حدیث نمبر: 11185
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا سَيِّدَنَا وَابْنَ سَيِّدِنَا وَيَا خَيْرَنَا وَابْنَ خَيْرِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا بِقَوْلِكُمْ وَلَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنْ تَرْفَعُونِي فَوْقَ مَا رَفَعَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مخاطب ہو کرکہا: اے ہمارے سردار! اور اے ہمارے سردار کے فرزند! اے وہ ذات جو ہم میں سب سے بہتر ہے اور ہم میں سے سب سے افضل کی اولاد ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: لوگو! تم معروف بات ہی کر لیا کرو اور ہر گز شیطان تمہیں غلو میں مبتلا نہ کردے، میں محمد بن عبداللہ اور اللہ کا رسول ہوں، اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو مقام دیا ہے، تم مجھے اس سے اوپر لے جاؤ۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے معروف بات یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں، جیسا کہ خطبے، تشہد اور کلمۂ شہادت میں اس چیز کا اعتراف کیا جاتا ہے۔
تواضع کا مطلب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی وانکساری، نرمی و رحمدلی اور محبت و الفت سے پیش آنا، حسب و نسب یا مال و دولت کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کرنا۔وجہ یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقام و مرتبہ، مال و دولت حسب و نسب جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، تو اس کو اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ ان انعامات کے حصول میں اس کی صلاحتیں کارفرما نہیں ہیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اس کے لیے مضرّ ثابت ہو اس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بنظر حقارت دیکھےیا ان پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفعت و منزلت اور عظمت و مرتبت کے انتہائی اعلی مراتب پر فائز تھے، کسی امتی کا آپ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: {وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۂ شعرائ: ۲۱۵) … (اے محمد!) اپنے پیروکار مومنوں سے نرمی سے پیش آؤ۔
تواضع کا مطلب ہے، ایک دوسرے کے ساتھ عاجزی وانکساری، نرمی و رحمدلی اور محبت و الفت سے پیش آنا، حسب و نسب یا مال و دولت کی بنیاد پر کسی کو حقیر نہ سمجھنا اور نہ کسی پر ظلم و زیادتی کرنا۔وجہ یہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو مقام و مرتبہ، مال و دولت حسب و نسب جیسی صلاحیتوں سے نوازا ہے، تو اس کو اس پراللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے، کیونکہ ان انعامات کے حصول میں اس کی صلاحتیں کارفرما نہیں ہیں، بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے احسان کا نتیجہ ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان اس کے لیے مضرّ ثابت ہو اس طرح کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بنظر حقارت دیکھےیا ان پر ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رفعت و منزلت اور عظمت و مرتبت کے انتہائی اعلی مراتب پر فائز تھے، کسی امتی کا آپ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا: {وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ} (سورۂ شعرائ: ۲۱۵) … (اے محمد!) اپنے پیروکار مومنوں سے نرمی سے پیش آؤ۔
حدیث نمبر: 11186
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میری مدح میں اس طرح غلو نہ کیا کرو، جس طرح نصاری نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں غلو کیا، میں تو محض اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا، پھر ان کی پوجا پاٹ بھی شروع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کی اس روش کو دیکھ کر یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو مقام عطا کیا ہے، اس سے آگے نہ بڑھا جائے۔
رسالت اور بندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے اوصاف ہیں۔
رسالت اور بندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے اوصاف ہیں۔
حدیث نمبر: 11187
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَلَسَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مَلَكٌ يَنْزِلُ فَقَالَ جِبْرِيلُ إِنَّ هَذَا الْمَلَكَ مَا نَزَلَ مُنْذُ يَوْمِ خُلِقَ قَبْلَ السَّاعَةِ فَلَمَّا نَزَلَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ رَبُّكَ قَالَ أَفَمَلِكًا نَبِيًّا يَجْعَلُكَ أَوْ عَبْدًا رَسُولًا قَالَ جِبْرِيلُ تَوَاضَعْ لِرَبِّكَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ بَلْ عَبْدًا رَسُولًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف فرما تھے, انہوں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی، پس اچانک اوپر سے ایک فرشتہ نیچے اتر رہا تھا، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا: یہ فرشتہ جب سے پیدا ہوا، تب سے اب تک یہ کبھی زمین پر نہیں آیا، جب وہ آیا تو اس نے کہا: اے محمد! آپ کے رب نے مجھے اس پیغام کے ساتھ آپ کی طرف بھیجا ہے کہ وہ آپ کو بادشاہ بنائے یا بندہ اور رسول؟ جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب کے لیے تواضع اختیار کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا بندہ رسول بننا چاہتا ہوں۔
حدیث نمبر: 11188
