۱۱۹۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11215
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر الافريقي ضعيف، وعلي بن يزيد بن ابي ھلال الالھاني واھي الحديث، أخرجه الترمذي باثر الحديث: 2347 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22543»
حدیث نمبر: 11216
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهِ أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزْهَدُ فِيهَا وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا لَهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْلِفُ وَقَالَ غَيْرُ يَحْيَى وَاللَّهِ مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تو صبح و شام ایسی چیزوں کی رغبت کرنے لگ گئے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے رغبتی کرتے تھے، تم دنیا میں راغب ہونے لگ گئے ہو، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس سے دور رہنے والے تھے، اللہ کی قسم! ہر آنے والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتا تھا، بعض صحابہ نے کہا: تحقیق ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قرض لیتے تھے، یحیی کے علاوہ دوسرے راویوں نے کہا: اللہ کی قسم! تین دن نہیں گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قرض دینا ہوتا تھا، اس کی مقدار اس سے زیادہ ہوتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لینا ہوتاتھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11216
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 4/ 326 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17970»
حدیث نمبر: 11216M
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِصْرَ يَقُولُ مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں خطاب کرتے ہوئے کہا: کس چیز نے تمہارے طرزِ حیات کو تمہارے نبی کی سیرت سے دور کر دیا ہے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبتی کرنے والے تھے، لیکن تم اس میں سب سے زیادہ رغبت کرنے والے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11216M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17925»
حدیث نمبر: 11217
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا يُحَوَّلُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ“ إِنْ كَانَ فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً وَتَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں کہ احد پہاڑ کو آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سونا بنا دیا جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو میں دو دینار بھی چھوڑ کر مروں،الایہ کہ ادائے قرض کے لیے دو دینار چھوڑ جاؤں تو الگ بات ہے۔ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دینار، درہم، غلام یا لونڈی وغیرہ چھوڑ کر نہ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک زرہ چھوڑ کر دینا سے رخصت ہوئے، وہ بھی تیس صاع جو کے عوض ایک یہودی کے پاس گروی رکھی ہوئی تھی۔ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جو اہل خانہ کی خوراک کے لیے حاصل کیے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11217
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، اخرجه الترمذي: 1214، والنسائي: 7/ 303، وابن ماجه: 2439 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2109»
حدیث نمبر: 11218
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزَّيَادِيِّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصَاهُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا كَعْبُ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَا تَرَى فِيهِ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هَذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقٍ“ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ أَسَمِعْتَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مالک بن عبداللہ زیادی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی، انھوں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی، ان کے ہاتھ میں ایک لاٹھی تھی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے کعب! عبدالرحمن کافی مال چھوڑ کر انتقال کر گئے ہیں۔ اس بارے میں آپ کا کیاخیال ہے؟ انہوں نے کہا: اگر وہ اس مال سے اللہ کے حقوق ادا کرتے تھے پھر تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ یہ سن کر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنی لاٹھی اٹھا کر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو ماری اور کہا: میں نے سنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میںتویہ بھی پسند نہیں کرتا کہ یہ احد کا پہاڑ سونے کا ہو اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور میرا وہ صدقہ اللہ کے ہاں مقبول ہو اور میں اپنے لیے اس میں سے صرف چھ اوقیہ سونا باقی چھوڑ جاؤں۔ اے عثمان! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے رسول سے یہ حدیث سنی ہے ؟ (یہ بات سیدناابو ذر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ دہرائی)، بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11218
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، وجھالة مالك بن عبد الله الزيادي ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 453 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 453»
حدیث نمبر: 11219
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ مَرِضَهُ قَالَتْ وَكَانَ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ قَالَ مُوسَى أَوْ سَبْعَةٌ قَالَتْ فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا قَالَتْ فَشَغَلَنِي وَجَعُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ قَالَتْ ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ ”مَا فَعَلَتِ السِّتَّةُ؟“ قَالَ أَوْ السَّبْعَةُ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ قَالَتْ فَدَعَا بِهَا ثُمَّ صَفَّهَا فِي كَفِّهِ فَقَالَ ”مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهَذِهِ عِنْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو امامہ بن سہل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انہوں نے کہا کہ میں اور عروہ بن زبیر ایک دن سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، انہوں نے کہا: کاش کہ تم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مرض الموت کے دوران دیکھتے، میرے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھ (یا سات) دینار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں تقسیم کردوں، آپ کی بیماری نے مجھے مشغول رکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو افاقہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ان کی بابت پوچھا اور فرمایا: ان چھ دینار وں کا کیا بنا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم، میں آپ کی بیماری میں مصروف رہی اور تقسیم نہ کر سکی۔ آپ نے وہ دینار منگوا کر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر فرمایا: اللہ کے نبی کا کیا حال ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں جا ملے کہ یہ دولت اس کی ملکیت ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11219
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، تفرد به موسي بن جبير، اخرجه البيهقي: 6/ 356 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25240»
حدیث نمبر: 11220
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَكْثَرُ مَا عَلِمْتُ أُتِيَ بِهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَالِ بِخَرِيطَةٍ فِيهَا ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے،، وہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیلے میں زیادہ سے زیادہ آٹھ سو درہم لائے گئے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۹۲۶۵) والا اور اس کے بعد والا باب۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11220
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، اخرجه الطبراني في الكبير : 23/666 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27108»