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَنْطَلِقُ بِهِ فِي حَاجَتِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا سقدر متواضع تھے کہ) مدینہ کی ایک لونڈی آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے کسی کام کے لیے لے جاتی (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بلا پس و پیش اس کے ہم راہ تشریف لے جاتے) ۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! یہ بشریت کے سردار کی تواضع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لونڈی کا کام کرنے کے لیے اس کے ساتھ چل پڑتے تھے، آج ہم کسی کا کام کرنے سے قبل اپنے تعلق کا سہارا لیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 11189
قَالَ إِنَّ امْرَأَةً لَقِيَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ يَا أُمَّ فُلَانٍ اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ أَجْلِسْ إِلَيْكِ قَالَ فَقَعَدَتْ فَقَعَدَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ کے ایک راستہ میں ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام فلاں! تم مدینہ کی جس گلییا راستے میں چاہو بیٹھ جاؤ، میں بھی تمہارے پاس بیٹھ جاؤں گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ بیٹھ گئی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس کے پاس بیٹھ گئے، یہاں تک کہ اس کی ضرورت کو پورا کر دیا۔
حدیث نمبر: 11190
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ اسْقُونِي فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ فَقَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف کے بعد وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔
حدیث نمبر: 11191
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ قَالَ فَلَطَمَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ تَقُولُ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِينَا قَالَ فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ} [الزمر: 68] قَالَ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ وَمَنْ قَالَ أَنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مدینہ منورہ کے بازار میں ایک یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے، اس کے یہ الفاظ سن کر غیرت کے مارے ایک انصاری رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ رسید کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہوتے ہوئے تمہیںیہ کہنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ وہ یہودی شکایت لے کر رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: {وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَآئَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیہِ أُخْرٰی فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌیَنْظُرُونَ} … اور صور پہلی بار صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں کی مخلوق بے ہوش ہو جائے گی سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہئے گا۔ پھر اس میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی تو سب لوگ دیکھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت سب سے پہلے میں ہوش میں آکر سر اٹھاؤں گا، لیکن دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کے ایک پائے کو پکڑ کر کھڑے ہوں گے، مجھے اس چیز کا علم نہیں ہو گا کہ انھوں نے مجھ سے پہلے ہوش میں آکر سراٹھایا ہو گا یا وہ بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ ہونے والوں میں سے ہوں گے۔ اور (یاد رکھو کہ) جس نے یوں کہا کہ میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) یونس بن متی سے افضل ہوں تو اس نے غلط کہا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگرچہ علی الاطلاق تمام انبیاء و رسل سے افضل ہیں، مگر کسی نبی کا نام لے کر کہناکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں نبی سے افضل، اشرف اور برتر ہیں، ایسا کہنے کی اجازت نہیں، اس طرح ایک طرح سے اس نبی کی بے ادبی کا پہلو نکل سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 11192
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ قَالَ فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنَ الْكِبْرِ فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ إِذَا بِقَبْرَيْنِ قَدْ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ قَالَ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ دَفَنْتُمْ هَاهُنَا الْيَوْمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ فُلَانٌ وَفُلَانٌ قَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فِيمَ ذَلِكَ قَالَ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنَ الْبَوْلِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ وَأَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلِمَ فَعَلْتَ قَالَ لَيُخَفَّفَنَّ عَنْهُمَا قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَحَتَّى مَتَى يُعَذِّبُهُمَا اللَّهُ قَالَ غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ وَلَوْلَا تَمْرِيغُ قُلُوبِكُمْ أَوْ تَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ لَسَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت گرمی والے ایک دن میں بقیع الغرقد کی جانب سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنی تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہیں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے گزر گئے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل میں تکبر پیدا نہ ہو (کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیع الغرقد کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قبریں دیکھیں، لوگوں نے ان میں دو آدمیوں کو دفن کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں رک گئے اور پوچھا: آج تم نے یہاں کن لوگوں کو دفن کیا ہے؟ صحابہ نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! یہ فلاں دو آدمی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو اس وقت قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! انہیں عذاب دیئے جانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تر چھڑی لے کر اسے چیرا اور دونوں قبروں پر رکھ دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ نے یہ کام کس لیےکیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی وجہ سے ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ان کو کب تک عذاب دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیب کی بات ہے، جسے اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے دلوں کی بدلتی کیفیاتیا بہت زیادہ گفتگو نہ ہوتی تو تم بھی وہ کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبر کرنے سے معصوم تھے، لیکن بظاہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے اسباب کو بھی ردّ کر دیا۔
حدیث نمبر: 11193
عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشُونَ أَمَامَهُ إِذَا خَرَجَ وَيَدَعُونَ ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی طرف جانے کے لیے نکلتے تو صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے آگے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے۔
حدیث نمبر: 11194
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قِيلَ لِعَائِشَةَ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَمَا يَصْنَعُ أَحَدُكُمْ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَرْقَعُ ثَوْبَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر آکر کس قسم کے کام کیا کرتے تھے؟ (یعنی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصروفیت کیا ہوتی تھی؟) انھوں نے کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گھر آتے تو ایسے ہی کام کیا کرتے تھے) جیسے تم کرتے ہو، مثلا اپنے جوتے کی مرمت کر لیتے اور کپڑا سی لیتے۔
حدیث نمبر: 11195
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا قَالَتْ نَعَمْ كَانَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ وَيَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ كَمَا يَعْمَلُ أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔(دوسری سند) عروہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ آیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں کوئی کام کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے جوتے کو مرمت کر لیتے، کپڑے کو سلائی کر لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں اسی طرح کام کرتے تھے، جیسے تم میںسے کوئی اپنے گھر میں کام کاج کرتا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 11196
عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُئِلَتْ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ وَيَحْلُبُ شَاتَهُ وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قاسم سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ گھر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا مصروفیت ہوتی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ بھی بشر ہی تھے، اس لیے (عام دوسرے انسانوں کی طرح) اپنے کپڑوں کو ٹٹول ٹٹول کر ان میں جوئیں دیکھتے، بکری کا دودھ دوہ لیتے اور اپنے کام کر لیتے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی اور عاجزی ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے لیے طرزِ حیات بھی قرار دیا ہے۔ اگر کوئی انسان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سنتوں کا اہتمام کرنے لگے تو اس کی زندگی کئی مشاکل اور تکلّفات سے پاک ہو سکتی ہے۔ ایسے امور کو سر انجام دینے والا آدمی تکبر سے پاک ہو جائے گا اور اس کی عاجزی و فروتنی میں اضافہ ہو گا۔ جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا اسْتَکْبَرَ مَنْ أکَلَ مَعَہُ خَادِمُہُ وَرَکِبَ الْحِمَارَ بِالأسْوَاقِ، وَاعْتَقَلَ الشَّاۃَ فَحَلَبَھَا۔)) (الصحیحۃ: ۲۲۱۸) … وہ شخص متکبر نہیں ہے،جس کے ساتھ اُس کے خادم نے کھانا کھایااور وہ بازاروں میں گدھے پر سوارہوا اوربکری کی ٹانگوں کو باندھ کر اس کو دوہا۔
اگر کسی آدمی کو زندگی کی روٹین میں ان امور کا موقع نہیں ملتا تو کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان کو سرانجام دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر
بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جو کی روٹی کی دعوت دینے والے غلام کی دعوت قبول کر لیتے تھے۔ (معجم کبرانی طبرانی: ۳/ ۱۶۴/ ۱، صحیحہ: ۲۱۲۵)
اس حدیث میں سب سے اہم بات معاشرے کے انتہائی کمتر فرد کی دعوت قبول کرنا ہے، آجکل اس سنت ِ حسنہ سے مکمل بے رخی برتی جا رہی ہے اور بڑوں اور وڈیروں کی آنکھوں کے اشارے پر لوگ جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ نبوی سنتوں سے عدمِ محبت اور ظاہر پرستی، چاپلوسی اور خوشامد کا نتیجہ ہے۔ دوسرا ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ دعوت قبول کرنے والوں کو دعوت میں پیش کی گئی چیزوں کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ داعی کی طرف سے جو کچھ ملے، ذوق و شوق کا اظہار کرتے ہوئے نوش کر لینا چاہئے، کیونکہ عظیم المرتبت اورعالی منزلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کی دعوت پہ لبیک کہتے تھے جبکہ اس دعوت میں پیش کی جانے والی چیز صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔
اگر کسی آدمی کو زندگی کی روٹین میں ان امور کا موقع نہیں ملتا تو کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سمجھ کر ان کو سرانجام دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَجْلِسُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَأْکُلُ عَلَی الْأَرْضِ، وَیَعْتَقِلُ الشَّاۃَ، وَیُجِیْبُ دَعْوَۃَ الْمَمْلُوْکِ عَلٰی خُبْزِ الشَّعِیْرِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر
بیٹھ جایا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر کھاتے تھے، بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور جو کی روٹی کی دعوت دینے والے غلام کی دعوت قبول کر لیتے تھے۔ (معجم کبرانی طبرانی: ۳/ ۱۶۴/ ۱، صحیحہ: ۲۱۲۵)
اس حدیث میں سب سے اہم بات معاشرے کے انتہائی کمتر فرد کی دعوت قبول کرنا ہے، آجکل اس سنت ِ حسنہ سے مکمل بے رخی برتی جا رہی ہے اور بڑوں اور وڈیروں کی آنکھوں کے اشارے پر لوگ جوق در جوق جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ نبوی سنتوں سے عدمِ محبت اور ظاہر پرستی، چاپلوسی اور خوشامد کا نتیجہ ہے۔ دوسرا ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ دعوت قبول کرنے والوں کو دعوت میں پیش کی گئی چیزوں کی عیب جوئی نہیں کرنی چاہئے، بلکہ داعی کی طرف سے جو کچھ ملے، ذوق و شوق کا اظہار کرتے ہوئے نوش کر لینا چاہئے، کیونکہ عظیم المرتبت اورعالی منزلت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلام کی دعوت پہ لبیک کہتے تھے جبکہ اس دعوت میں پیش کی جانے والی چیز صرف جو کی روٹی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 11197
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ وَقَدْ قَالَ أَبَانُ أَيْضًا أَنَّ خَيَّاطًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کی روٹی اور بو دار سالن کی دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دعوت قبول فرمائی۔ راوی حدیث ابان نے ایک دفعہ یوں ذکر کیا کہ دعوت دینے والا شخص درزی تھا۔
حدیث نمبر: 11198
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ قَالَ الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّى فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا فَرَوَّيْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن یا شام میں آئے اور عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں، انھوں نے اپنے دل میں سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں، پھر جب وہ واپس آئے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عیسائیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے لیڈروں اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں اور مجھے اپنے دل میں خیال آیا کہ کہ آپ اس تعظیم کے زیادہ مستحق ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، بیوی اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا نہیں کر سکتی، جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے کما حقہ حقوق ادا نہ کرے، اگر خاوند عورت کو وظیفہ زوجیت کے لئے طلب کرے اور وہ پالان کے اوپر بیٹھی ہو تو اس عورت کو خاوند کا مطالبہ پورا کرنا پڑے گا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ بیوی کو ہر صورت میں خاوند کی اطاعت کا خیال رکھنا چاہیے، دورِ حاضر کی ناشکری خواتین کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جن کی نگاہ صرف اور صرف خاوند کے منفی پہلو پر پڑتی ہے۔
حدیث نمبر: 11199
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا قَالُوا هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا فَقُلْتُ نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ السَّلَامَ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ارض شام میں گئے (اس سے آگے گزشتہ حدیث کی طرح ہے) یہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم اپنے ان پیشواؤں کو سجدے کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے بتلایا کہ ہم سے پہلے انبیاء (کی شریعتوں) میں سلام کا یہی طریقہ تھا۔ تو میں نے کہا (اگر بات یہی ہے) تو ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ یہ کام کریں ۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے جس طرح اپنی مذہبی کتابوں میں تحریف کی، اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ باندھے، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے سلام سے بہتر سلام، اہل جنت والا سلام ہمیں دیا ہے۔
حدیث نمبر: 11200
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قُومُوا بِنَا نَسْتَغِيثُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُقَامُ إِلَيَّ إِنَّمَا يُقَامُ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے ساتھ اٹھو تاکہ اس منافق کے بارے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد حاصل کریں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدد طلب کرنے کے لیے میرا ارادہ نہیں کیا جاتا، اللہ تعالیٰ کا قصد کیا جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ یہ منافق، صحابۂ کرام کو اذیت پہنچاتا ہو، اس حدیث میں کھڑا ہونے کا مقصد مدد طلب کرنا ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھڑا ہوا جائے۔ اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا بیان ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی متواضع اور منکسرالمزاج شخصیت کے حامل تھے، آپ اپنی تعریف سن کر خوش نہیں ہوتے تھے، بلکہ اپنی تعریف میں مبالغہ سن کر تعریف کرنے والے کو منع فرماتے اور کہتے کہ میں تو محمد بن عبداللہ ہوں، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